لہ کنتم تَسْتھْزءُ ون قُلْ أباللٰهِ وَایليه وَرَسُرْل

مر ے سال اناگ یکرکلنٹ

جواب

از

ابی

ا کن

ابتراء سے ال تا لی کے ہرگ بیدہ بندوں کے ساتھ جو سوک پوت آ یا ہے انس پ راہ ایی 2 ین وف ری کر ین کا گنی انم کی ان ےمان رکز بد ندوں پگنداچھا لے ہیں۔ یں سواۓ اس کے اورک ایا چا سک ےک انان ایل تن اورصب رکےسائف ھا ث ےک یکو سکرے اور بحدرازاں ا نککامعامل رض داکوسونپ دے۔ رسالی ا اہ ئیگمرگلٹ کا جو اب ز رفظ کنا بک صورت میں جار سام ہے۔

ا ں کا مصن ف سس قائش کےاوکوں یں سے ہے ال رسالہ کے نام سے جی وا ےاورائں کا ذوقی شع ری بھی اس شع رسے جی ظا رو جا ا ہے جس درقی پرسجا گیا ےک زمانہ انی ہرکروٹ مس لاکھوں رک بدتا ے گگمم ا سک وی حر ےکہ کرک فکییں تا

پسا اوقا گرم اورساد ماج عوام ا حم کےکھٹیالنٹر پر ے بھی ان نے لے ہیں اں لئ مجبورا کم کے ہیدہ ا زار اعتراضا تکا حیدگی سے جواب می لک رن ضروری

مه

۔سے۔ 0

ایی در کا ور اماداما

خورما شع پرا

دیبا نی اورزمیندار اسلام

خدانمائی کا1 ئن

امام من اورامام مہری وی

فلا مان کال رت م ریم اورتض ری یی بت اللّد

اسود

اسا'

رج ملعا ان

خائم الاغیا ٰ

میکائیل

۲

٦

ل خی عفر ممصضی لالہ خداےظ هر

مل اولاد

ایا نکاپالیٰ

پا کا مالک

اطقال اش

کن قیکون

الا ُء والا حیاء

سان ر ال داراائیات

نمی ہمداۓ وت ہوں“ ع ات دح اسلامیہ

عچائی ےن

١۹

(۱)

ب

٭ھ ۰ 20 ۰

فمف

الد ٹ رحتادہ بندوں پر ازل سے جوز ہرافانیاں ہوٹٰی بی میں ا نک تار وروناک اورطویل وو---

ساشپ نے حوا اور دم پر ز ہرافغانٰی ای ودی پیش ہکینیلیاں اور

756 ,0 و کرت رہا۔-۔ ز ہرذ دی رہ ہیں ہاں ڈنے وال یکیلیاں بل ربتی ہں۔۔۔۔' ا لھا یگ رک“ کے مصن بھی اسی طول المبرداستتان کاایککردار یں

ایک وضاحت

آخ پ رہم قا رین سے مو دبا نوخ کر تے ہی ںکہانبوں نے مولوی ابوالیشیر عرفا یٰ صاحب کے نت ناز ببااورعد سے مڑ تھے ہو ۓ جارحا تہ اعت اضا تکا ھی مطال ہک رلیا اور ہعا ری طرف فا ضراددد ماغ وو لکمحط نکر نے دانے جوا با تھی مطال کر لئے _

بھم نے اپنے جوابات مل یہاں جہاں شی اخیاری ہے اگمر چر وہ مولوی صاحب کے پازاری تس خراوراخچائی دا زاررو یہ کے متقائل پر یھی حیشی ت نویس یھت ین ات نی بھی جم نے بادلینخو اس کی ہ ےک انی مھایا جا ۓک رک دوسرےفرقہباجماعحت کے نی راہنمایراسیطر با نکر نا اسلا مک یلیم ختخخالف ےاورجن لوگوں کے رگویں رق لکیاجاۓ ان کے لے جخت نکی فکا مو جب بغما ے۔

نک مولوی صاح بکی شی تج آ زار پپیانا ے اورعوام الا قح لکرنا سے تکردہ جماعت اھ یہ پر صرف زبان کے می بج کے نہ لگا میں بل جا انی مالی و انی نتصا نبھی پیانمیں اس لے ای اس داآ زار یکا چجنمونہبیکھان ےکی خاط رم ن ےکہہیں نہیں ان بر جوا ی کیا ے اکا نکی جہاات اورسغلہ بی نکونے کک کے انیں ا نکی توم ِکھاکی جا _اگمراس ےن یں پ با رہوقذ م مطذرت خواوہیں-

آ خ پ ہم خداتھا یک عمز ت وجلال کے نفق کی مکھ اکم باعطا نکر تے ہی سک یہ مولوئی ابوالٰشیر صاحب اوران کے چھنو اسر اس رجھوٹ سےکام لے ہیں اور جماعت پہ ئن اتام کر حا سلمین عقوت 27 رھ ھا 2-+-_- انام جھانہوں نے لگا ۓ ہیں راس غلطاور ہے نیا دہیں۔ وما علینا الا البلاغ۔

سم ال دالرجمان ارجم

7 در کا ور

مولویی ابوالعشی رع رفا لی (عا ممولوی نال ) درس جن تم وت اجم پورشرقیہ نے ایک پفاٹ مر بکیاسے ےگا جو نتم نھوت مان نے شاک کیاے .جس قزمکن تھا انہوں نے اس میں حضرت مرزاصاح بک ھی بک یکوشت کی ہے۔اس پمفل ٹکانام اہوں نے الہائ یرٹ رکھا ہے اورال کی و یہہ انہوں نے ہی ہے:۔ ”نک ری ایک دوگ پر انیس ( مجن حضرت مرزاصاح بکو۔ ناقل ) قرارنہیں اس لے ہم نے اس رسال ہکا نام الہائیگرکمٹ درکھا ہے ۔ تی ےکم رٹ رنک بدلتا ہے ام بی مرزاصاحب نے دعاوی بد لے ہیں _“ رمزؤں انی ا ںطلل یکو سا غاب کر نے کے لے مولوٹی صاحب نے عحخرت مرزاصاحب کےٹن دعاوئ یکا رکیا ہے ملا یہک ہآ پک ہیں اورما مو رین ال ہیں :یدرد میں محرث یں ءامام ال مان ہیں ء وکی الشھ ہیں اوروٹی الرحمان ہیںء نی ال ہیں اور نات اخلفاء ہیں ہك موتود ہیں ؛مہدکی ہیں ءصاحب الام ہیں ءرسول ہیں بمظہبرا نمیا ء میں ]شی ححضر تک دم رشیت ء نو ءابرائیمء اق ء یتقو بء بوسف موی ء دا دہ سلہمان :ینہ الام سے اپ ےآ پا تید دی ہے۔امی طط رح ےکآ پ نے خووکوحضرتمومصعفی واحگاکیلی ار حعلی یل مکاٹیل قر ارد ےکر پٹیےگوئی اسم ام رکا مصدراق اور اتی حضرت ما تمالا خیا اور رحی۔ ملعا لی کا

بروزقراردما ے۔ نین یکرشن اورگو پالی ء1 ریو کا بادشاہء اشن الیک ہے سگھ بہاددوغیرہ کے قب اخحقیا رفر ماۓ ہیں۔

0 000 ای ا ای ےکام لے ہوئے انی طرف سےٹنخ عنا وین لگاۓ ہیں کل اس کےکم ا نیس اود بددہانقی سے پر دہاٹھاتمیں ۔مززقا ری نکی غدمت میں بیع کر لی ضروری عجتے ہیں کہمولوکی صاحب نے اس پمغفلٹ میں ضرت مرزاصاحب کےصب ونب او رآ پک ذاٹی یی تکوش یآ پ کے دعا دی بیس شا رکیا ے لا آ پک فی الاصل ہوناء ال فارں یت رکا ان ان کی رت نے ین ے ہونا اور پیٹچنگوتیوں کے مطا بی حارث(زمیندار ) ہونا وظیرہ-

مز زا رین ! مولوبی صاحب علا مہاورمولوی ڈاضل ہیں بل ہیک الن پڑ اور چائل ل1 دی یی جا تا ےک اکٹ ابی ذائی خثیت او رسب وشب اوررشتوں کے انار ےکئی حیبق ںکا حائل ہوتا ہے۔ اگ پہمولویی فاص لکی وگ رکی حاص لکر نے اورعلامہ نے کے بحعداپنی ذات پر بینمورکر لیے فجن پرز درد نے سے انیس شایدیلم ہو جا تا کہ دہ ایک جی وفت میں ابوالمشی بھی ہیں اور فا نی بھی ءعلا ھی ہہیں اورمولویی ذاض بھی ء ام پوری بھی ہیں اور نا یبھی اورسات ہی پاکتا ی بھی ہیں وغیبردوغیبرہ۔ چنا غجراپنی ذالی صیجیتں پہ جب ابی طر خورکر یت ذبچھ ریس میق تھاکہاپنے بارہ میس بتک بی تصردکرت ےک دہ ا و

مولوکی صاح بکی حاللت ات پر ایک 1 قعہ بادآ سیک یک مرتترسروردو عا منرت مصعفی مکی وٹ علیہ سلم نے ایک کک شس پیار سے لپچ ایہر الد ہکا بھائ یکون ہے؟ سوج میں گیا 1 ےت اکرف رما اک وو تمہاراما مل ہوا-

اکر شدانخو اسنہ بی موی صاحب دہال ہوتے نے ان کیا کیا تصصرے ا سج کے ارہ لکرجاتے جو ایک پھلو سے اس ہ ےکا ما مو تھا اورایک بپہلو سے ا سکی ما ںکا چھا کی تھا۔

می کے بکشرت دعا وی اوراس کے مراجب ومنا صب اورصفائی نام مولوگی صاحب کےنز دیک اس کےجھوٹا ہن ےکی دلیل ہیں ۔ ان کےحطرت مرزاصاحب پہ ائس فو کے و ا و ما رت ضس ال علیہ وع مکی ذد ہریحب ت نیس اور نکی آپ کے مقام بلند ہآ پ کے دع وکیا ہآ پ کے منصب اورعای نامو ںکاکوگی عرفان ہے۔ ورنہ رت مرزاصاح بک دشفی می سآ پ پہ تملکرتے ہو ۓ بیضرودسو بت کہا کی زددراصل مظ رذ ات خداحبو ےکہربا ضر ت ئ مصطلفی صصکی اللہ علیہ یل کی ذات با کات پر اتی سے فحل اس کےکہ ا سکیافصمیل بیان

کممیں :چم قا می نکی غدمت میں چند مز رگا امت کے دعا وی من کر تے ہیں بن سے یی بن چلنا ےکرائن دعاوی اورنا مو لک یکشزت سے الع کے متقام وھک یمفحم تک اظہارہوتا ےء ان کے منصب ومقام می کی وا نیس ہوئی۔ اکر بی دجوے ا لے بی مقاملِ اعترائش میں اور یدگی کےبجھونا ہون ےکی ولیل ہیں جس طرح مولوکی صاحب بیا نکر تے ہیں اوران پر ددی نام صاد آ٢‏ سے جوانہوں نے اس پہفل ٹکو دا ہے نے پیم اس سے بزراری یکا اعلا نکر تے ہیں ین مولوگی صاحب سے جم پ سے ہی ںکر ود حففرٹت ٹس الد بن تورم کوک یاکیں کے جوفرماتے ہیں ہم من مم تی مم می و میم تل بھرازٴ و ۴ ك۶ لوئی, رے لہ وروٹل ر (دیوان حضرٹت ٹس الد تر ہ۹) کو یآ دم ہاور ج یی وم ریم ہے۔

اور رحضرت اب نع ز کيا فق کی صادرف مانمیں گے ۔جنپوں نے فرمایا:۔ انا القسرآن والسبع المشانےی وروح السسروح لا روح الاوان-4ی (فوھا تکہہ۔جلدام نے ے مطبوب المکتہ المربیفمر) کہ میق مآ نکریم ہوں اورمی ا لان ہوں_ نکیا عنوان لگانفیں گے ضرت از ید بسطا ئ٢‏ پرکرالن سے جب چھا حر کیا ہے؟ اش ہوں ! اک کیا ہے؟ ہایس ہوں ! پو چا لوپ ول مکیا ے؟کہاس ہوں ! ھا خداعز ٹل کے بنرے ہیں ا برا تیم ومڑی ہما الو والسلا مہا وو سب میس ہوں ! پوچھا کے ہیں خداع ز ول کے بنرے ہیں چرائیلء کائحلء اس رٹل عز داش مہم الا مکباودسب مل ہوں! (جکرڈالاولیاءاردد۔جا ب۱ م۱ ے۱۲۸ شا حکرد ہشن برک تی اینڑسنز) اور بچھ ریم ولوکی صاح بکیا نام دیسں گےحفرت شاد و لی الڈرمحرت دہلو یکو*نہوں نے دگوے ےک ددلعلیم اس مرو ران بووم وآ نہ برنو ج طوفان شد وس بن رق اوش دن لوم آ ابا یم راگزارکش تن اودم ےریت موی من وم احیا مکی ممیت رامن لوق رن ای مین لوم داد درب العالاع “_ (الف یما ت الہ جلدا یم ے۸ اتی نہر مد ین مکی لی سبنور) تر جھہ:۔اساوکیا لیم میں اوح علی السلام کے وقت میس جطوفا نآبااورا سک نصرتکاسبب ناوہ یں تھا۔ ابرائھم بر جب ہم کگلزار ہہوئی فذ وہ یں تھا موق کی فوریت میں تھا یی

کااھیائۓے وتی میں تھا او رت یییو فی صلی اویل علیہ مکاق ران یں تھا۔ قا ری نکرام !مولوی صاح بکی الٹینضح کا1 پ نے انداز وگال یا رحخیقت اورالں سےلوگی ا ڑکا ری ںک رسک کہ کَْرة السْمَاء تَڈلُ عَلَی شَرفِ المُسَبٰی وَفْلہ (ترالجازن_جزاول مخ ا تخی رسورہفا تہ رخما ‏ یکب ناش اردہہاڑار لا ہور) کنا مو ںک یکشز بھی کے بلندمقامء مز رگی اورا سک فضیل تکاشجوت ہے۔ ابی وجہ سے راج انمیا رتضرت ھمصفی صلی اولرعلیہ مل مکوسب سے (یادہاسمائے مبارکہ ےداز اگ یا کول وہای و کا فو زج انا نکاد یا گیا لٹ اما ن کال کو دا سی یئن ان نوم میس ہیں تھا تق رم سنییں تھا ء1 اب می ںپچھ ہیس تھاء دو ز مان کےسمندرروں و0 ا نین تھا نو ہکس راریشی وسمادبی میس نیس تھا۔صرف انمان می تھا مین انان کائل میں جس کانقم اورائل اوراٰ اورارنع فرد ہا رے سید ومولی سد امیا سیر الا امش فی صلی یلد علیہ سلم ہیں ۔سوووفو راس انسا نکود گیا اور صب عراحب اس کے ام پھرگو ںکوکھی لڑقی ان لوگو ںکوبھی وی قرروہی رنک رکھتے ہیں ناوات لور بر ہمارے سیر بمارے موی ہمارے دی می ائی صادق مصدوق ئومص مل صلی ال علیہ بی یلم می پاکی جال ی تھی( منکالات اسلام۔روعائی نخان جلد ۵ خ١٦۷۲۱٦)‏ چنا ق رآ نک ری می سآ پ کے جو نام اور منصب بیالن فرماۓ گے ہیں اان ٹس سے

و وس و ا و تو یہ دو وہ کرو سوک و و و و او ۹ و مَیشِرا برسوْل پاتی من بعدِیٰ اسُمۂة اححمَد ر(الصف:کے)

7 ")ٴ)“ُ)

و وت (الفتح:٣٠)‏

0" 070

یاس۔ وَالْقران الَکیٔم ۔ِنت لم الْمْرَسَلِیْنَ (یاس:۲ تا )٣‏ مَا اَنْرَلََا عَلَيْكَ الْقَرْانَ لِتشقی (طہ: ۳۰۲)

۶2

٠ جا‎

٠

ھا الْمَُرَیَلُ (المزمل:۲)

۔ھ٦‎

يَاھَا الْمَدتْرُ (المدثر:۲)

_“0۳0+ج 2 ۲ ا

کے

٦

۲

٢ ۰ : ام‎

۶رر یں 0 2 ٠‏ الذِيْنَ يَتبِعُوْنَ الوّسُوْل البیٗ الامّی (الاعراف:۱۵۸)

و دَاعِیً إلَى الله باكّنه (الاحزاب:ے٢)‏

8

ہصح ا“ ىَ0

َ‫ ہے رش مے و سراجا منیرا زالاحزاب:ے٥)‏

جو لے

سرت ڈو ا ہر ہر إِنمَا انت مُندْر و لکل قَوْم مَادِ (الرعد:۸)

(الرعد:۸) نا اَرْسَلَفْك شَاھهدا وَ مُبَمْرَا وَنَذِیْرَا رالاحزاب:٢٦)‏ ِا اَرْسَلَسْك شَاهدا وَمُبَيْرَا ونَدِیْرَا زالاحزاب:۲٦)‏ ِا اَرْسَلَسْك شَاھهدا وَمُبَيْرَا وَنَدِیْرَا زالاحزاب:۲٦)‏ بُرَكيْهمْ (الجمعہ:٣)‏

-:

يَلمْهُمْ الکتاب وَالْحَكمَة (الجمعہ:٣‏

قُذ جَاءَ كُمْ مِنَ اللَهِنُوْرٌ (المائدہ:١۱)‏ 01 وت و رر ٢‏ 7 جَاءَ کم بْرَهَان مَنْ رَبكُم (النساء:۱2۵) َ‫ گر ہے رہ ج۷ وم ےےه و اِنه لهُڈی و رَحْمَة لِلموْمِيیْنَ (النمل:۸ء) و کنا سے ی نے رہے۔ یج ؟ھ ٣آ‏ پ ره وین یں وَإِنَه لَھّدی و رَحْمَةلْلمُوْمِییْنَ (النمل:۸ء)

یم ۴ 7 و ا ای مھ 32 کر سںم ‏ ے ا پری لا وانان یں وَمَا ازہلتكت إلا رُححمة لِلعَالمِیْن (الانبیاء: ۰۸ ۱(

(۸)

۷آ پا امت کے می یں حَرِیٔص عَلیْکُمْ بالمُوْمِیْنَ رَووْف رَحِيْمْ زالتوبہ:۱۲۸) حَرِیْص عَلَیْكُم بالْمُوْمِییْنَ رَزْزْف رَّحِیمْ زالتوبہ:۱۲۸) ۴٣آ‏ پ تم ہیں حَرِیْص عَلَيْکُم بالْمُوِییْنَ رَؤْوْفٹ رُحِیْمْ زالتوبہ:۱۲۸) ۵۔1 پگواانکران ہیں کرت اتل عَلَيْكُم شُهيْدا (الحج:۸ء) ۹آ پ ساب نتم یں اِنّك لَعَلی عُلَيٍ عَظِیْم زالقلم:۵) ۴آ بپاول سلمین ہیں و آنا اَل الْمُسْلمِیْنَ زالانعام: )۱٢٢٦‏ 1-۸ پ ول الد میں ولکن رسُوْل اللٰه وَحَاتَم النبیْنَ (الاحزاب:۱٢)‏ ٦آ‏ پغاق این ہیں و لکن رَسُول الله َحَاتَم الین زالاحزاب:٣)‏ ٣آ‏ پکبدالڈدیں ژزَنَهُلَمَا قامَعَبْد الله زالجن:۰٥)‏ ا۳۔آ پا صاح بی ہیں اِااَغطَيَْا كَ الگؤگر (الکوٹر:٢)‏ ٣‏ ۔آ پ مگ میں ِذًا دَعَاكُمْ لِمَا یُخْييْكُمْ رالانفال:۲۵) ٣۔آ‏ پا صاحب اسراءٹیں سُبْحَانَ الِّْ اشرٰی بعد (ہنی اسرائيل٠٢)‏ ٣۴‏ ۔آ پصاحب قاب نہیں فَکانَ قَابَ قَوْسَيْن او انی (النجم:۶١٥)‏ حضرت لی اویل علیہ یلم نے ق رآ نک ریم میس بین شدداساۓ مارک کے علادہ اپ بینم اور منصسب گی بیالن فرماۓ۔ ٭۔آ پامائی ہیں قال رسرل الات مل التاعلے ناپ الاشرین الماحی الذی یمحوا الله بی الکفر و انا الحاشر الذی ے٣۔آ‏ پالعا قب ہیں یحشر الناس علی قدمی و انا العاقب (بخاری کتاب المناقب ‏ باب ماجاء فی اسماء رسول الله صلی الله عليه وسلم) ۸۔ ای ہیں عن ابو موسی الاشعری قال سمی لنا رسول الله صلی الله ۹'أ۔آ پنیا رص ٹیں علیہ وسلم نفسه اسماء منھا ما حفظنا فقال انا محمد و

(۹)

2 *-۔آ پ بی لتق ہیں احمد والمقفی والحاشر و نبی الرحمة قال یزید و نبی تن التوبة و نبی الملحمه

(مندرامرمی نل _جلد۳ م۴۰۴ ۔المککجبہ الاسلائی بیروت )

٣۔آپسدولدآمژؤں‏ عن ابی سعید قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم انا

القیامة ولا فخر (مسنداصر ب نکنل ۔جل ٣‏ ی۱ی الکتبہ الاسلائی بیروت) ۳آ پصاحب ەیلؤں قال رسول الله صلی الله عليه وسلم سلو الله لی وسیلةہ قالوا یا رسول الله وما الوسیلة قال اعلی درجة فی الجنة لا ینالھا الا رجل واحد ارجوا ان اکون انا ھو ذری۔اہوابالناتقب ہاب ماجاء نل الیل ا علی لم ) ۵ ۔آ پ عاملِ لواء اد قال رسول الله صلی الله عليه وسلم انا سید ولد آدم یوم ہیں القیامة ولا فخر و بیدی لواء الحمد ولا فخر نری۔الواب المناتقب۔ ہاب ماجاء یل ای صلی او علی ےلم) کے 2 الاوع انا اکرم الاولین والاخحرین ولا فخر لآ غ ناشن ذی۔ااوابالمنا تب ہاب اجاءپفض۹ل انی ص ال علیہ م) ے۴۔آ پآ خرالاخمیاء ٹیں قال رسول الله صلی الله عليه وسلم فانی اخر الانبیاء وان مسجدی اخر المساجد زس تاب !رع با ال الصل بس یمک وال .2 ) 6اپ یئ مابعث نبی الله صلی الله عليه وسلم الا محلا و محرما ۸۹۔آپ حم ہیں (مسلم .کاب الصید ولغ بان۔ اب اباحۃ ا کم اقیل )

)٦١()

بھم نے بیہا ںنھونے چنددعاوگی واساۓ مبارکہ فا ر می نکی خدمت میس جیی کے ہیں چک ہما رے؟ ا ومولی حضرت ارس مممصفی صلی الڈر علیہ ےلم جا ہن صفات الہیہ ہیں۔ آپ کے دعادئی آ پکی صداقت اورعظمت کےآ ینہ دار ہیں ۔ یں چم مولوی ابوال شر صاح بکی مع یکو ایس پر ال کر سوا لک۷رتے می ںکمہاس کے مطاب نکیا ان کے نز دیک 1 حضریتت مل اول علیہ لم کے بکخت دعاو یآ پ کو( نو ہااشدأھوذ انن) مجھوٹا ثابت 1 -720 یں ہرک نہیں _ دا کیم ہرک نجیں۔آ پک ایک ایک نام اورایک ایک دوک یآ پک بلندشا نکی ع کا یکرتا ے۔........... الہ مولوکی صاحب نے اقنا سیک ائمی انت راعکی ہے جوخودا یں ایک مرت بیس ہترار ہنرارم رت کجھونا 5 متکرلیٰے۔

اش سے ڑا ات کون ہوستا سے جواسی شا غعکوکا نے شس پر وو خود یڑا نے جوعناد اور وشن یں اندھا ہوک دوسرے پر جملہکرتے ہوئے اپنے پیاروں بی کا خون ککردے۔ ان مولوگی صاحب کے ول ٹیں اگرحب تفم رسکی اوفرعلیہ لمکا ایک ذر بھی ہوتا رت مرزاصاحب پر تلرکرتے ہو پیل بے سو تک یں ان کے تل کی زدہمارے 1 ا ومولی حضرت اق یں مومصفی صلی او علیہ وم بن نہیں پڑمی۔

۸(1

ر40

ا نبادابما

مولوبی ابوال مشیر صاحب نے ححضرت ملاع تقا رک کاب شر فقہ اکب رکی طرف مو بکر کے اش حوالہ کے بیعبارتأ‌ لکیا سے اور اس میینعبار تکواپٹی س بل ںکی میادہنایا ہے۔دوعیارت بر دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی الله عليه وسلم کفر بالاجماع تر جم :حر ت ی٥ی‏ ال علیہ ےللم کے بعد با لا تقاقی دنوی نو تکذرہے۔ (شر رف ۃابر) مولوبی صاحب ! آ پ علامراورمولوی فاصل ہونے کے ملک ہیں ۔کیا آ پکواتی بھی نی سکہاجما کی بج نذ ھت ہی اس وقت ہے جب ق رآن وحد بی کنحس وص ص ربج لی فیصلہمش من ہ وی ۔ ای ں1 پکیوں ق رآ نکواولی تی دیے۔ زکیاق رک نجییم ری سبا مم تکا اجما یں ہے؟ لین ہم خوب کے ہی کہ مآ پک یورگ ےکیوکہ آپ کےمقیدہکی تا می ق رآ نکری مکی ای کبجھی آ یت مو جو یں ۔ تہ اس کے بس نو تکا امکان نے ایک طرف ہیک 1 بر ےی طور بر ذکر تق لآ بات موجود ہیں اور اپیے نیکی برداونصرت کے لے انمیا پٹہہم السلام سے مداتھا لی کےعہ رکا بھی ذکر سے اور فوں ]1 تحضرت صلی اولرحلیہ ؤلم ےکبھی خداتوالی نے یوعد دلیا۔ چنا ینیل کے لئے ھی ںآ یا ت بشاق این ہسور ہآٴک پگ را نآ بیت ۸۲ اورسورہ الا 7 ا بآ بیت سے۔ائی طررب تجررامادیث میں1 تحضر مکی اولعلی ےلم نے امت میں ٹیک یآ یکا ذکرفرمایا ےاور آےوا نے ونو وع اورمہر یکو ن یتر ارد یاے نون کےطور بر یک عد یٹ یی ےق مایا لا ان یی ابْنَ مَریم لیس بی وَبَیْنَنبيٌ الا خَليْقَمِی فی اَی (الیدعتجم ااصنخ اط انی جز ا نے ۲۵۔ بروت لہنان )

(٢۳)

یں خداتاٹیٰ اور اس کے رسول صکی الد علیہ وعلم کے وا ارشاوات اور وا پٹنگوئیوں کے ہوتے ہو ےکی اجما عک کیا حثیت دہ جاتقی ہے۔ اس صورت میں نو شحل یٹ ہےک یگ ماس بکااجماع یہ ہے اورسب اس بات بتف ہی سک نآ تحضر ت مکی الال علیہ یل مکی پنپگ گی ری ہوگی نفد اتال یکافرمان سا سے احوذ ہلل أحوذپالٹ

ریہ جات یکلی خلطداودر بے نیا د ےکسا رکی امم تکا اجما جح ےک ہآ تند امت می سکوئی ینمی ںآ گا۔ ہاں جہا ںج کتش ری میتی صاحب ش بجعت اور ففل نیک یآ ہکا لت ہےاس کے ارہ بیس اہماع اممت ا کیا ق رن وحدی کابھی بی فیصلر ےکرحضرت زاتم الاخیا رھرمصفی صلی الیل علیہ وم مکی ش ریجت اور پک اتجاع سے ہہ ٹک رکوئی نہیں 1 سا لیکن ایمانی جوا ب کا تا با اتی او رآ پ کی ملا ئ یکا جوا می نک رآ ۓ سب صلی می ئن ےآ نے می نکوئی رو یں وپ نے لک کاخ یت فق رن ابی نبوت کےصرف امکان ب یکا ذک ٹیس بل ا سک یآ مدکی دامع پگ تال موجودہیں۔ ہا ں کک ب: رگان سلف ےا م لہ افقا قمانضق ہے۔اس کے چندشموت گا رت نکی خدمت میں می ہیں

خرن اولی کے پاکمال :رک اور ال شش کے امام ضرت امام بات علیہ السلام (وفات۱۵عء / ۸٢۱ھ‏ )(رسالت وامامت کی طرف اشار ہدک تے ہوۓ ) فرماتے یں:۔

٭+٭

”َنْ ابی ججغفر عَليه السلام فی قولِ الله تبار ك و تعالیٰ فقذ اتَیْسَا آلَ اِبْرَاهیْمَ الکبَ وَالْحَكَمَة و اتَيْنَاهُمْ مُلگا عَظِيْمَا- قَال جَعَز ِنْهُمْ ارس وَالاِيَ َء وَالائِمَة فَکیْف بَُرُوَْ فِیٰ آلِ اِنْرَامیمَ عَلَيِْ السُلام و يُنَكرُوْنَهُ فی آل مُحَمَدٍ صَلی الله عَليْه وَسَلَم ۔“ (ااصائی شر اصول الکائی جزاول ‏ مف ٥۰۴‏ دارالکتب الاسلا مبیتران )

)۳٢() تج : حفرت اب امام پیا سام ءال دتالیٰ جل شانہ کے اس ارشاد فَقذ‎

جس رسول ء ایا ءاورامام نا مان تیب بات ےک ہلوگ نبوت وامامم کیلمت کا وتور ل ا برا ہیم میں تو لی مکرتے ہیں ینہ ل موی اللد علیہ لم میس ان کے وجود سے انار

چٹی صدری اججری کے ممتاز ہسیاندی مفسر اور پینچواۓ طر یقت صوئی اخ الار حر تگی الد بن این ۶پ( متوٹی ٣۱۲۳ء‏ ۸٣۹ھ‏ )فرماتے ہیں:۔

”فَالُرَُ سَارِيَة لی يَوم الْقيَامَة فی الحَلقِ و اِنْ کان التَشْرِيْعٌ فَدٍ

لقَطع ‏ فَالتَشْرِیْع می و ما (فقحا تک جل دای ۹۰ جا با ے۸۲ ۔مطومفەر) تر جم :۔کہ نو توق میں قیامت کے دن کک چاری ےکوتش یھی وفع ہوگئی ہے۔ بی ش اجت نبوت کے اجمز اءیں سے ایک جء ے۔

ا مان رحرث وپررصری وواز وب شلم,صوئی ومصنف اور ہنروستان فرع مید کے پ لہ فاری میم حخرت اہ ولی اللر محرت دبلوی علیہ الرمۃ (موئ ۴ےا اے ا۱ھ ) خداتھال کیٹ یم کے مات تک ویمات الہ جز ای ص۵ شف ی م٣‏ ھ می ف رر مرا وت ”یم به الَوْنَ ا لأيُوجَد مَْ بَامرُه الله سُبْحَانَ بالكَضْرِیٔع عَلَی النَاس“

تج :کی تحضرتہ٥لی‏ الطرعلیہ یلم کے ناتم این ہو ن ےکا مطلب ہج کراب کوئی ای تنس نہیں ہوا سے الد تعالی لوگوں کے لے شریعت در ےکر ما مورفر ما لیڑتی شریعت جد بد دلا نے والاکوگی نب یکڑل ہوگا_

ال نت کے متاز ومنفرد الم ”بر علوم لمعتقول وجب فنون امنقو گل“ حضرت موڑانا

او

ات 2اگ صاحب(متو نی ۱۸۸۷ء ۱۰ن )لکھو ىی فرگ یی اٹ یناب دا لوا کےص ن٦۱‏ (نا اشن ) پر اپنا رہب تشخ نبوت کے با رے میس شی کرت ہو تے رما ےون وت ”بعد تحضرت صلی الل علیہ یلم کے پاز مانے میں7 حضرت صلی اولدعلیہ لم کے پج ری ن یکا ہون موا لیٹس بلک رصاحب شر جد بد ہوناالہٹأتع ہے“ فزفرایا:۔ ””علاۓ ائل سن تبھی اس اع کی نر مر تے ہی سکی؟ تحضرتںلی ال علیہ لم کےعص می ںکوٹی نی صاحب شر جد یڈیل جوسلتا۔ اور پک خبدت عام ےاورجو یآ فر بمحصرہوگا دوش ریت مر بر یکاش ہوگا“_ ( مو ,وی مولوی دای صاحب جلداولصفی۳۳۔ نا نشرا چا سعی رای پتان ) اسی ط رح ائل حربیث کش بور مروف عا نو اب صد لسن خان صاحب کے 7ص“ 0 ”عدیثلا وحی بعد موتی بےال ےالبت لا نبی بعد یآ یاے:ں کے نز دکیک اب یلم کے مہ ہی ںکہمیرے بح کی نی شر نار لاد ےگا“ (اتر اب ال۔ماع:ص خی ٦۳‏ اش ا۱ت مفغیدعام پری ںآ گرہ) مصززقارعین! مولوبی صاحب نے اپتنے مجھو ٹکو غاب کر نے کے لے نام تہاد اماک و9 9 پیلد کی ملک کے اکا ب بین نے بیعقیدہ یا نر کےکہ خی رنش ری نبوت کے لۓ درواز ویقیاً کھطا ے مولوئی صاح بک فی کی جکواکھاڑ کا ہے ۔ اب د نے خوداان کے ملک کے انی ایی ںکیانعلیم دتیے ہیں۔ بای مدرسہ دلو بندمولانا حر قاسم صاحب نائوقوی (متوئی

۰۶ء ۹ھ ) فرماتے ہیں :-

)(۱۵) عوام کے خیال میس نو رسول ارڈ لق کا ام ہونابا نی ےکآ پکازمانہ امیاءسالقی کےز مانے کے بعداورآ پ سب می س7 خرکی نی ہیں گر ای لم پہ رشن ہوگاک تفم ما تا خرز می مس بالات پجوفضیل ت گی ۔ پچ رمقاح مد میس لکن رسول اود وم این ف بنا اس صورت می سکیشک رع ہوسکا ے۔ ہاں گر اس وص فکوادوصاف مر یل سے شہ کے اوراس متقا مکومقام مد قر ارضدرد ہچ قذ الہ خاحبیت پانقپارن خر زنیج ہوک کرس جاہا ہو ںکرابلي الام ںش کےا تر ان ( یز رالاس مصنفہمول پ مم رقاک نا ٹون ئینٹئع قاکی د یو بن “خ۳) ا لکیا مز یدوضاحت ب مان فالٰ:- ”اکر با افش بعدز ما نویل چھیکوئی نی پیدا ہو تھی خاحمیت ری میں 2 . 7.: - (تیزرالناس مصنذہمو نا شجدقاسم ا وق یٹٹع ای دی بند مخ )٢۸‏ یں جب نبو تکا ا مکالن اممت می ہرمسلک کے نز دکیک مو جود ےو وہ اما ںکیسا ہے جن سکی جا می می کوک یھی ات کٹ انیس ہوتا سواۓ مولوی ابوا مشیر صاحب کے۔ بہت یقاب رئم حالت سے ان لوگو ںکی جوم ولوبی صاحب کے بے ڈیا دو ےکواجما جع ام تکا ام دپنے ہیں اورنیں دب ہکان کے ملک کے بای بھی بڑی وضاحت سے ان کے اس کو یکوگجھوٹا تقر ارد نے ہیں ۔( مولوئی صاح بکونو چا بے ٹھاکالیما دکوکی بی نکر ت ےکیونلہ انان ج سکی طرف موب ہواورا سے مقترا لی مر ے فو در بن رو ںکی نہیں کم اکم 77 یی مکونومانے اوراس کےخلاف نہ کے ) صرف ب نیہ ای گر و وک رع می ن کا لن مولوکی صاحب اوران کے ہم مشربلوگو ںکوموٹا شاب تکرتا ہے اور بیاعطا نکرتا ےکآ تحضر تی او علیہ یلم کے بعد

جض کا ہیں1 سنا دو صا حب ش رعت بی ہے جو پاکی اتا کی ججاے ابنامکہ چلا ئے رت اتاغ یش او رآ پک نخلائی می ںآ پ کا ائتقی ہوک جن یآ ۓ اس کی آ مھ میس کوئی رو ک ہیں ۔ اس عقبید ہکا اعلا نکر نے والوں میس دییاۓ اسلام کےئٹشمورصوث اور متا زگ حضرت اما بدا لو ہاب شعرالی ء جناب اش عبدالقادرالکردستا نی ,توف سے انا زخشندیی مز رک حطرت مرزامظبرجان جاما :ضر عبدالگ ریم جیا یم خلیضالصوفاء نحص رحفرت مغ ال یآ دک ءسرا جال ولا ءآ فا ب طل یقت حضرت مولا نا جلال الد بن روغ اور ان کے علاوہ اور ہت بے من گان امت پٍں اور ہب ے بہڑی وک رعطرت امالمونشن عا تشد یق رض ا عنہا( مل صف الد بین ) ہیں ۔ جو فرمالی ہیں:-

”فُوْلْوْاحَاتَم الِیْنَ وَلاتَقولوا نی بَعْد“' (درمخورجرہ۔ خ٢٣)‏

ترجہ :لشنی اے لوگو يک۷ کر ]تحضر تملی الڈ علیہ یسل نام این ہی ریہ ہار وکا پ کے بحدکوئی ینئیں ہوگا_

امام حضرت این قتی(متولی ۲۷۷ھ ) سییرہ عا کشرصد بقہ زشی اللدعتہا کے 2 وت

”یس مذّا من فَوْلِهَ نَاقَضٌا بقَولِ التبيٍ صلی الله عَليه وَسَلَم ل٦‏

بی بَعْدِ یه اََاد لا تَبىَ بَعْدِیٰ يَنْسَخُ مَا جنّت بہ“ (جا و ل ملف الا حادیٹص 2 )٣٢٣‏

ترجہ:۔(حفرت ما ئیٹڈ )کا رق لآ فحضرتیلی امش علیہ یلم کےفر مان لا نیسی بسعصسدی کے خال نیسکیو و رکا مقصمدائس فرمان سے ہر ےکبمہرے بحارکوکی ایسانی یں جومیر یش ربج تکومفسوغکھرد نے والا ہو-

رضنر پاک و بند کے مور رت اور عالم صخرت امام ئ طاہر (متوبی ۱۵2۸ء/۹۸۷ھ )حخرت عا کٹ کے اس ارشا دک ی شر فرماتے ہو مع اجار

(ےا) می ںککیتت ہیں:۔

”هَذًا نَاظِر ای ُوُزْلِ عِیُسلی وَ هَذَا اَيْصَا لَبَُافِیْ حَدِیِتَ لا نبی بَعْدِیٌْل٣نَه‏ اَرَادَ لا بی يَنسَخ شرع“ ( کیل الج رصز۵ہ۸)

ترجہ :۔حظرت عا یی ال رعنہا کا گی اس مناء پر ےکیمھعی علیہ السلام نے تتیت بی الندنازل ہونا ہے اور بقل حد یٹ لای ۳ 01" آ تحضر ت صلی الد علیہ ئل مکی مراد اس قول سے یہ ےک ہآ پ کے بعد یمان نیس ہوگا جھ

ای کے مطای حضرت امام عبد الو ہاب شمعرالی “رت شماہ وی ای محرث دبلویء یلو شامیقادری کے امام ٹنوا تر 2 فشاک فی خ رت ال ماارظنا اہ ححخرت حافظط پرخوداراورائل عد جیث کے یش پور ما ما و رفس فو ا ب صلی تسس نخان صاحب ے صاتجزا 0 بی بعدیائر کی ےاور ہے ماس تماد یر ےکآ تحضر تسلی اون عای یلم کے بعدش را بت لانے والا نیئیں ہوگا_

ہیں اب خوب دا بویا ےکہمولوکی صاحب نے اپنے ایک سکع عقیدہءکواجما عکا نام دیا ہے جم کا پل اان مز ران امت نے خو پکھوا ہے اورروز روش نکی رب خایبت کردیا ےکہمولوئی صاحب نے ال عقیدہپراجما ع کیاوک یکر ےکی :اع جسارتکی ے۔

مولوی صاحب پ نے فقہ نف کش پورامامضرت ملاعی ارک یکتاب شر فقہاکہر سے اپنے عقید ہکی عمارت استوارکر ےک یکشت کی سے جےخودحضرت ملاع قا رق نے بی جوا رکردیا ہے۔ چنا یہ ہمارےآ تا ومولی حضرت ئمرمصفی صکی ول علیہ ول مکا بنا ابرائی جب وفات پاگیا تآ پنےفر ایا لو اش اِْرَاهیْمُ لَگانٗ صِدِیْفا نَا _

(ابن ماج کاب ا لجنا تم یاب ماجاءنٰ الا لی این رسول او ٥کی‏ علیہ سکم و ھکر وفا نر

کک ہاگراب ایم زند ور نات بقیاصد لق نی ہوتا۔

اس عدی ث کی تر کرتے ہو آپ اپنی کاب موضوعوا تکیر کے

(۸)

۵۹۰۵۸ بفرماتے ہیں:۔

قَلابُسَاقَض قَوْلهُ حَاتم الین اذ المَعُنی أَنَه ای نبيٗ ینسح مِلكَة

وَلَم یکن مِنْ می

یجن ی7 تحضورسکی اولد علیہ و مکا یق لک (ابراڈیم زندہ رج ن صد لق نی بن ) آیت اقم نین کےہخال نم ں کیہ ا ںآ یت کا مطلب ىہ ےک یکوئی تھی ں17 سکنا جھ (اول )1 پکی مل تک تچ کر نے والا ہ۔(دوم )1 پکی امت یس سے نہ ہو

مولوکی صاحب !اب بات ۓےکہ

کیا امام مطائلی تمارک کے نز دکیک ایے نیک یآ مھ کے لے درواز دکھلا سے پا یں جو 1 تحضر لی اولدعلیہ وی مکی ش اعت کا جا مع ٠آ‏ پ کا اشتقی اور پکا غادم ہھ۔ بای یر دوگ کی1 تحضر تصکی الیل علیہ ےلم کے بعد دع وی نو کر نے وا لا کا فر ہوگاء الیل جھوٹا ا و رگمراہ کن وی ہے۔اوتھا مم اسلا می سے ال ںکا کایکوڈ ینک قیکیں_

٣0,9س,0‏ .ئ00"

١۔‏ کیا1 تضرتیل ال علیہ یلم نے کے می الک1 می چپگد نی فر ائی ؟

٢۔‏ جح سک کے1 پ لوک نظ ہیں جب دہ 1 ےگا ذکیادہ نیس ہوگا؟

۳۔ اورکیاجب وو تحضرت صلی الد علیہ مکی یجنگ ہوں کے مطا لی دوک نبوت کر ےگا آ پ ا ےکا فرقراردےدمیں گے؟

مولوٹی صاحب ! و لکر یں اورنفل کے ناشن میں ۔ ات بی تکی مخا لت می ںآ پ نے اپنے عقائ کا نذ سینا سکرجی لیا ہے ء انی عاقب تک کک رک ری اور بک میں اوراستففار ک میں اورونگھی ںکہاممت می ںآ نے وا ت ےک کے ارہ میس ححضرستگگی الد بن این ۶ پچ (متوئی ۱۲۳۰ء ۸٤٣ھ‏ )کیافرماتے ہی ںکہ:۔

(فذھا کہ جلداول مہ ۴۵ھ مع دارالکتب الع رہب ۔ اکب ری بھصر )

)۱۹)

20 می ںع مکی صورت میں شریعت کے اخیرنازل ہوں گےاور با شک یی ہہوں گے- اورگل! واب ص دنین ‌"0۷۳"ت7020 الکرا ری ۳۱م میں علا رسلف کے او ا کی جناء یہ بباعلا نگ تے ؤ ںکہ:- ”مَنْ قَال بِسَلْبِ وه فَقَذ كَفَرَ حَقًا کَمَا ضَرٌح بہ السَيُوْطِیٌٗ“ ( کر یف۳۳۱ یٹ شا ججہانی داع بوپال ) ترجہ وش بعتقیرور بے حطر تچ وک کے کر تعن کے و کھلاک فر ہے جی اک امام نی نے تص رر کی ہے۔ مولوی صاحب! آ پت رآ انکر مکی طرف نو نا لک تے ۔احادیے نب و کاو لے ھی قابلِ اخننا یں کھت ہز ران حل کی با ت ئل مات سب بآ پ پر بے اش ہو گے یں .یی بھی پپند ےک ہآ پ اپنے مز رگ :مفق رم شف صاحب فاضل دلو ہن کی با گی یں مانیں کین اس امبید کرای بن ایوں مس ےمم لوک اپ یکک اپنے مز رگوں اور بڈوں کےفرمودا تکوعمز تک نظ ر سے د پت ہیں مان کیک فی کی طر فآ پک توجردلاکرا گے مو نکی طرف ے حت ہیں۔ چنا خیمغتی صاحب فرمات ہیں کس کل مالسا کی رت کالفا کن اکسج یکم بعرغزو بھی باٹی رےگا۔ ان کے نی اور رسول ہو ن کا عقییروڈرش ہوگا_ اور جب دواس امت ٹیل امام ہوک رتش ریف لانمیں گے۔ اس بنا یہ ا نکا اتاج احکام بھی واجب ہوگا۔ الخ حضر تی علیہ السلام بحدرنزو بھی رسول اور نی نہوں کےاورا نکی نو تکا اناد جو قد ھم سے جار ےس وق بھی جاری ر ےگا “_ (ویکھورج رق وکی الف ۹م) ات رر

اور

مولوئی صاحب نے اپنے ال پمفلٹ میں حطرت مرزا صاح بکو انگ ری کا خوو کاشت پدا' راردیڑے۔

صولوی صاحب! دوہی افش ہیں ما آپ نے وہ عحبار ت کی بھی ننس میں رت مرزا صاحب نے اپنے انان کے پارہ می مہ الفاظ کے ہیں ورن ہآ پ الیل جخرت مرزاصاحب اورامه بیت پر چچپال نہک سگتے ۔ با پچ رآ پ نے دہ عبارت نو ھی سے گر جان پو ہوک ردجل ےکا م لیا اورتقیقت عال پہ پر دہ ڈالااے۔-

تنا تخحببل اوربہں منفٹرکوسچھوڑتے ہہو ۓ صرف بدوضاح تکاٹی ‏ ےک ات بی تکا وودی نطرت مرزاصاحب سے نجرد ہوتا ہے او رآ پ نے جن کے ارہ میس بیلکھا سے وہ ما ران تصرف کہ اح یت سے پک کا سے بلہاا سکیا سب خد ما تجگی اص یت کے غاز سے پل ہکی ہیں ۔اور ا کا اھ یت ےکوکی تلق نیس تھا۔ بآ پ کق ری رشن دار جیی ےآ پ کے شد یدڈشن تھے۔ بی ں1 پک خا نان جس ن ےپ ےنتا کرلیااورجھ اتھ بی تکی وج ےآ پک مخالف ہوگیا تھا۔ دہ انگمر کا خودکاشنہ ود تھا۔ اس سے جماعت ا ا ا ا ال می و ا 7 صاحب٤‏ الا ارد بَنْقَطِمُمِن ابَآِك وَيِنْ؛ نٹ ہابآ پ16 لی خانلدا نآپ تل ٹگیا ہے او رآپ ےآ سندہ نیا ا نلدالن مق ہوگا۔ نہیں دہ نما مدان شس کے پارہ بیس ححضرت مرزاصاحب کے برالفاظط تھے وہ تیر ہگیا اورآپ ےکم ٹگیا-

مولوبی صاحب !بی جماعت اتپ پک الزام برا عنادتھا۔ اب دنگھی ںکہ

پور

۲(۷( ور تق یقت انگرہ کا خودکا شنہ ادا ےکون؟ میئے مولوبی صاح بآ پ اپنے فرق ہکا عال سی ۔ ای یٹ ررسال طوفان نے حش تا جع یئ اور یت الاک ہ:۔ ”اگربزوں نے پڑی ہوشیاری اور چالاگی کے ساتف ھت یک تی بت کا 7 (یچی ال حد بیث جے و با یئ یک بات رک ند بی بھی کے ہیں ) ہندوستان مںش اش تکیا او رھ راسے اپنے ہاتھ سے کی پر دان چھ ھایا''- (ینرروروز وطوفان ےو بر۲۲٦۱۹ء)‏ قا ری کرام !اب دنگھیں تا رن مس ط رب خوتکھی می ام ری ہے۔ دلو بندی فرقہ 2 ھی نربی ادارہندوۃ التماء کے تلق ری خفا لی سے نابت ےک گر بذوں نے اس کی ذیا ای چنا ماس ادارہ کے اپنے رسال الندو نے یتا ری شمادت تل مبند یک:۔ ۸ وم م۱۹۰۸ ءکودارالعلوم نو التلما کا سن بفیاد ہ نر اییئش فگورزر بباد یما لک مد ہس جاان کاٹ حول کے بی ۔ ایس ۔آ گی ۔ کی نے دکھا“۔ (الن دوہ ۱۹۰۸ء عف٣‏ _۔جل د۵ )١۱ُ‏ ای رسالہیش بی یککھاےکہ:- ”ریش پور فرئہی در گا ایک نر کی مرہون مت ے“ (الندروہ۔ ہر ۱۹۰۸ء من ے۔جلد ۵ ُم۱١)‏ بی نئیں اس کے یا مکی خر وضابیت ال کا مققصداور مان بای بیا نک یاک ہراس می تارہونے وا نے:- ”لامک ایک ضردری فرش بھی ےکک ورنمن فکی ہکا تن قلومتع ے وائک ہوں اور ملک می ںگورتحض فکی دفادارییٰ کے خیالات پچھیائجں' “_ (النددوہ۔ جو ڑا کی ۱۹۰۸ء ص نے ا۔جلد ہن م١)‏

(۲٢(

ا ےککتے ہیں ارہز کا خودکا شنہ بدا جن سکیکاش ت بھی اس ن ےکی اور بیار یھی اور جب دہ اسے پروانع ڑا گے اس پوودے پیر مرکا تکلومت سے واققیت اور لک ںشگورٹمن فک وفاداری کے خیالات پچ یلا نے کے ہ رمعم میس اورجکشر کیل گے ۔ اس خودکا شنہ پر ےکی نظ ہبیش مالی مفادات پر ردی اور انگری کی طرف سے اس کا کاسےگدالی راپ جاتارہا۔

چا ں کک اس دی ہنی فر تی ایک یجس اح ارکاتصلق ے جھ جماعت اع بیکی خالفت می ںکوکی د قیفر وگ اش ت نمی ںکرکی ۔خودا سکا یبال ےکہ پرصصخ رکے ایک بہت بڑےلمیٹرموڑ نا ظفری ان مدمیروز نا مہزملندار لا ہو رلھت ہإں:-

دو 7 ماک ےن بین ا زکی فلط روش پر ووسرے

مسلمافو ںکی طرف سے اعتراض ہونے پ راگ ریز کیعکومت اھر کی می جن ارخی ہے۔اورعلومت کے ال اض یحم دینے ہی ںکہاحرار کےمجلسوں می ںکمڑ مر پیارانہکی ا کین کی ات نی تی کی ا تح ازار عکومتکا خو وکا شنہ پودا ہے ۔ جس سکیآ بیار یکنا اور یش صرص حوادث سے بچانا علومت ابنے ذمچممت برغ بھی ے'

(روزز ے ”زمنرا ر۳ الُمے ۱۹۳۵ء)

مولویی ظفریلی خخان صاح بکا ىہ بیان جمارے نرکودہ الا بیان کین می ںٹھو ںگوای ٹن سکرتا سے اور انگر ہب ہکی طرف سے اس خودکا شنہ پوداک یآ بیارکی اوردلدارگ یکا کال ے۔- لن اس کے رس ججراعت ام پہ کے تلق سماریی دا می شکوگی انمان ای ککوڑی بھی خاب تی سکرس کہ اس پرانگر یز نے خر کا ہو با ال لک ایا فو عکی ادی یھی س سی گیا ہھ۔اس ل ےکہ بی خداکے ہاتج ھک لابا ہوا وداہے۔ نا ےکی ماد صریست کی ضرورت ہے نہااس کے مالی مفادا تک ے والستۓ ہیں۔ میں اے دنا دی سہاروں برتقائم مولوی

یں

صاحب! حضرت مرزاصاح بک اس بات ورک رکآ پ فرماتے ہیں نیا جو کونیس پیا تی گن دہ یھ جانا ہے ننس نے کیا ہے ان لوگوں کی شی ہے اور راس رب سی ہ ےک مرا انی جاے ہیں مس دو درخت ہوں جشسکو ما ک نیقی نے اپنے ہاتھ سے لگایا ے..........اےلوگواتم یقنا جج دا دک میرےساتع دہ ہاتھ ہے جو اخ روف تکک جھ سے وذ اکر ےکا 0 و0

او ہما ری وی اور ہمارے جوالن اورتممارے بوڑ ھے اورتمہمار ےھ وت اور 7را تن کب کت کے دا رک ا کک و کر رت کک ان تی ان کی دک و ا ری جب کک وہ اپ نے کا مکو پورا نکر لے .-- ہس انی چاوں نلم م کرو کاذیوں کے اور مہ ہوتے ہیں اور مان کو خر و 6تت نٹ نے پیل مامور ین اورک ٹین می ںآ خ ایک دن فیصلہکر دبا ای ط رح د وا وقت بھی فیصلہکر ےگا ۔ خداکے ما مور بین کے؟ نے کے ل پیا ایک میم ہو تے ہیں ادرہچلرجانے کے ل بھی ایک موم ۔ میں یقوباا جھوکہ بیس نہ بے مو مآ یا ہوں اورنہ بے وی جا لگا۔ دا سے متلڑ وا تاراما مکی ںکہ بے تادکردو“_ (شحی گول وہ روعا لی زان جلدے ۱م ۵۰۰۴۹)

وت

دیما ی اورزمبثرار

6

مولوکی صاحب نے اس پمفلٹ میں حخرت مرزاصاح بک 2 بیہالی زمیندارکا بنا“

ہو ےکا طعددیاے۔

مولوکی صاحب کے نز دکیک دبیہالی اور زمیندار ہونا مخت قائل امحترائ بات ے۔ جرت مرزاصاح بکی نی می معلوم ہوتا سے مولوی صاح بک یکل ہی مار یگئی ہے۔ یہ اگمر انی ہم السلام کے سوا اورحالات زن گی بر طائرانننظر ہی ڈال لیے نے حضرت مرزا صاحب پر بیہملکرنے سے لہ ا ن کا شی یں ض رو ملا کرت گوا نکا قش وعناو بیں ڈو ہا انل مان کےا نار سے با ہرریار ہتا۔

حطر نی علیہ السلام ک ےکا نول کا نام ناصرہ تھا اور اوسف جو ان کے پاپ کہاا ۓ ء پڑت یکا کا مکرتے تھے اور ضر تھی علیہ السلام ن بھی ان کے سا تج ای کعحرصہ یکا مکیا۔ ولا نا! آپ کےنزدیک لو روزکار نپ ٹک دوزغ جھرنے “کا ذ رجہ سے من ہے کام دبیہات ٹیں روک رحفرتگجئی علیہ السلام ن ےگیا۔ در این کے حا تک یتصیل بوڈ تے ہہو ۓ ‏ صرفس رکا دو عالم بش بنشاودوچہاں ضر تیویصعئی صلی علیہ یلم کے پا رکتأ سو ہکی طرف مولوئی صاح بکوم تو رک کے ال نکی دم رخراطات کے جو اب دتے ہإں-

مولوی صاحب تحضر ت صلی اللہ علیہ ول مکی سیرت وسوا ک یکو یکناب دک لس اس یس ھا ہوا پا نیس گ کہ ہار ےآ ا ومو لی ححفرت می علیہ یلم نے د بیہات شس پنی نگ ارااورگا ول کے در بچوں کے سا تق بر یا تچ انیس کیا ھی پیارادد وقت تھا اور کیا ہی مبارک دہکام تھا ج اس چہاں کے بادشاہ ن ےکیا۔کگھرمولویی ابوال مشیر صاحب کے

)٢۵(

نز دیک خت قائلِ اعترائ اور عیب بات ہے۔الن کےنز د یک و جو مدکی نبوتد یہات یر باہو او درا کاباپ پر ررو زگا رہوو ولوذ پایٹ رونا ے۔ مز زنقا رین ا ملا حظ ف مانتی سک مولوی ابو الشیر صاحب نے ححضرت مرزاصاحب کےتتصب میں ان ھا ہ ورس ق رکچموٹی با کی ے۔ را ا

)۲(

اسلام

مولوبی صاحب نے ححخرت مرزاصاحب کے بارہ می ککھا ےک ہآپ نے ”من اسلا مکا روپ دھاریا'“

مولوبی صاحب !7پ کے ا سفق ر ےکی بناوٹ سے لا ہر ےک ہآ پ حفرت مرا صاحب کے لئ اپ نےفپفف کا اظہارکرر ہے اورااس کے عحقب میں تیقت حا لکو چچمار سے ہیں ۔ححخرت مرزاصاحب ین قن )کے تصر مغ تے بہت عیب جرنیل تھے ۔آپ کے طن کی مقیقت ظا ہرکر نے اورآپ کےجچھو فیلکت یکھو لے کے لے چم ذ ہل میں صرف ین اقتباس یکرت ہیں۔

9 2 ٢

مھ رحو کی دہ ایل خد مات جو اس ن ےآ رٹیوں اور جیسائیوں کے متقابلہ یں الا مک کی ہیں ۔ دو اتی بہت ہی ربی کی فی ہیں ۔ اس نے من ظم رکال رنگ می بدرل دی اودایک جد بدکشرہچ رکی یاد ہندوستان می تقائمکردی۔ بیثیت ایک مسلمان ہونے کے بللہ یکم ہہونے کے چم اس با تکا اعتزاف رر ۓ لاک کیا پڑے سے مڑےآ ریباور پڑے سے بڑے پاددگ یکو جال تیگ کہ

ر(ے)

ہلاکم تکی پیینگوئیوں مخ لوس اورک چیٹو ‏ ںکی آگ میں سے ہوک اپنا راسننہ صا فکیااورتثی کےاچاکی عرو نج کت گیا''۔ (کرز نز ٹم رکم جون ۱۹۰۸ء)

اورمولان ااوا لا مآ زاوا خپا نویل “ام رق میں رقطراز ہیں :-

کن بن بد ٹف جس کا مع رتا اور ڑپان ات دن کی ابا کا جم تھا ج سک نظ رفتراور وا زحنشی جج سک انگییوں سے انقلااب تج کے ہے ےوک س نوز نان کی کی زاس تین - می دنا کے مل میں بی کک زلزلہاورطوفان رہا۔ جوشو رقیامت ہوکرخفگان

پیرا ۶ء بش دنا یسیو ں1 تے۔ یناز فرزندان تا رح ہہ تگم منظ عم پہ تے ٹیں۔ اور جب آ1 تے ہیں دنیا جس انقلاب پیر اھر کے دکھا جات ہیں ۔مرزا صاحبکی اں رعلت نے ان کےبیضس دعاوی اورہن متقرات سے شمد بر اتلاف کے پاوجود بھی کی مفارقت برمسلمائو کو پا ںئھلیم اف اوررشن خیال ںو نان کا نک وو ا ا نامیا ےاورائں کےساترمخالفن الام کے مق بلہ بے اسلا مکی اس شا نار مرافع تکا جوا ںکی ذات سے واہسن گی نا تمہ ہوگیا۔ا نکیا یصوصیی تکردہ اسلام کےہخالٹین سے خلا ف ایک تیب جن ل کا فرش پوراکرتے رھے۔جلیں ود رکرقی ےک اس اسا س کا جع مکھلا اخترا فکیا جاے۔........ مرزا صاح ب کا لٹرچرجھ سہچیوں اور ریوں کے مقابلہ پان ےئپور می سآ با ول عا مکی سندحاص لکر 2 ہے اور ال خصوصیت میں و تارف ک ےنتا نج غھیں.. این لٹرنی کی رر وظمت چیک ددا بنا کام و در چکا ہے ہیں دلی لی مک کی کی ہے۔

(۸)

تد دا مین کہ ہندوستا نکی نئی دنیائیش اس شا نکاشأ پیداہ'۔ (اخبا رکیل ام تر گی ۱۹۰۸ء) ابآ خر بی مولوئی صاح بک خدمت ٹیل چم ٥ر‏ پاک و ہند کے ایک نا مور الم جنابم ولا ن نو رر صاح بننشوندی جچشحی ما تک ا سح الطائ ددٹ کی این رم بی کرت ہیں ٹس میں انہوں نے حضرت مرزاصاح بکی کا میا بن لغ( دی ن تن ) اور(د بی ) فتحات سے پر جہادکا ذکران الفاظط ٹُ لگیاے:- ای ذ مان پاددگیالیفرائۓ پادد یو لک ایک بہت بڑکی جماعت نےکر اورعلف اٹ اکرولایت سے چل ا کیتھوڑےعرصہ یی قمام ہندوستا نکوعیس ای بنا لو ںگا ۔ولایت کے اگربیزوں سے دو یب گی کرت یڑک مدداور تحددکی مدے سمل وعدو ںکا اق ار نےکر چندوستان یں داشل پہوکر بڑا ڑم ب پاکیا۔ تر کن کے1 سان سم مکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے امیا کے زع مین مان ہو نے کا تھملقوام کی این کےخال نت مولوی خلام ات قاد با یکھیڑے ہو گرا اور ا کی جماعت ےکہاک ا ہس کاتم نام لیے ہودوسرےانسانو کی طرح سےفوت ہوک رشن ہو گے ہیں اور ۱ کے1 ن ےکی خرس دہ میں ہوں یں اگ رم سعادت مند ہو جھوکوقو لک لو۔ اک کیب سے اس نیف رات ۓکواس قد رنن کفکیا اک ا لکوجگھا برح ضکل ہوگیا اور اس کیب سے اس نے ہندوستالن سے لک ےکرولابیت کک کے پادر یو لکوقلست دے دی“ باج زفما ںکلاں ق رآ ن شریف متریم “امب دع و رکا رخا تار تکت بآ رام با کا پتی ) پادر ےک۱ زکرم وان ور صا ح بقشمندیء ان مولوگی صا جب کےحسنوں نر فی کیک نان نے اع ےک رشن ال اذا شی ن حطرت شا اشرفٹ لی

)۲۹(

نانوی تادری شی سےت اچم برمتقمل ق رآ نکریم شا کیا ہے اورای کے د پاچ میں اہوں نے حطرت مرز اصاحب کے انیقی مرکو ںکوشرا تسشن بین کیا سے ۔کائش مولوی ابوالٹشیر صاحب اوران کے ہم مشرب علا مکوجھی ایپے بی ”مغ اسلا مکا روپ دھار نے“ کی نون لی ہوی۔

۱ج!آ پ کےل یراو زمھکرا راز پزرتی اش لو صاح بکیبھئی من تنا ای کا دیگرفرتے بھی ای“ مغ اسلام ‏ کاضمونہاغقارکرتے۔ چنا غجرو کھت ہیں:۔

ودوم

ا رماع کے مت وجود یآ نے سے پیر اسلام جسد بے جان تھا ٹس می لیقی حص مفقود ہچ یھی ........ مسلمانوں کے ویر فرقوں می ںکوئی ماع تلیفی اخرائ کے لے پیدا نہ ہوگی۔ ہاش ایک ول مسلمانو کی غفلت سے مخطرب ہوکر اٹھا۔ ایک مق رىی جدراعت ای ےگمرد جک کے اسلا مکی

صرف مسلمانوں کےعنلف فرققوں کے لے بلددنیاکی تام اشائتی مائؤں ے مت (فتنا رت اداور ھکل فلا بازیاں .یم ے۷۹٣‏ پیلشرمیرشاریسیشن یٹ کو یریم ریس لاہور) ۶

مولوی صاحب نے ححخرت مرزاصاحب کے اس عار فان با نکوا تیاکش یکانتانہ بنا ےگہ:۔ نزو وضو کل ضولھ رام ارک نکرام ا ححخرت رز اصاح بک زنک یکا ایگ ایک ححہگواہ ‏ ےک ہآپ نے پھبیشہ یی من دی یک یک یں چٹ رویں کر لق غدا جم تیتع ظر وہ جال گال ہے امرف کہ خداتھالی کے نشانات او رجحزا تکا جو جاریی وساری چےشم میں حخلوق مداکو ہیں گر پا ہوں ہی وراصصل حض تشم مصطفی صلی اول علیہ وسلم کے پاکمال ب ‏ مرا ں اش ایک فردے۔ اور ضر ت ٥ی‏ اولہ علیہ ےلم کےٹیل سے تی ہونے اور پک ذات یل خدا تھا یکی تچ ردمائی ما تک نے ےتھک ف رما تے ہیں نی سے انس فور پر فدا ہوں الس کا ہی میس ہوا ہیں دہ ہے مس چزرکیا ہوں یس فیصل ہبی ہے سب کم نے اس سے پایا شاہد ےل خدایا دوجس نے جن دکھایا وہ مہ لقا یھی سے زفرمیا ے ا اے گر از شان مز

کرام گر چہ بے نام ونثاںل ا ہت

)٢۱(

کاے! مکی اولعلی لم اکیاشحان او رآپ کت نز وور رخ ور میگ رام کرامت ونشان ماگ معد وم اور بے نام ونتا ںون بل ےگ رہ نج ا ےمج کی ال علیہ لیم کے ان چچاکروں ٹیس ملا حر ضہ بجی دو یآ نے بیہا بھی فر مایا ےکہ اگ رپ لوگوں کے لۓےمکن ہونو با تناء ہما رے یی اویل علیہ سلم کے دنیا یش کسی تی اوک ےک زا تکواع کے مننابلی بین یک لان نون کے رن ما وت کےگواہ شی کرو ۔کی وہ تھے ہندوئوں کے پا ںپھی بیجن منیں۔ فصو ںکوپ یکر قڈ الا ے لی اک ای کگو رکا انار تک اورکی رکے متقابل بر مگر اد رکھ کہ ان جج زات اور پیچگو تو لک ینظیر جو میرے باتھ پر ظاہرہوۓ اور ہو رے می ںعحمیت اورکیفیت اورشم٥وت‏ کے لابا سے ہرگز بی شک رسکو کے تاد ماش کرت ےکر تے مرچھی جا“ را خداما یک1 ون نر ل1 کااور بے تو لک ےکا وہ نے سرے اس خداکو دکچھ ل ےکا جن سکی ضببت دوسرے لوگوں کے پات میں صرف تھے بائی یں“۔

7 ۔روعا بی خزائی جل ۱۸ حخ۷۳,۷۷۲م)

جقرتمرزاصاح بکو دا تھالیٰ نے حیصف ی صلی ادڈ علیہ ولم کےٹیش سے

ایک ایا زی حصودیاے او رآ پکواپت تا ئمیری نشانوں سے بکشرت نوازا ہے اص ل یش

و مظ ذات خراحخرت رسول او کی اویل علیہ ول مکا ےاورودیشیقی 1 ین خدانماہ ںکیولہ جب غداتھا یکی گی آ پر جاووگر ہو نو

وَمَا رَمَيْك إِذرَمَيْتَ وَلكن اللهَرَمیٰ (انفال:۱۸)

)٢٢() کی یق ما گی ین ول وت جونک رک ن یعس پنگی وو کین‎ لہ فداتاٹی نے جھنگی۔اىی طرح جانبازوں نے ؟پ کے پاقجھ بر مو تک بیع تکنذ‎ آپ کے ہاج کو خداتھاٹی نے اپنا تقر اددیا۔ لی یآ پ غدانماکی کے لل ےکلیے آ کیفہ بین‎ یئ ا سمضمو نکوہفرت مرزاصاحب کے اس پر مار فکلام یس علا تظہف انیس ۔آ پ‎ فا ہی ںک ال اورتیقی طور پر غداہمائی کے ےآ تینحضرت رسول اڈ صلی ال علی ےلم‎ یں یی ماک ہآ پ نےفرمایا‎ مس یی ےج ر ری کش ورر ان ےترام‎ ندب سی غدا او را بہ میں مم رألی ظہ رای اج ا بن‎ )٦۳٢۲٣خ۸ (برائین ات یہ چہا رسس روعا نی خ: ائ نجرا‎ کہ جار ےآ وموٹی حفرت صلی صلی ارل علیہ وسلم ہی رو خدانمائی کے لئے‎ ور ینہ ہیں اورآپ میں خدراتھال یکی صفا تکا نکاس ہوتا ے۔ یں اگ رف دا کوئیں دکچھ‎ نا مکی اولد علیہ ول مکود ہکوہ یجن بات سے جوحد یٹ یس واردےکہ جس نے‎ ےد یکھا اس نے خداکودکولیا۔ ای رف رمایا:۔‎ ”وان سئلت ما خلقه العظیم فنقول انه رحمان و رحیم۔و مُنْحٌ‎ مو عليه الصلوة ھذین النورین و آدم بین الماء والطین۔و کان هو‎ نبیّا و ما کان لآأدم اشر من الوجود ولا من الادیم۔و کان الله نورًا‎ فقطی ان یخلق نورّا فخلق محمد إلذی هو کدُزٔیتیم۔و اشرك‎ اسمیه فی صفتيه ففاق کل من اتی الله بقلب سلیم۔ و انھما یتالان‎ فی تعلیم القرآن الحکیم۔ و ان نبینا مرکب من نور موسیٰ و نور‎ عیسیٰ۔ کما هو مرکب من صفتی ربنا الاعلیٰ فاقتضی الترکیب ۔‎ ان یعطیٰ لە هذا المقام الغریب ۔فلاجل ذلت سماہ الله محمّدا و‎

)٢٣۳( احمد فانه ورث نور الجلال و الجمال و بە تفرد۔ و انه اعطی شان‎ المحبوبین و جنان المحبین ۔ کما هو من صفتی رب العالمین ۔ فھو‎ خیر المحمودین ۔ و خیر الحامدین و اش رکہ الله فی صفتيه و‎ اعطاہ حظا کثیرا من رحمتیه۔ و سقاہ من عیليه و خلقه بیدیە۔ فصار‎ کقار ورة فیھا راح۔او کمشکوة فیھا مصباح۔و کمٹل صفتيه انزل‎ عليه الفرقان و جمع فی الجلال و الجمال و رکب البیان۔و جعله‎ سلالة العورات والانجیل ۔ ومرأةً لرؤیة وجھە الجلیل والجمیل۔ٹم‎ اعطی الامة نصیبا من کاس ھذا الکریم۔ و علمھم من انفاس ھذا‎ انفشجرت من صفة الرحمانیة۔و بعضھم اغترفوا من ینبوع اسم‎ احمد إلذی اشتمل علی الحقیقة الرحیمیة۔و کان قدرا مقدَرًا من‎

الابتداء و وعدا موقوتا جاریا علی السن الانبیاء ان اسم احمد لا

تتجلی بتجلی تام فی احد من الوارثین ۔ الا فی المسیح الموعود الذی یاتی الله به عند طلوع یوم الدین“۔

فا ےب ں0 تر جمہ:۔ اوراگ رتپ جچھےکہاس (نی )کین لی مکیا ےن ہ مکیں گےکدہ ران اوررتیھم سے اورا سے ( مت رسول اللرکوکھی اس وفت سے بیردوفوں نو رعطا کے گئے جک آ وخ یھی پالی اورٹی کے درمیالن تھا۔اوروہ اس وقت سے نچی تھا جآ دم اگھی وجودم ہی خی سآ ما تھا_ اتا گی نو رٹھا یں الس نے فیصل ہک اک اورنور پیداکھر نے اس ن مو پیداکیا ہودنا یا بک طرح ہے۔ لیس اس نے اس کے دونوں نا مم او راد نے نلم کے سا تھ ش ری کک لئ ۔اورخداکے ہریش یع اورفرمانبردار بھی سوقت لے گئے ۔ لیس بردونوں نام ق رآ نکریم یس چک رہے ہیں ۔اور یقیا ہمارے نییصلی ول علیہ موق اورمنی کےو رکا

(٣(

مرکب ہیں جس رح وہ اپنے ر بک ان دوفول بلند پا یبصفات کے مرکب ہیں ۔ بی یہ ت کیب تقاض اکر کی ےک اس مہ مظام جیب عطا ہو۔ یں ای وجہ سے ادتقا لی نے اےے مھ اورات نام عطا گے ہیں ۔اوردوجلال اور مال کے ور کے وارت بناۓ گئے اورائس میں وہ مکنا ہیں او ریس شما نکد ہاں اورول محبال عطا ک امیا جیس کہ یہ ہردوصفات صفات رب الع ین ہیں ۔ یں دوسب سے بت تھی کفکیاگیا سے اور سب سے مبش رت ری فکر نے والا ے۔ اللہ تھا لی نے اسے اپٹی ان دونوں صغفات میں شیک بنایا اور اپٹی دوول رتؤں

(راعیتء ریت ) شش سے وافرحصہ دیا اور اپ ان "290و سے اسے وب سیرا بکیا۔اپے ہاتجھ(ق رت ) سے اسے پیداکیا۔ یں دا یش کی ماعندہوگیاک نس میں شا بیط جو یجلریی ہہو با اس قن ہی لک ماخند ہوگیاجنس می جچ اح ہو۔

ان دوٹوں صفا تکی ط رح خداتھالی نے اس بر فرقان نا ز ل فر مایا اوراس می جلال

نایا ادراسے دا ۓے کٹل وگ لکی جج روما کا1 ینہ بنابا اور گرم پیا لہ سے سا رکی ام تکو ایک صعطا فرمابااورا لیم خدا کے شاگر وآ ححضرت لک یلیم سے انم ںکھایا۔

یں کین نے فو نشم مم سے پیا جوصفت رحماحیت سے پھوٹا تھا ا و نف نے شس ام ےتملنڈڑھاۓ جو ۱قیقت رحعیت بقل تھا۔ اور یہابتقداء سے نے شد ہر وگرام تھا اورمقررشدووعد ہو تھا جونییو لک زماٹی مان ہواک ام اروا ےک موخور کے نے اال تا ی 1 خری ایام ٹس مبتوٹف رما ےگاسی اوروارث می کال طور پر نی سکرےگا۔

قا ری کرام !ائ لممون پر ححضرت مرزاصاح بک تھی اور فیصل ہل نترب ے جھ ایک رف سیدالا اض رت فی صلی ال علیہ یلم کےاخائی بلند مق مکی وضاح تک لی ہے و دوسری طرف یغاب تکر ی ےک ححضرت مرزاصاح بکو جو پا وم ورتفیقق جلوہ مکی یکاعطاے۔

ہا ں تک مواوبی صا حب کے اعت اٹ کانلقن ےء یں رت مرزا صاحب پہ

)٢٥۵(

تقیدکرنے سے پل ان مز رگا لن امت کے دھا وی پ نو رکرنا جا نے جنہوں نے خدا نماک یکا آ یز اس ےکی بہت بڑے بڑے وکوے کے متا :

حخرت سیدعبدالتقادر جیلانّٗ نے بیاعلا نر ایا:-

”آنا الَوَاجذ الْفْرْذُ الْکبیْر بذَاته“ کہمی بی دوداحداورفردکی ربز ا ت خودہوں۔ نجزفرمایا ”لس فی مُت وی الله“ (مکتوبات امام ربافیٰ میردالف نال جلداص ۳۴۴ح بل ے٢‏ مطبو نشی نو لکشور ریو سکائپور)

ران ون 7

مین خدامم مین خدا من خرا فائم از یی و بر و مع

(فوائنرفر بد ہیا زخواج فلا فر یت جفقی جن شاہ الیم ۸۵۔پاراول ) اورنضرت منصورعلا رم کے پا رہ شی لککھا ےک :- علا کی جان اس جرم میں ٹیگئ یک دہ ال نیشن نہیں خداہوں کانعرہ لات رتے تے۔اسقول سےا نکا مطلب راکرد اتحاوذات الہ ی کے انل ےئش ای ذاتکوذا تا لی می لگ مک کے ذات ال یکا زوین نے جھے۔ (انواراولیاء یمن ۱۸. مر ریس احمجتفری ند وی ۔مطبو یھی برنفنگک پر لیں لا ہور) اع کے علاوہ اور درد پز ران اممت ہیں جنہوں نے ینہ خدانمائ ی یں خو دشرا ہونے کےاعلان یئ یں اگمرالع کے الےے دو ےا نکوخ رٹنیس بناتے ے بل ان کے اع روعا بی متقام کےآ ینہ دار تھ نذ مولی صاح ب کا حخرت مرزا صاحب پر اعت راخ ش تخل بجھوٹ او رن وعنا وکا 1 دارے۔

عو کر لا

)۳(

امام م۳ ناو دامام ہدک

مولوبی صاحب نے حطرت مرز اصاح بکیا صب ذیل عبارت اور در نج ذ یل شع رو اخت رات سکانشانہ منایا سے ۔حخرت مرز اصاحب فر ماتے ہیں- نجس چ کرت ہو ںک ہآ ناغم ‏ ایک ہےل ہا لمع سے بے کر سے “۔ (داٹح البلاءروعا یز انی جل د۱۸ صفم۳۳٣)‏ نز نے کم ہلا ئۓ ست یر رآ نم : ین است درگ بیانم وا ہت وس سس ترجمہ: میس ہروق تگو اکر بلا یس سی رکرتا ہل اورییس ا گر یبن کے اند راپ مین کے سا تح سو مین چیٹاۓ پھرتا نہوں ۔ قا ری نکرام! بی ھولوکی صاح بک الک ہی بدد ان سے تی ےکوئی سور الما کی آ یت کاب پہلاصہ لأتَفْرَبُوا الضلوة اڑھد ےک نماز کے ٹر یب تجاواور اگ صہ و انم مُشکاری کے دک رکوگھوڑرے۔ بر شع جو مولوبی صاحب نے یہاں اخترائش کے طود پر می ںکیا ہے اس سے پیل اشعا رکا ممصمون مت ال یک یکیفیات مم شضتل سے اورضفرت مرزاصاحب نے ایا ےک آ پ گا نکشنتشانحب خد ای شائل ہیں اوداس ز ماشہ میں ا کا رزاایمشقی ےنت لپ ہیں۔چنا نآ پفرمات ہیں:۔ افو ہش نک ازولدار اصعیت داردا درم اسرار

)٢ے(‎

دلدارکی ددا یں جواسرار کےطور پیش پیداکر نے والی مات اپنے انددرمصتی ہیں۔ کشند اون یک ددود ہزار ارقیل ناویروں زار پافں کے فدائی صرف ایک ددیاہنرارازسان بی ہیں بللہااس کےکشت بے شر ہیں-

ہرز مانےشسیل از ہو است ز٤‏ روے اور مٹہراست

ہروفقت دہ ایک نیاشییل جا تا ہے اس کے رہ کاغاز دشہییرو ںکاخون ہوتا بق

اس سعادت جو او متا رفت رفت رسیدلو ہت ما سعادت چچوککہ ہھاریی مت می ںی رف رفتۃ ہماری فو ب تگھی1 تی۔ ان سے اگلاشعمریرے کم بلاۓ ست یر رآ نم ص مھنع است درکر انم اس شعم می نے میدال نکر بلا کےکٴرب وبا اوراس میں ۰خرت مین ری الڈعنہ کے نات قدم او رق انیو ںک یکیفیا تک طرف اششاد ہکیا ےکا نکیفیات شش سے ال زمانہی لآ پگذ در سے ہیں ۔ بی یہہاں نرائس مییرال نکر بلاکا ذکر سے تحضر تسین رشی الڈرعنکا۔ بللہ بردونوں نام مستعار نےکرلبطوراستتعارہاستعال کے ہیں ۔اورشحعروادب مل استعار ہکوظاہ رپیگمو لکنا جائمزنئیں ہے اس ط رح شع میں اون“ گر پیا ن'“ کا استعارودل کے لئ استعا لکیاگیا سی کحضرت مرزاصاحب نے ایاشم کے ایک اورشع میس مکی لفظ انف رم اراس کےمتنوں کیا تی ن بھی فرمادی ہے فر مایا شو مض ہست ہر نے تا ے تج رای کم ببانے رر ١ر1‏ رھیرے اندر ہروفن ت شی خداکا ایک جوں 0 92ھ

سا ہمتدرے۔

(٢۸)

پیں ان اشنعار گر پان سے ھراونییش وک رن کا گلانییں پیش خدا سے سھوروہ وی ےس میں حضرت سن ری اولرعنہ تی ےکشۃکان حب مدکی عبت نز و کیو برارء لاکھ پارشھی ہہوئی ے۔

شمعرو او کا بخاصہاورن س ےکہ جا ےکی زبان کے بوں ان مل از اور اسنتیارے اتال ہو تے ہیں اوران می بقو لی شا حر ے

نکوچا ندہ جوالیکوکنول کے ہیں

حخرت مرزاصاحب نے اپننے اشعار یں روعش خدایس انی مشعلات وتکالیف کے بیانع کے ےکم بلا او مغ اور یپا کے استار ہے ائی ط رح اس تال نما ئۓ ہیں۔ ش سط علا ملا وگی نے اپنے ام شع می اتال فر ما ےک ے

کر بل ۓےعصعم واب ننس رتا پا نے من ص رم کش ور ہ رکوش جم راۓ من

کہ میں شیک اکر ہلا ہوں اورسراپا تن محبت ہہوں اورمیرے دل کے ہ وھ میں یڑ وں سیر ناک ہوتے ہیں_

اس شع می ںکر بلا او رمع کے استتھاروی سے مرا دمیبرا نکر بلا کےکرب و پلا اور یع سے حطر ت بین رصھی این دع کی امنققاممت او رق انیو ںک یکیفیات ب یکا اما رقصور سے شک عفر ت من رفضیل تکا دنو یکیاگیا ے۔اوردل کے لے مع راک استعارہ استعال کیاگیا سے ان استعارو ںکوظا ہر پیگھو لک کےا نکون چا تقر ارد ین دالای ا نکی وج ے صاحب شع رو ہرف اعترائش بنانے وا اکو گی چابل بی ہوسلنا ےک جح س وع داد بکا او راک یی با چم راپ کور باشن ہوسا ے ججود نکی رات بی کھتنا ے۔

چھا ںہ ککتاب داٹح الا ءکی برکورہ الا عبار اتکی سے جس بر مولوی صاحب

نے اپ اعترائ کی انی ہے و اس بیس مولوکی صاحب نے بددیانقی سےکا میا اور

)۳۹۱()

ادنعوری عبارت مل 1 ہے او را عپار تکا پیں منظ رآ یکہیں تایا تا رین اگ راس عبار تکا سیاقی وسباقی پڑھیس یقت حال دا ہو جا ۓےگی لین یہاں ا خصببل میں جا اخی رم آ کی خدمت یل صرف بیعت لکرت ہہ ںکبمولوبی صاحب نعل تاور فادکی غض سے اسے جن ہائی متلہ بنان ےک یکوشش سکیا ہے۔ بت حضرت مرزا صاح کی ۔ بث اس موعو دک دم ہدیی کے مقا مکی ہے جس کے ارہ بیس ہی مولوکی صاحب اوران کے رگ عقیدرہ رک ہی ںکہ دوسید الا نمیا صلی اولد علیہ یل مکا خلیضہ ہوگا اور نی ہوگا۔ جیما کرش صفیات می ہم در جک رہ ے ہیں ۔ یں لیت لرسولی اور نی الد ےس دوصرے کے مقام کا موا نکر نا اورا سے جز بای مستلہ بناناء نہ پی اکر نی نو او رکیا ے- اہلل حدیث کےم“شبور نا مور عا نو اب صد لسن مان صاحب نے اپ کاب کرام کےی ف۸۹ تضرت امام تاجن سی رب کیا ببددایت دد کا ے: ”ون فِیٰ ہذہ الام خَلِیْقَةعَيْمِن ابی بگر وَ غَمَرَ“ کہاس امت میس ایک خلی الما ہوگا جوضرت ابومکڑاورححفر تع بھی الضل

ہوگا۔

آ نے وانےمہدی کے پارہ ہی فص اکم کے شار جن عبدالر زا قاشانی بیان را می نت ”الْمَهْدِیٌ الُذِیْ يَجِیٰیٌ فی اخر الزمَان فَإِنَه يَگُون فِیْ الخکام الفرْعِتَةتَابِعَ لَمْحَمَدٍ صَلی اللَهُعَليه وَمَلَم و فِی المَعَارِفِ وَالْغلوْم وَالْحَفِیْفَة نون جَمِیْعٌ الالبيَاء وَالاؤلِیاءِتَابعیْن له فُْهْمْ ۰ 0 (شرح فیس اکم از عبدلرزاقج شا ملین مصضفی ا یچھی مص یف۴۷۴۷ ٹم ۴ی۱۰۷۷ء)

(م)

ماما دی علیہ السلام جآ رکز مانریش ہوں کے چچوئکہ ودا ہکا شرگی مس1 تحضر لی اشعلی دم کےتائع ہوں گے اس لے معارف اورعلوم اورتقیقت بی خمام کے قمام ولی اوری اس کےتابع ہوں س ےکیونکل ا نکا اع ن1 تحضر تمکی اولرعلیہ وس مکا ان بہوگا۔

ہمارے نز دیک حضرت مرزا صاحب ودی مہدی ہیں جن نکی آ مدکی حضرت صلی ار علیہ یلم نے پنپگوگی ف ماک تھی ۔ اس لے ا نکا ودی متقام ے جو انی ںآ تحضر ت لی ال علیہ یلم نے عطا فر مایا تھا۔ اور ا سکیتش رز رگان المت ن ےگا۔

آخ می ہم مولوکی صاحب سے بیع لکرتے ہی کہاگ ہپ نے بیم لین چا لاکی اورشرار تک خرن ویش ا ٹھاا ورا سے جن ہا تی متلہ بنا نظ نی تھا تا نمی سکہ

ان آپ کے پا کو ن سیآ .یت ق ر1 میہ ہے ںس میس اللچل شانہ نے فرمایا کہ رت امام سن علیالسلامالل ہیں تام اخیاء ے۔

۲۔ سی حدی ٹچ میں رسول اکر صلی اللہ علیہ یلم نے فر مایا ھکہ اما نین انل یں قامانیادے۔

ہ2 این نے بھی خودف مایا وکہ و انل ہیں تام اخمیاء سےسواےآ کذرین صلی ای علیہ یلم کے۔

۴۔ یاباقی آ ئھہابل بیت یل ےکی امام نے ف مایا ہوک ایام ین األ ہیں قام امیا سابپشہ سےسواۓ رسول اکر مکی ول علیہ یلم سے۔

یں ج بک کآپ پرکورہ الا معطلو پوت م ہیا نی ںکر ت ےآ جھم سے با تکر نے کے مھا کڑیں ۔

ات ور

2-7ص

۰ ان

)١۱(

شیج کال

مولوکی صاحب نے حضرت مرزاصاح بک یکتتاب داع البلاء کے ای کممون میں سے نجس میں عیسائیو ںکوخاط بکیاگیا ہے ایک فقرہ ایی کک اسے اندھا دح ند این اعتراش کانشانہ بنایا ہے۔اود بیہا ھی اپٹی روابقی بددبانقیٰ سےکام لیت ہوۓ جہاں نخرت مد مصطلی صلی اوہ علیہ می مکا ذکر تھا ا ٹھوڑ دیا ہے۔ جوعبارت مولدکی صاحب نے اپے پچفللٹ کے سے ابر کیا ےوہ می ے:۔ پل و سا یا ۲ (داٹح البلاء روعا ی شزائی جلد ۱۸ص م۳۳٣)‏ معززقا رین اہم یہا ںحرت مرزاصاح بک مہ رآ پک خدمت یس ٹیل کرت ہیں جس سےآ پ انداز و لگاگی لک حرتت مرزاصاحب اص لضف اپنےآ تا وموٹی حضرت ارس شمرمحصط فی صلی او علیہ ےل مکوج یق ارد نے ہیں اورا بی شفاع تکوا نکا سا اور لق ارد پتنے ہیں۔ یہا ںآ پ عیسائی پادد یو ںکوخاطب ہ کہ بیرف مار سے ہی نک اب د بنا 5.- 5 کی دای بلندکرن چھوڑ وک و وتہارے لس یش کی شفاع تن ںکرککتا۔ میرے ےآ ہیں تیقی تفع رت صلی اف علیہ یل مکی شفاعت لعییب ہو سے۔ پا ٹا ات نتم بقہناجھوک ہآ ج تمہارے لئ زاس کی کے اورکو یع یں پا شا 1 تحضر تل ال علیہ ےلم اور نٹ 1 حضرتسکی اولرعلیہ یلم سے جدانڑیں سے ہا سکی شفاعت درتقیقت ؟ تحضر ت صلی اویل علیہ وم مکی تی شفاعت ے۔

(۲)

اےعساگی مشٹ راو !ابر بناا م تکہو۔اورد یھ وک جم ٹیل ایک ہے جوا کیا سے ڑم کر ہے۔.......او گر بیں اپٹی طرف سے یہ با تی ںمکپت ہوں تو یس مجھوٹا جہوں لج ن اگ بی سماتق اس کے مد اک یاگواہی رکتتا ہوں تو تم مرا ے مق ہرم تکرو۔الیمانہہوکئم اس سےلڑنے وا لن رواب می ری طرف دوڑو کہ وت ہے ہوک اس وقت مہرب طرف دوڑتا سے می ا سکواس سےتشیرد تا ہو ںکہجو شی نطوفان کے وقت چھاز بر بیکیالین جوفس ھکیس متا یس دک را ہو ںکہ دوطوفان یس اپ نے شی ڈال ر ہا ہے او رکوگی پچ ےکا سامان اس کے پل نیس ۔ چا شف یش ہوں جواس :ضف کا ساریہوں اورا کال جت سکو اس زمانہ کے اندتعوں نے قول نکیا اور ا سکی بببت بی تق رکی مجنی حضرت مر می مکی ال علیہ یم (داٹح البلاءروعا ی شزائی جلد ۱۸ رصفم۳۳٣)‏ اب د کین ! مولوٹی صاحب ت ےم ط رب بددماش کرت ہے یناث پیداکرنے کیکوشن لک ےک ہوا حضرت مرزاصاحب اپے 1 ا ومو لی حضرت ھرمصطفی صلی ال علیہ کی ہا خو فی بین بی ہیں۔ معززقا رین ! حرت صلی ارڈ علیہ لم بی اصصل ہ نیقی اورکائل ضف ہیں۔ بجی حضرت مرزاصاحب نے دانع فر مایا ہے۔آ ‏ پک ای شفاع ت کا ذک رہ آپ نے مو ںبھی بیان فرایاکما۔ سے لے و زا نا ےا نع ےن افا رن بس جائوں اس کے وارے مس پاخدا بی ہے جزفرایا:۔ دش رشع سے لے : 70 -- ۳؛“ ت ‏

(۳ہ)

ہوک ہگو یا خداااس کے ول میس ات اہواہہواوراا کی تام انس حییت ھ رکم بال پل یل لا ہوی ہی پیداہوگئی ہو۔اورا کی رو پالی یر مداز ہوک خدالکی طرف پہ لی ہے۔اوداس ططر قرب کے انچائی نقطہ بر جا کی ہو۔اودرامی طرح ضف کے لئے بھی ضروری ےکمشٹس کے لے دہ شفاعع تکرنا جاجتا ے ا سک ہمدردگی یس ا سکادل پا سے الا جات ہو ای اک یریب اس پش طاری ہوگی-اورگویا شرتینقی سے اس کے اخعضاء اس سےمعدہ ہوتے جات ہیں اوراس کے جواس منفش ہیں۔اورا سکی ہعدردی نے ا ںکواس متقا متک جاتچاا کہ جو باپ سے بڑھ گراورماں ےپ ولراور پر وص ےا تی ول ال مال لا انا ا کرت اوت کن متام سے جنفت سے اوردوسرکی طرف ناسدت کے مقام سے جنقت نب دونوں پلہ میزان کےاس بی مماوی ہہوں گے_ شی وومظہ لا ہو تکام لبھی ہوگا اورمظہر با سو تکاع لگھی اورلطور بر ز رخ دونوں مالتوں ئل وا تح ہدک ۔ اس ظر 0

اسی مقام شفا ح تک طر فت رآ ن شریف میں اشثار ور رآ تحضرت صلی ال علیہ یلم کےانسما نال ہو ن ےک ششان مم فربایاے دنی فَحَدلٰی فُكَانَ قَابَ فوْسَیْنِ از آفلنی شتقی بی رسول خاکیطرف چٹ عاءادر چہا کک امکان مش ہے دا نز دریک ہوا۔ اورش رب کےتما مکمالا تکو ٹکیا اور لا ہوٹی متام سے پورا حصہلیا۔ اور مرن سو تکی طر فکال رج عکیا۔ شش عبودیت کے اننائی نقتک اپ ےنیل چیا اور بش ریت کے پاک لوازم مشنی بیفو کی ہعدددی اور

() عبت سے جون سولی کما لکہلاتا ہے پودا حصہلیا۔لبذ ایک طرف دای عبت یس اوردوسرئی طرف بی فو کی محبت می لکمال تا مکک ایا یں وہ و کال طور پر خدا سے قریب ہوا اور پچ رکال طور پر بی نو سےقریب ہوا۔ اس لے وولوں طرف کے مسا وگی تقر بکی وج سے الما ہوگیا یراک دوڈو موں میس ایک خط ہوتاہے۔لہذ ادوش رط جوشفاعت کے لے ضروری ہےاس میں پا یگئی اور غدا نے ا کلام یں اس کے ل ےکوابی دک یکم دہ اپنے ہیا فو می اور اپ خدا ٹیس ا یےطور سے درمیان ہے علی اندوڑ ووٹوسوں کےدرمیان کے اور چون دا ےحب تکر نا اورا سکی محبت می ا مقا مقر بکک بنا ایک یمر جوی خیرکواس پراطلا نیس ہیکت اس لئ اتی نے۳ تحضرت صلی اللہ علی ےبلم کے اپےے افعال ظاہ ر کے من سے خابت ہوا ےک1 حضرت صلی الل علیہ یلم نے درتقیقت تام چیزوں بر خداکواخقیا رک رلیا تھا او رآپ کے 0 و وہ کیعفمت امیر تی ہوٹ یھی 1 گویاآ پکا وجودغخداکیخکیات کے پورے مشاہدہ کے لے ای کک مدکی طرح تھا۔ خداکی عبت کا مہ کے خارجس قر بقل سوج سکتی سے ووقرا مآ تحض رت لی اشعلی یلم میں موجور سے _'“' ا ف رشچنزاردوجلراو لشا رو۵ ۔۱۸۲۱۸۱) 0ھھھ۶2000+ شش سکی طرف حضرت مرزاصاحب نے س بک 9 یکل ئن ا کے ےس ری اوغرن اور کون بجات پاجالی۔ صا یذ ا چھا ہواکہاس اعت راخ کی بروا ت1 پلوشھی شفاعت کے یی ممنو کا عم وگیا۔آ پ سذ امیدننا مان ببت سے لوگ اس سے فا ند داٹھاتیں گے۔ کو کو ہر

)۸۵(

لام ا نس سکائل

ححخرتمرزاصاحب فرماتے ہیں خدانے اس امت میں س ےک موعو رکنیا جواس بیغ سے اپٹی قمام شان یس بہت بے کر سے اورائس نے انس دوس ےت کان خلام اج رکھا““_ (داٹح البلاءروعا ی زان جلد ۱۸ رص فم۳۳٣)‏ 07 ان ھ ریم کے کرو پچھوڑ و اس سے؟ہترغلام اچ ے (دائح البلاءروعا می شزائی جلد ۱۸ ر۳٥)‏ ال پرمولوئی صاح بکواعترائش بر ےک حطرت مرزاصاحب ن ےکچ ا صرکی علیرالسلام سے مقام اورشان ین اص ہودن ےکا دوٹ یکیا ہے۔ پچ رآ گے اپنے رسالہ کے م ی٣ب‏ مولوی صاحب نے عخرت مرزاصاح بک یکتا بت حقرققۃ الو یکا را قباس در عکیاے اور اس پر امخترائش کےطور پر ب جوا ن پان ھا 6 ہہوں سواۓ کے “...ا قباس حصب ڈہل ے:۔ نے فو بی ےک اس نے اس فد رئجزا تکا ددیا روا لک دیا ےکہ پاتشتاء ہارے بی ص٥کی‏ علیہ ویلم کے پاقی قمام ایا ہوم السلام میس ا ن کا وت اس کشرت کےا ت ری اورشی طور بر مال ہے اورخدانے اپٹی تحت لو ری یکر دی ہے ادراب چا ےگوگی قبو لکمرے پاشرکر ے“۔ ( تحت الوقی ۔روعا می خرزائی جل ر۲٣‏ م۱ یے۵)

)١م۹(‎

قا ری نکرام ! مولوی ابو المشیر صاحب نے ال نت مرو کو انچائی بھ یا ککل فکفر کےےطور پٹ کیا ہے۔ ہم مقا رین بر خوب اٹچھی طر وا کم د ینا چا ہی ںکہ برمولوی صاح بک دیباجینحلم وافزاء ہے ججیاکہکوئیخف ان ہز رگان امت پر کر ے جن کے ام ذ یل می ترک میں گےء او بچھرا نت رات اورفرمودا کو کفرقرارے۔ چنا غی قرآ نکریم اوراعاددی- بد ےکی رشن مس امت یس خظاہرہونے وانے مبدی کے تحلی عارفر بای حوب انی یدع بدانک ریم جیلا یف ماتے ہیں:- خھاس نے مرادد ہن سے جوصاحب متام شک ےا ور ہکا لکی بلندی یس کال اعترال رکھنا ے“۔ (انسا نکائل (اردو)۔ باب ا۹ہ بد علی السلا مکا ذکری٥نے‏ ۵ئ س ایی کراب ) رگیارہوبیں دی کےمشو شیع بل علا مہ بات گی اٹ ی کاب بھارالانوار می ںسککعت ہی ںکحخرت امام با تقر علیراللام نے فرمایا:۔ ”يَفُوْلُ رالمَهْدِی) یا مَعْشْر الخَلابي الا وَمَن أَرَاد ان يَنظُرِلَی بْرَاهیْمَ وَ اِسْمعِیْلَ فَھَا انا ذا إِْرَاهیم وَاِسمعیْلُ اَأَوَمَْ ارَاد اَنْ نظ لی مُوملی وَ يُوشُع فَھَا آنا ٥ا‏ مُوْمی وَ یُوْضَع الاو مَنْاَرَاد اَنْ

و ور ئئم۔ ٌ

ُنظرَإلی عِیْسلی وَ ھَمْمُومَقَھَا نَا ٥ا‏ عیْسلی و فَمُوْهاََأَوَمَنْ

َرَاد ا مُنْطر إِلَی مُحَمّدٍ و امیر الْمُوْمِییْنَ رصَلَوَاث الله عَلیْیم لھا 00ع خلی لعل ئل و ابو نَا ( بھارالانوارجل إ۳ /صٰ٢۰٣)‏ 2 جب امام مہدی آ ت ےکا تق یاعلا نکر ےگ کہ اے لوگوا اگرتم ین 2 ابرائیاورا ایل کور بکمنا چا ہتا اذ سن لن ےک میس بی ابراشھم اورا ایی جہوں۔ او گرم یش ےکوئی موی اور یش کو دناچ ہنا ےون ل ےکہ یس بی مز اور بش ہوں ۔اگرتم

)٥ے(‎

یس سےکوئی شی اورشمحو نکود نا جا تا سذ من صٌٌ" ۸/۰ ارم یس ےکوگی شھ لی اوڈعلی سم اورامی وشن ( کو د بنا اتا ےن سن لن ےکج لوا سیا یراد مال وشن می دی ہیں

ای طرح ححضرت شا وو ادا پٹ یکناب انی رکٹ ر ین مر ما وت

”َيٌلَه ْنَع فِیْہ نوا سد الْمرمَيِیَْ صَلى الله علیہ وَمَلمَ و يَزْعُمْ الْعَامَةَنَه إِذَا نَزَلَ فی اض کان وَاجدا مِیَ الم کل بَل ہُو

ک امھ ؟ ۰ ڑ۔ جو یں او و می اج کی را وی کی یں ا ا یح روش شرْخ للاشم الجّامع المَُحَمَدِیٌ و نسُخة مُنتسخة من فشتانٗ بَينةُ و

ین اَحَدِ مِن الام“ (اشیراکی رصسے۔ رین برل شجور) یآ نے وا لےموعودکا بین ۵ئ9 میں سید الین صلی ارلرحعلیہ لم کےانوارکا انہکا س ہو عامت النااس با نکر تے ہی ںکہ جب دہ موودد یا م۲س کش ریف لا ےگا تو ال سکی شی یجن ایک امت یکی ہی ۔اییا ہرک نی بلکہرد وق اسم امم می ہ کی پور تش رج ہدکا اور یکا دوسرا نے (۱۸م 00 09 )٦٢‏ ہوگا۔ بیس اس کے اور ایک عام اق کے درمیان بہت مے ار ہوگا- پچ رشح فصو الیک میس امام مہدری علیہ السلام کے با ہم سکھھا ے:- ”َلمَهدِیْ الَذِیْ یَجِیٔیٌ فی اخرِ الزمَان فَإِنَهيكگُوْنْ فِیْ الاخکام القرْعِتَةتَابعَ لِمْحَمَدٍ صَلی اللَهُعَليه وَمَلَم وَفِی المَعَارِفِ وَالْغلوْم وَالْحَقِیقَة نَکُوْنْ جَمیْع الْبيَاء وَال‌ْلَاء تَابعيْنَ له کلم وَلايتَاقَض مَا ذَكرْنَاهُ لن بَاطِنَة بَاطِنُ مُحَمّدِ عَلَيْهِ الصّلوة وَالسّلامُ“۔ (زشرح نس لالم مصطف یی ھی مصر ی۷۴۷:م) شنیآ خری ز مانہ بیس جوامام ہد یآ نیس کے ووا کا ش رات می سآ فضر لی

لوگ

علیہ وعلم کےتائ نہوں کے اور معارف وعلوم اور تقیقت ٹل تام اخمیا ءاوراولیا ان کے اع ہوں گے۔اور ہہ بات ہمارے نرکورہبیان کے خلا فیس ہ ےکیونکہ مام مہدر یکا ان حعفر فی صلی او علیہ لمکا پان ہوگا۔

یش برمتقام ہے امام مہدر یکا ج ز رگان سلف نے ق رآ ا نکریم اوراحاد یت نبو بی ری یس میا نکیا ۓگ مولوکی صاحب ایے مدکی مہدو بی تکو جوا مق می مکاعائل سے نصر فبھوٹا خر ارد ینے ہیں بلہراس پر طنرکرتے ہیں۔

مولوکی صاحب ادنیا اوھ سے اوھ ہ تی ہے۔ اڈ انی مہ ٹل تے ہی گر یہ بات دلی سے بکال دی ںکہ ہجار ےآ ا ومولی عفر مم صفی صلی ادلعلیہ ول مکی بضشگوئیاں جائمی ںی (خحوذ اڈ یں جوبھی مہدری معبودہے دواسی مقام بلند یر فائتے ہے جم سکی تل اوب بیان ہہوئی کیک دو حر ئومھصلقی صلی اولحلی یل مکانکس ںای ہے١اوراس‏ کاباع نکی اولدعلیہ لمکا باعطن سے جددہم دکمان سے برت ہے۔

لک ڑج

)١۹(

رت م ریم او رتفضر تی

عحخرتمرزاصاحب فرماتے ہیں:۔ ”نجرابین احع یہ شی اول خدانے مرا نام مر رکھا پچ راس میں صدر کا روں پھو جگنے کے بحدرا سکانا می رکھا““ (طریت: اتی روعانیخم:ائی جلد ٢‏ مخ ۵ حا شی) مولوکی صاحب کے نز دیک یی بہت بی تال اعترائ بات ہے۔ بلہ ال کا کو قامل اعتزائ بنانے کے ممواوبی صاحب ت ےم یھ یمیس ےکا م لیا سے اورا ھتاس راکش دیا۔ خ نی ا کو2 لاخیارت کے ضرعم راسا ضف ک رز ا ون گوبا مر بھی حاات ےمکی پیدراہ گیا اوراس رح مل خ دا ک کلام یس این می مکہلایا۔اس باد ہش ق رآ ن شریف می پگ ایک اشارد ہے اورد+میرے لے لور پیچگوئی کے سے شی اود تھا یق رآ ن شرییف میں اس امت کےتتض افراوکو مریم ےتید ہے“

ا ارت ے پالگل وا ً2 کت مات ا ۓآ پکوم ری قرارڑیں دےر ہے جوا نکی بن یھی اور رج سےتقر با۹ سوسا پل نا صرہمیس قیام پا مینجی۔ بللہ خرت مرزا صاحب ق رآ نکرم کے ایک عار فا ہمشمو نکی طرف اشار:فرماتے ہہوے عر بی حال تکا ذکرفرمارسے ہیں اور بیگھی وان فرمارے ہی ںکیق م7ن شریف اس امت کےکتض افرادکومریھم سےتخبہہ دبا ہے۔ لیں بیہاں ضرت ری کی مال او تخل کا ذکر ہے۔ق رآ نکریم نے یشکمون الس رم بین افرمایاہے۔

)ھ١(‎

ضرّب اللہ مَْلالَلَذِیْنَ کفوُوا امْرَاتَ نوح و امْرَاتَ لوط گانتا

تخت عَبْلَیْنِ سن عِبَادِنًا صَالِحَیْي فُخَاتهمَ فلَم يُغِْيَ عَنْهمَا مِنَ الله شَيْنَا وَقِيْل اذخلا النَارَ مَع الأَخلِیْنَ ۔ تڑجھہ:۔ ال کافروں کی 70 قپھَ,""0لی" بیو لو ںکی ماغنر بیا نکھتا ے۔ وہ دطفول جمارے کیک بندوں کے کا میں گر ان دوٹوں نے ان دونوں (ہنعروں )کی خیا فکیاعی اور و دونوں ای عذ اب کے وفت ان ( یو یوں ‏ کے یکا مث گے۔اوران دوفو ں عورنؤں ‏ ےکپاگی تک جنم مس چانے واللوں کےسا تق بھ یپ نم میس بی جو وَ ضْرَبَ الله مَفَأَلَلِّیْنَ موا امْرَأأتَ فِرعَوْنَ إِذ قَالَٹ رَبَ اي لِیٔ عِنْد ث بَیْسَا فی الجَنة و تَجَييْ مِن فِرْعَوْنَ وَعَمَلہ و تَجْيِيْ مِن الْقَرْم انطلتا اورمومنو لکی حاات الڈدفرگو نکی جو یک ماضند جیا نکمتا ہے مہ اس نے اپیے رب س کہ اکہاے مفدا! و ان پاس ای کگھرجنت می میرے بھی بنارے اور بج کو فرون اور کی بداتمالیوں سے پیا اوراسی ط رع کی )اقم نبا تددے۔ میم ابَْتَ عِمْرَانَ ای اَخضَنث قَرْجَھا َقَعُمَ یه مِنْ رونا رَ صَلَقَثُ بکلِدتِ رَبَهَا و ك٥تبه‏ و کان مِنَ الْقِِىیْنَ ۔ (اترم:۱۱٣۱۳)‏ اورپ راررمومنو ںکی حاالت مری مکی رع با نکرتا سے جوعمراا نکی یئ نے اپ نا مو ںکی تفاظ تک اور ہم نے اس می اپنا لام ڈال دیانتھا۔اوراس نے ا کلام گی جواس کے رب نے ا پ نار لکیا تھا تب کرد یھی ۔اوراس (خدا) کیاکتلوں پہ اع ای ارات رت لی نت کل کان ےسا کا مقام حاصس لک ری تھا۔ انآ بات میں اتی نے مومنو ںکی مال دددی عورتوں سے دی ے_

۵۱( ]یف رکو نکی بیوکی سے اورم ری بنت عمرائی سے ۔الن مولوکی صاح بکوم ریم ہونے پہ سخت اعترائش سے اورم ریم ہونا ان کےنز دیک ھہت بی برک بات سے۔کوکی اگ انیس می مکہہ دےاذ شایآ پے سے باہرہوجامیں اورال سکاسرپھوڑ ڈائی۔ لبذااب ان کے لے صرف اورصرف دوبی را تے ہی ںکہ ما فو بای ےآ پکوفرگون کی بیو یکی مال دے میں ۔ ام نس ذ بچرمیہالن دوگورت کی رع ہیں جن میس سے ایک رتو کی ہو یی ادردوسری حضرت لوط کی بہرحال نی بات ہ ےکہ ہیں جنزلہ

اتی جہاں کک مریم ہون تلق سے یذ خداکی خمائ عطاے جوا نکائل مومنو ںکو عیب ہوٹی ے جواس سقر ب ٹیل ایک اع مقا بن جاتے ہیں اور لئے بکللت رَبَا و نہ“ کے مصداق ہوک رکال طودپرقاشین کے زمرہ یس1 جاتے ہیں ۔ مر 7070 ھ7 روخ مشی مرکال ریخا ط کا سمل جاری ہوتا ےا ایس ایک نی

منزلل جا ی سے صے متا م می ا عیسو یت سے ہیں ۔ چنا خیرات می ںپین مز رکوں نے اس مظام کے کے دجو ے کے مخلاحطرت ٹچ مین الد بین اج رکا دگوکی کہتم شور ےکہ رپرم ریں القں ٹر مث ے رم سم یریم مر مس کی ہیل خشم ن ق نت ےا حاکن ے۔ می ںکپتانئی ںین درتقیققت میں دوس اتی ہوں ای رب شادناز اتد بوی خر مات ہیں:۔ می مر یمم (دادان شاو موا نا نیا زاصر ےم( و ےہ ۱۳۹ ۔۲٢)‏ کہ میں ریم سے ہو نے والانکی نہوں _ یں مولوی صاحب رآ نک ری مکی ا الیم کے1 مینہمیس اپنی یت دسی لیس اور رمریم اور نی نے وا لے مق رین ایب ینک طنرکرتے رہیں۔

)(۵٥(

مہتاللہ

ححخرتمرزاصاحب مات ہیں:۔- خدانے اپنے الہامات یل میرانام ہبیت انی رکھاے “-

اپ رولوکی صاح بکواعترائش ےک حخرتمرزاصاحب نے اہنے دنرنا مول اور صفات کے ذکر کےسا تسا تح ای ےآ پکو ہبیت الڈدشگی تر اردیا ے-

بیلھی ابیابی اعترائش سے سے خود ہما رے؟ تا ومولی حیصف صکی اولحعلیہ لم ردفرمار ہے ہیں اور تار ہے ہی ںک یر یکو بیت الد ےکشحیہ د ینا صرف نا چان ینیل ہراس انان کںنل وشر فک موجب ے۔ چنا مآ تحضرت صلی اود علیہ ویلم نے خود حضرت کل کو یت الد ےتشلیہہ دی اورظر بایا””يا عَلی نَا انت بِمَنْزلَة الْكَغبَة“ کہ ےکی فک کی طر‌ے۔

(فردوں الا خہاردیلھی جلد ضف ۰٢‏ امناشردارککتاب الحر ی ) کو می کر

)۵۳(

مرا سور

رت مرزاصاح بکا ای ککٹشف ہے جآ پ نے اہوں مان ف ربا اکہ:- کے ائے نٹ بوسیدڈی نعل مکجراس ونم“ ( ارت نف ۳ ۔روعاٹی انی طجادے ام ے۲۴۵ ءاش ) مولوبی صاح بکو براعتزائش ےک ححخرت مرزاصاحب نے خودکو ٹر اسووقراردیا

قا ری کرام ! کش تی رطلب ہوتا 2 جا اق رآ ا نکمم میں الد تھا ی فر مات ے۔ لغ تَر اَؤ ال سج لے مَنْ فی السُلوٰتِ وَمَنْ فِیٔ الزض وَالِمْمَرَالْقَرَوَالنحَرْم : (الحج:۱۹) 2.1 اک اک جوکوک یھی آ سان یں سے ووایڈدتھا لی کےحضسو رح ہکرتا ہے اوراسی ط رح جوکوکی ز ۳ن بس ےاورسور بھی اور چا ن یھی اورستا رر ےکھی ین حضرت لوسفعلیالسلام نے دیھاکہ:۔ أَحَدَ عَضَرَ كُوْکبا وَالشْمْس وَاْقَمر رَأٰننْهُمْ لِیْ مجِدِیْنَ (یسںف:۵) کیگیاددستارے اورسورخ اود چا نآ پکوججد :کرد ہے ہیں- ا بکوکی مولوئی ابوال مشیر صاحب جدیرا مقر اس وقت ہوتا تو ححضرت اوسف علیرالسلام پا کش فک وج سےنہ جا ےکی اکیا پچبتیا لکتتا۔ او رآ پ پر الو ہی ت کا دگو یر ار ہو نے کے

زاوتگغ فتڑزےصادرکرتا ۔کگم بای ککشف تھا اودا سک یراس وفت اہ رہوکی ج بآپ کےگیارہ بھی ادروالد ینآ پک پا یآ گئے ۔سورہ اوس کی آ بیت ا٭ا می ا سکیاضحبمل در ے۔ تم ساس ا سے ”٣ي‏ الْمْرَاد مِنْ الحَجَر السٰوّدِ فی عِلم الرَوٰیا الْمَرْء الْعالِمُ الْفقبْةُ الک“ رشب یت الوڑی الا تختاءروعا ی خز انی جر٢٣‏ ضص٦٦۱عاش)‏ جم راسودک تیعم رویا کے اعتبار سے عالم ہفقہہ اورصاحب سحکمت اسان ہوتا ہے۔ چنا مہ ینعی رنحخرت مرزاصاحب پ لغظا لفاصاد قآ ی ہے۔ اس کےثجوت کے لئے ھکل انز می مولا نا وا یلا مآ زاد مرزاجرت دبلوکی اورحا فیانو رش نششنری چشتنی کی شماورش ٹپ لک رآ تۓ ہیں ۔ اب حعطخرت مزا صاحب کے اشدت بین خخالف ال حدیث کے شور اید موا وکی شم مین بٹالدکی صاحب جو ایک یاظط سے ان مولوکی صاحب کے بز ر کگبھی ہیںء کی گواہی یکر تے ہیں جو غاب تکر کی ےک اگ ر رت مرزاصاح بکشلف میں تج راسود ھےذ ا سکیامی رکےلاط سے عاللم بے بل ءفتہاورصاحبکمت تخل انمان تے۔ چنا مج مولویی شم من بٹالوئی صاح بآ پک یکتاب پان اح یپ کرفرماتے ہیں:۔ ”اب ہم اس پر اپنی راۓ نہابیت شتقمراور بے مبالفہالفاظطا یس ظاہرکرتے یں ہعا رگ راۓ یل یکتتاب اس ز مانہ شش اورموجودہ حال کی نظ رے ای کاب ہےج٘ سک ایر ن کک اسلام یں تالیفجیں ہہوئی۔ او رآ تد وک ہیں لَعَل الله بَُخْدِث بَغة ذلك أَمْرَا ۔اورا کا مو لن بھی اسلا مکی بای و جال انی مزنواکی داکی فھر نشج ایا خابت دم لگا سے بج سک ینظیر سے ملمانوں میں بہت ج یکم پا یگئی ے۔ ہمارےان الاک وکوئی ایشیا کی مبائض ےنوہ مکولم س ےکم ایک ابی کاب تا

)۵۵۸(

دے نس میں جھلہفرفہاے ما 5 اما متصوص] رق ہآ رید یریسا سے اس زوروشور سے متقا عم پابا جات ہو اوردو چا را یی اشخاص انصا راسلا مکی نان دی ککرےبجنپوں نے اسلا مکی فصرت مالی و انی بھی ولساٹی کے علاد عالی نصر کا بھی یڑا ا ٹھالیا ہو اوریخالشین اسلام وشکگر ین الام کے متا ہہ یس مردا نیدی کےساتھ رہ دوگ کیا ہ ھک جن سکووج وا ہام بیس شک ہودہ جمارے پا ںآ گرا

کا جربرو مشاہ ہکم نے اورائ یتر ہرومشابد ہکا اق ام خیرکومزدچھی پچکھا دا ہو“

(اشاع: ال نر٦‏ جلرے مخ ۹۹ا ءاشع ر مات ہندا مت م)

991

)۵١(

اھ

مولوکی ابو المشیر صاحب نے ححخرت مرزاصاح بکی ما بشی رجح ولوب سے ایک عبار اف لکی سے اوراسے بدرف اعترا بنابا ےکمرزاصاحب نے خووکوق رآ ن میں کور پگ وئی اس ام رکا مصدا ققراردیاے۔اصل عبارت برے :- ”اورجیا/۔آمت وَمُبَقْرَابرَسُوْلِ بَاتِيْ مِنْ بَعدِی اسْمْه اَخْمّد یش برا شار دو ےکآ فحضرت لی ااڈرعلیہ ول مکاآ خرز مانہمیس ایک مظب را ہرہوگا گوبادہ ا ںکا ایک پاتھ ہوگا سکانام7 ان پراتءہوگا۔ اورووحظطر تچ ے رنک میں جمالی لور پر دی نکو پچھیلا گا“ ( ھی یڑ وہ روعا بی خمزائن جلرے ا۔٥ )٥۹۰۹۸‏ مز زقا رین !ملا حظفرمانمیں ۔ انس عبارت ٹیل صا فککھا ےک ا سآ بیت می لالہ نشار ےکآ فحضرتصلی اللدعلیہ وی مکا آ خر ز مانہمیس ایک مظہ راہ رہوگ“ حضرت مرزا صاحب پراوراست ا لآ بی تکا خودکومصداق قراردے بی ر ہے بل بیغ مار سے ہی ںکہ رسول الک مضظبراد بر وز ہونے کےحاظط ےپ کے تح اہ بیت میس اشھاروموجودہے۔ رت مرزا صاحب کے نز دیک ا سیت کے یق مصداق ہار ےآ تا ومولیٰ حطر یٹم یصفی صلی اولدحلی یلم ہی مہیں یہ اک ہآ پ نے فرمایا:۔ ہمارے بی صلی او علی ےلم کے ددنام ہیں (۱) ایک ھی ارڈ علیہ سم اور نام ریت می سکھا گیا ہے جو ای کآ لی ش ریت ہے۔ لیم اکہا لآ یت سے

طامرہوتا ے۔مغعملڈ رسول الله والذین مع اششدذ١ء‏ علی الکفار

(ے۵)

دا مَمْلهمْ فی التَورَاة ۔(۲٢)‏ دنام ہے مکی العلیہوملم اور بہنام انیل یش سے جھ ایک جما لی رنگ می اعلیم لی ے یلیم اکا لآ بیت سے ظا ہرہوتا سے وَمَُقْرَأَبَرَسُوْلِ بَابِيْ مِن بَعْدٍی اسْمْةُ مات نر کل مال عال سس ک2 تھے (اركتی نم روحا لی خزائی جلرے اح ۳مم) جہاںکیک مولوی صاح بکالع٥کتی‏ سے با لکناب ارت نکا ڈور سے مطال کر ے ہیں اوراس میس سے اعت راخ کی نما کی فقرا تبھی اک چچے ہیں اورکئی اقاسات اپنے اس پمففلٹ می در کر ہیں اس لے اس بات می ںی شح ککیکنوائن می سک یہ مولوی صاحب عارۃ اکا نکنل وموکہ دےر سے ہیں اور جات بے ہو ےت کو چیا رے ہیں۔

1

0 ا ٣‏ الشف:ے

ر۵۸(

رج للا ان

مولوبی صاحب نے اعترائ سکیا ےک حضرت مرذاصاحب نے اپناالہام وَم ا أَرْسَلنٰك ال رَحْمَة لْلْعالَمِیْنَ تاٍے۔

مولوکی صاحب !با نمی سک اور مہدریی نس کے؟ پ نظ ہیں؟آپ کےکمان کے مطالقی جب وہ آ ےگا ن وکیا دہ دنا کے لے رحمت ہوگا یا زمت؟ .... یدگ اورساددی بات ےک جوگھی رح ملعا لین شف الرزنین تشم مصطفی کی اون علیہ یسل مکی طرف موب ہوگا اسے خواءکوئی منصب عطا ہہو یا نہہ دہ ےکا ای ہہون ےکی وجہ سے سارک دنا کے زی وکا ہتکن کا دو ححضرت ئھرسول اوڈی٥کی‏ ال علیہ وسل مکی

طر ف فو بکٌھی ہیں ہوستا۔

جا لک کی ای پا نآ بات ق رآ عیہ کے الہا] غزولکانمکقی سے جن میں خالصة رسول ایی ال رعلیہ دس مکویخا طب فر مایا ایا ےت مولا نا بادر ےک ہم ول وی عبدا لہا نز وی صاحب جھ جماعت ام یہ کے شد برمخالمفوں بس سے تے اورآپ کے مز رکوں میں سے تھے مکی وضاحت سے اپٹ یکاب ‏ اشبات الالہام والییت““ می اس متلہ پر ردشنی ڈا لئے یں ا نکی پگ ربرائن لوگوں کے جواب میس سے جو نی ر کے شبوراورصاح شف والہام ہز رک حضرت مولوبی ع دای رغزدکی صاحب کے الن ا ہامات پر اعتراش کر تے تے جوق رآ نی آ ات شقتل تے اوران میں خالصۂ 1 ححضرت صلی الل علیہ وی مکوخطاب فرمایگیا تھا۔ چنا مرو ہککت ہیں:۔

اگ الہہام بی ا سآ بی ت کا القاء ہویٹس میں خمائ سآ تحضر غکوخطاب سے

(۵۹) صاحب الہام اپنے ون یش خیا لک کے اس کے مو نکواپنے حال سے مطا کر ےکا

صلی اولعلیہ یلم کن میس نازل فرماکی ہہ اپنے پر واردکرے۔اوراس کے امراور می اود کیدوز خی بکواطوراختباراپنے لئ سجےنذ بے قنک وص صاحب ارت اور سن ین ہوگا۔اگ سی برا نآ یا تکا لق ء ون می نما سآ حضر تکوخطاب سے ضلا: اخ سر خلت صذر تک کیانئی س کھولا ہم نے واسٹےتیرےسینترا۔ ُسَيَكَفِْكُهُم اللهُ-.... فاضبر ما صَير أولَو ازم من الرّسْلِ ..... وَاضبز نَفَْك مَم الَدِيَْيدعُوْنَ ربَهُمْ بالْغَداۃ وَالْعَضِيْ يُیْدُؤْن وَجُهَةُ-..... فصَلِ لِرَبَكَ وَانحَر۔۔ وَلا تُطِع مَنْ َغْفَلََ قله عَنْ ذِکرنا وَابع مَوَاه۔.... وَرَجَدَ كَ َال لَهَی وط لن انتبار مطلب کال جا چک اشراب صدراورعطا اوررضااورانحاخ رایت بس ای یہ گی تصبالھنز لت ا نف سکولعیب ہوگااورال ام ردنچی وعدہشیل ال کو حضرتت کے ال یی شر کمھھاجان ےگا (اشات الا ہیام والیبۃ ۴۳۰۱۳۲ ا ۔یفضٹ ریا ہندامتم) مولوی صاحب !اب ١۔‏ رت مولوی عبد اللہ غم:فٰوئ صاح بک سوا یل درع الہامات سے چتد مالی ملا حظفرمانیں۔چنا نیہ سَلیَيك یسر یآ پک ہار |ااہام ہوئی(“ف۵) نیز وَلَيْن انَبَعَتَ اَهْوَآنَهُمْ بَعْد الّذِیْ جَاءَ كَ مَِ الْعلم مَالَكُ مِنَ

الله مِنْ وَلِيٌ وَلانَصِیْر۔ (صفح۱۵۸) وَاصْبر نَفْسل مَع الَْذِیْنَ يَذْعُوْنَ رَبِهُمْ بالْغداوۃ وَالْعَشِيٰ

7 002

َانه ...و لاتَمْدُنٌ

)(٦٦( غَیْنیٔكت إلی مَا مُتعنا به ازْوَاجُا مَنهُم زَهْرٰة الحیوۃ الڈنیا (صفح۸ہ۴۵)‎ وَلأتطع من اَغقلََقلیة عَْ رن وَأَع مَوَاهُوَ کان مر فُرّطَا‎ )۳٦۱ەحفص(‎ ولف بعغطیت ربت فترضی‎

(سوا مولو یکپرا ٹنوی مولف بدا ارز نو بی ومولوی غلام رسو پٹ الق رآ ندال امتم) ٢۔‏ حظضرت خواج می ددردعرہوم نے اپٹ یکتاب ”عم اککتاب ٹس اپنے الہامات درج فرماۓے ہیں۔۔ائن یں دودرشن سے رائرالہاما تآ با تق مضہ شقتل ہیں۔ان یش سے ایک ااہام بینگی ے :انز عَفِيْرَتَك الاَقْرَبیْنَ-( عم الاب خ۴٦)‏ با رت قلات ا تم فی وت نضرت تن ظام الد ین اولیر کوئی مر یآ یت ق رآ الہام ہوئی:

چنا رت مر و میسو را کھت ہیں :”حضرت تم فرماتے تکرب یلگ کی اہ میرےس رہانے ایک خوب رواورخشش جہما ل ڑکا غمودارہوکر بے اس رس خاط بکتا وَمَا ازسَلشت ال رَخمَة للْعَالین ۔میں شر مند ہس رچھالقا ارتا ہکیا کت ہو۔ برخطاب ححفرت کہ لی علیہ یلم کے ل نمو ہے۔ یہ فدہ ظا مک س شا بیس سے جوا سکواس رج اط بکیاجاے “۔ (جوامح الم ملفونا گیسودرائز ص ہ۳۷٣‏ ڈائریی بروزشخہ ٣٢۷‏ شعبان ۸۰۲ھ ۔مرحبسید مکی پردڈ جن لد ہن دیس کی کرای )

ام مسلمان جانن ہہ ںک منہج پالا ااباما تآ بات ف رم ؟ اورامییآیات ق ری ہی ںکرجن میں خائ ص طوربرآ تحضرت لی اولرعلی مل مکوخطاب ہے۔

یں مولوی صاحب! اپے ان ب: رگوں پر خصوصا حضرت تن نظام الد بن اوليٰ ‏ پکیاف گی صادرفر میں کے؟1 کے بڑنعیں اوراگر ہمت ےن رت جن نظام الد بن

(٦(

اولیاء برگھی ملک کے میں جن یہماڈکھو لے ےک ذرااپے 0۸0 ج ب کک اتپ ےگھع کی خ یں نے لیے اس وق تک کآ پکو تچ اور پاک اورغداوالول پ زان درا زئ یکر نک اکوگی وف ی نیس ۔ اب ذرا این بز رگ اور پر وم شدمولوی اشر فی 7 . "متئٰئٰٰ۶٘ 0 آ پک بڑے انشراح سے بتامیں ےک انہوں نے اپ کاب الا فاضات الوم کی جلدا صف۵ہ ارٹلتی فیص کرد یا ےک دہ رصم لا لین جھ_

مولوکی صاحب !اش الس کےکرالا طاضات الیژمیہ ےآ پ عارگی مد ادالڈر ہج گی کے تلق مہ الفا ظط پ مان ےک یکین کر میں ء اپنے امی رش رت سی رعطاء اڈ شاہ بخاری صاحب کے منص ب کا بھی خیا لکر یی سمردوکھی ملتان وا ےآ پ کے مشرب لوکوں کے ند یک رج ملعا لن تھے ۔ اگ ر17 پکو ا سکاعک ہیں و بر تام العلوم مان والوں سے یڑ ٹیش ان کے مدریس مہ موی نے بقاری صاح کا مرشہکیھا تھا جولفت روز ہز جھان الاسلام لا ہور۵ ۱۹۷۱ء میس شاٛ ہوا اجس میس انہوں نت ےکھا۔

وٴکنت من الرحیم علی بسیط _ عطء رحمة للعالمینا

کرت خداۓ رت مکی طرف سے اس سکر داش پر عطا اور رتریۃ ملعا لین تھا یں اے صولوکی۶ رفا صاحب !اج بکک ان لوگ ںکاغع تع نک رو1 پ کی چاوریاک+:/ : ضا ےی اماز نت نت

مولوی صا حب !یی عم ےکنا مو ںک یکرت شرف و لکی دیل ہوتی سے گرکوئی 1 پ جیما نچلا خیرات اریخ 7 پ کےامی رش ریعت کے مو ںکوگنوات ۓےکہملادہ امیر شربعت تے ءعطا ءاللرتےءشاہ تہ بنا ری او ر2 جے مل اگ ان “بھی ت وخبردوغیرہ

اور ری کےکہ ‏ ے گرا ںکوڑھی رت ےک ہوک رک ٹ نی ں تا وا میک پ اس کیا جو اب دی گے؟ نویل

(٦٢(

نام الانیاء

مولو بی ابوالیشیر نے رت مرزا صاح بک ین رک دا طور پر گھوٹ سےکام لے ہو ئے انس پر جنوان رہلگایا ہے۔ نیس خاتم الاخیاءہوں'“ ححقرتمرزاصاح بک اعم ٹر برے:۔ نمس ار پامتلا چک ہو ںکہ مک وج پآ مت وَاحَرِیِن مِنَهُمْ لم يَلْحَقُوْا بھم بروزیی ور پروی نی اغم الاخیاءہول''- (ای لٹ یکاازال) تقاری نکرام!آپ نے طلاحظفرا اک مولوئی صاح بس ط رع وگل ےم ہیں ۔ححفرت مر اصاحب نے ند عارت یس اور نہ یسیا ادج ری بھی ذو کیا ےکہدجأتو ذوخام الاخمیاء ہیں بہ اس بھی اور ج ببھ ینمی یشون بین ف ایا۔ ےآ پکوحفرت نام الا میا رش ویمصلفی صلی اللرعلیہ یل مکاقل اور رو زقراردیا۔ یس جن اڑسی بات فسو بکرتا سے جس طرں مولوی ابوالیشیر ن ےکی سے دو نیقی کچھوٹا ہے خرت مرزاصاحب کےئ: دی ک7 تحضرت صلی الیل علیہ وم مکی برا یکا دتوئ یکرنا گناہ ہے۔ اورالیا دکو دای طور پ مچھوا ہے۔آپ نے بیشہ این متقا مآ تحضرت صلی الل علیہ دع مکااشتقی اورخادم اورخلام ہونابیا نر 2--

سے زیادہ اہگا رکیامگ ہاگ رخ رای رو لکوتاج عمزت پپہنایاگیا اس کے ملا موں

ینگ

اورنمادکوں یل ے ایک مل ہوں“-_ (حقیقۃ:الوتی روعا می خرزائی د۴٢‏ خ۲۸۲) نزفرمایا:۔ از لی برَحْمَوَوَتَعٍ ا سَيِیْ نَا عفر مان کہاے میرےآ ا (حضرتھمصعلفی صلی اوہ علیہ یلم )مر طرف رجمت اور شف تک نک ری ےکی سآ پ کا ایک ادلی خلام ہوں- جرف مایا:۔ ”عارااس بات پجھی ایمان ےک اولی دج صرا تم کا بھی بغیراجاع ہارے نی صلی اللد علیہ یلم کے ہرز انا نکوحاص لننیں پہوسکا۔ چہ چا نیہ راہ راست کے ایی مدارج مزا ق اءااس امام الرکل سافحل نان کوکی مہ شرف وکما لکا او رکوکی متام عزت اورقر بک مز ہنی اورکائل متالہعت اپنے نمی صلی ال علیہ ےلم کے ہم ہرگز حاص لک بینئیس ست .ہیں ج یلہا ہنی اور شی ور بر اتا ہے۔ اور اس بات پیھی ایمان رت ہی ںکہ جو راستباز او رکال لوک شرف عحبت 1 تحضر ت صلی ال علیہ وللم سےمشرف ہوک یل منازل سلویک گے ہیں ان کےکما ما تکی نمس تپبھی ہمار ےکماا ت اگ یی حاصصل نہوں ون ٛٴں اوران مس گتض اے جز گی فضائل ہیں جو اب پیل کی طرع حاصل ہیں ہو ست“_ (ازالہراد ہام روعاٹی خمزائی جل د٣ )١۰٣‏ رات کر ا ا نے1 ضرت مکی ال علیہ لم کے افاضہ ردعایکاکمال خاب تک نے کے لے میرم تب شا ےکآ پ کےنین شک بت

رشن سے تجھنبدت کے ما مکک بانیایا۔اس لے میںصرف یی سک ہلا سکتا ب کیک پپلو سے نی اورایک پپلو سے امئی ۔اورمی ری وت1 تحضر ت لی اون علیہ وس مکی سی سے نکہاصصکی شبوت۔ ای وجہ سے عد بت اود میرے الہام جیا کور ام نھی رکھاگیا یبای میا نام امت ی بھی رکھا سے ما معلوم کہ ہرای کفکمال ہج کو 1 تحضرتسلی امرعلیہ ول مکی اتجاح اور آپ کے ذر لہ سےما ہے “- (حقینۃ ا لوتی روعا بی خزائکی جل د۳۲ من ۵اعاش) چہا ں کک نات الانخمیا ضر تن صلی اولرحعلیہ یلم کے پروزاورٹل ہون ےکاتلی سے اس پراعترائ کرن سرامرلم ہے۔اورو یا کم ہے یا ک کیٹ ان بے گان امت پہ جملرے۔جی کے عقان ہم یی می ںہ رم کر میں گے اورا نکی رییوں سےکف رد ایا کے معن اخ ذکرے۔ چنا خی حضرت شا دولی الیل محرث دبلو یت ریف مات ہیں:۔ ”َقٌلَه ابع فِیْہ انار سید الْرمَيِیَْ صَلى الله علیہ وَمَلمَ

وع اْعَامّة انّهاذًانَوَلَ فِی الّزض کان وَاجذا مِیَ الام کل بَلْ مُوَ

0 ۶+ دوہی سر ر2 د8 چھہر دع ھریےْ گر زوہیرے۔ شزْخ للاسم الججامع المَحَمَدِیٌ و نسُخة مُنتسخة من فشتانٗ بَينةُ و

ین اَحَدِ مِن الام“ زا اک رصسفوے۔ وین رف ںبنور) یی نے وا نے موعودکا بین ےکہاس یں سی الین صلی ارشرحعلیہ ےلم کےانوارکا انہکا س ہو عامت النااس بلماا نکر تے ہی ںکہ جب دہ موودد ٹیا می۲ س کش ریف لا ےگا تو ا سکی شی شض ایک اصت یکی ہوگی۔اییا ہنیس بل دو اعم جائمم مرک بج یک ود یتشرج ہوکا اوراس یکا دوس اننے (۱۷م )٦٢ ۵9 00٥‏ ہوگا۔ ہیں اس کے اوراریک عام اشتی کے درمیان بہت ار ہوگا-

بر عارف ر بای موب سبعالی سی دعبدالکرم جیلاث امام مہربی کےمتحلق فرماتے

)٦۸(

اس سے مراددپٹ ہے جوصاحب ما مدکی ہے اود ہکا کی بندی مل کائل اعتدال رتا ے'“۔ (انما نکائل(اردو باب ا۷ م دی علی السا مک ذکری نے ۳۵ رٹ س کی کرای ) پل تقر خواج فلا خر یرصا حب رحمت الڈدعلیفرماتے ہیں :- خطرت1 دمرصفی الد سے ل ےکر خاتھم لوا یت امام عہد یم کتضمورحضرت مومصفی صلی ول علیہ یلم با رز ہیں مکی ارآ پ نے ححضر ت1 دم علیہ السلام یش برو کیا ے۔............ ایس کے یحددو۔ ے مار عظام میس فوبت تنوبت پروز کیا اورکرتے ہیں گت یک اما ممبدی میس بروزفر ما میں گے۔ ہیں ححضر ت1 دم سے امام مہدریکک تق اخمیا ءاوراولیاءقطب مدرارہو ئۓ تمام دو جرییصسی ال علیہ لم کے مظاہ رہیں“۔ ( تا ہیں ال جاسم ۱۹م) کر عر نے

)٦٦(

32

مولوبی صاحب نے ححضرت مرزاصاح بکا برا قتبال در کیا ے۔ نیس نیو ںک یکنابوں میں میری بت لطوراستعار وف رشن کا لفظآ گیا سے اوردانی ایی نی نے ا پٹ مکتاب میس می انام میکا کل رکھا سے اورعبرا لی می ٹفشی مکح ےن کی ان زار ن غ٣‏ روحالی نز انی جار ے اص ٣۱۳‏ حا شی ) اس ا قباس پرھولوکی صاحب نے افتراءکرتے ہو ےعنوالن یلگا یا سے یس خد ای مل ہوں' ممگو یک حخرت مرزاصاحب نے خودخدا کیل ہہون ےکا دو لکیاے- ار نک رام یتم ذ ایت نے می بی یوک می نک اکپ ایض ہیں بے پچنان مولوکی صاحب نے خووت اشا ہے میں بللہآ پ نے دیکھا ےک می ایک کے بعددوسرامجھوٹ بو لے چے جات ہیں او جک نہیں انت شس راز تالق ۓ حفرت مرزا صاحب پیل نیو ںک ی کاو ںکا حوالہردےرسے ہیں ای طرح حضرت دای ایل یک یکتتاب می ںآ خرکی ز ماشہ یش سآ نے وا لے موعور کے لئے ور استتیارو رشن اور کا کُل کے الفماطط استعمالی سے گے ہیں۔ دیھیں ا ب۱۳۔ب ولوگی صا تب ضس وعنا ذ ےا رکز ےب ےی نکی این ےا کایتھلوں ک ےعلق یچھ ینھیں سو تک دہ یہ ےرت مرزاصاحب پرننی بل ہگ زشت امیا ہم اسلام کر ہے ہیں۔جنہوں نے ایی چو ئیا ںکئیں۔ جہا ںک کس یکوفرشنۃ ما خداقراردہی ےکان٥لقی‏ نو یصرف پائل ہی انی ق رآن

(ے٦)‏ کی مک بھی مھاورہ سے چنا خی رت بوسف علیرالسلام کےتحلق لت پر فرشننہ )کے الفاظ استحال فرماۓ گے ۔( سورہ اوسف )۳٣:‏ اور تحضر صلی ارڈ علیہ نیلم کے تحلق خداتا لی خودبیگوا ی دیتاے وَمَا رَمَيْتَ ِذ رت وَلکی اللة ری (الانفال :۱۸ )کہ جولنکیاں ند نے نیہ دو نہیں بہار توالی ن گی یں ۔او رآ تحضرتتیلی ا علیہ مکی عت خداتالی نے ای بیعت ارد ارآ پکا ا تح خداتا لی نے اپناپا تقر اردیا۔ نل الع نل کی کی لے ای ین ما لنآ داز گیا۔ چنا ماے:۔ ایک او رٹیل صو۔ ای ںگع ہکا ما کلک تھا جس نے انان لگایا او ا ں کی چاروں طرف احاطگھیرااوراس میں حو لکھودااور بر نایا اور اسے پا غبافو ںکو ٹیل بر در ےکر پردلیش چلاگیا۔ اور ج ب کچ لکا مع ری بآ ما فو اس نے ایے نوکرو ںکو باخغباوں کے پاس اپنا یل لی ےکوکھا۔ اور با غبانوں نے اس کے 06 و و و کرو ںکوکیا جو پپہلوں سے ز با دہ تے اورانغہوں نے الع کے سا تھی ودی سوک کیا۔1 خم اس نے اپنے ٹکو ان کے پاش م کہ ہک کیچچاکد دہ میرے بٹ کا اظاکرسں گے جب پا غخبانوں نے بج ےکودیکھان ھ1 میں می سکہا سی وارث ے۔ 7ات لک کےا سکی رات پر قضک فی ۔ اود انکر مکتتالنع سے باہر کال اث کردیا۔ یں جب تاکستا نکا مان ک1 ت ےگا فان با غبانوں کے سات ھکیا کر ےگا ؟انہوں نے اس کہا ان بدکا رو کو پرکی رب ہلا فک ےگا اور ا کا یل دوسرے با خبافو لکو در ےگا جوم وحم پر ال ںکومچل دمیں گے ایسوع نے ان ےہاک یاتم ن کاب میس می چھی ہیں بڑھاہ

)ر۸(

ینس پھرکوسمماروں نے روکیا۔ وا یکونے کے سر ےکا پھ رہوگیا۔ بخداون دی طرف ے ہوا اور ہا رین میں تیب ے؟ اس لے میقم ےکپتا ہو ںکہخداکی با دشا یتم سے لے کا جات ۓگ اوراس قو مکوجواس کے بپکل لا ئۓ دے دی جائے گی۔اورجواس پظر رر ےگاگکڑے گکڑے ہوجا ےگا لیکن جس پر ووکمر ےگا ا سے ٹییں ڈا لگا (نعی )ب۳آ با ت۳۳٣ )٣٣‏ اس پٹےگوگی کے مصداق ہہارے؟ تق وموٹی ححضرت م رمصطفی صلی او علیہ وسلم ہیں۔ ہے تمبات اوراستعارے جوا نٹ یکنناہوں ٹیں کور ہیں ۔انع سے مرا دخد اتال یی ات راتء ا لک عزت اورجلا یکا غزول ہوتا سے بین مولوکی صاحب کےن: دکیک مہ پا تخت تال اتزائش اور نا جات ہیں بللہ بہا لت کک جو اڑی با تکرے اسے موا کھت ہیں _لھوز پالکد۔

991

()٦۹(

ایخ اواخیاء جرگ فی صلی اون علیہ یلم

مولوی صاحب نے ححخرت مر ز اصاحب کےا یک عر بی شع رکا تج ور گیا نے لی بت ناس کے لے جا خد کے سو فکانشثان ظا ہرہوااورمیرے لئ چا نراورسورح دلو ں کا۔ا بکیا نو انارک ےگا““_

(ایمازاحر یج خاءے) اسی رح انہوں نےککھھا ےکی رج نگولڑ وص ٭۳ء مار ہو نے ۷رآ تحضر کت اق تق ہے اور برائین تمرح ہج ص ف۵۷ پر اپنے زا تک

ادوس لاکھ بای ے'-

یردوٹوں عپا رج کوک ران پر مولوی صاحب نے دامح دیصل سےکام لمت ہوئے ہے حنوا نچاپڑے:۔

یں لی لع ول ہے ا وں ئز

جناب مولوبی صاحب ات کور پاعن انسمان ہی سک ایوس پین یں چتنا کہ اختزراش کس برکررے ہیں مقیقت میں مولوبی صاح بآ تحضرتص٥لی‏ اطندعلیہ یل مکی عدیث پہ اھت اش لکررے ہیں ۔تمام علاء جات ہی کہ چاندہ سور خگرم نکی پچگوئی حضرت مرزا صاحب نےنییں بل یھ رسول ادل٥ی‏ الل علیہ ویلم نے انی اود بی جات ہی ںکہ رسول اڈہصکی اش علیہ لیم کے وقت بیں چان دکاگرجن ہوا تھا۔ اور مکی بات نضرت مرزا صاحب نے مھ رسول انیصلی اول علیہ وم مکی صداقت کے انمار کے لے با نک سے اور

(مے)

ند اورسور جگرۂ نکوآ رج ہت کی ات ری عا لم نے حضرت مرزاصاح بک آ فضرتملی ال علی یلم برفضیلت کےطور پر می سکیا ان بیمولوئی ان جائل ہی ںک یآ تحضر ت صلی ال علیہ ول مکی چنپگدئی جو ایک عق یق تکی رح پچ یآ ردی ہے گزشنہ چودوسوسال میس دن سے 0 ر0ج یلم کے لے ذ ایک جا ند یکو تع اک کک ا کی کے انی نے اس وجہ سے م ہدک یکی نضرت ویک الشعلیہ وعلم رفضیا تکا یس سوچا ینان مولوبی صاحب کے ذ جن ٹیس کون دا ے کعرزاصاحب نے اپتی ایس پینشان من کر کےیمجدرسول اوڈیصلی اولد علیہ ولم برای فضیل تک اعلا نگیا 8 “ی۶ی یی ئ ہے۔ بیکلہ فو بظاہر جخرت مرزاصاحب پرکرتے می میا نگھلا ان بافوں پرکر تے ہیں جوحضرت مرزاصاح بک تل ق نہیں بی وو مسکلل دیشیہ ہیں ج نکی سزرشیصفی صلی اون علیہ وسلم سے ہے۔

اکر چکشزت کےساتجھعلاء نے چا خدسور نگ نکی پنیچگ کی والی حد بی کوقجو لکیا ہے۔اور ہندو پاکتان بی نطرت مرزاصاحب سے پیل ا لکا خوب بج چا تھ اک چان اور سور خگررمن گ گا لین اب مرزاصاحب کے بعد بیاےاعام پا رکا قول قر ار دینۓے گے یں تک مرزاصاحب سی ش اط لی بہ پچھفکارال جائے جن کے مانہ ۱۸۹۴ء شی ینتا رو میس جا نر اورسور کوک ہن لگا۔

برا لگ بچھٹ سے یہاں ز رن تل بہ کٹ ےکہ چا ند اورسورخ دوکاگ ہن ہونا رت مرزاصاح بک ایا دک لکران پر الزام دوکمرزاصاحب نے اپنی فضیل تک خاطر ای کک ہجاۓے دوک کن ہنالے ہیں۔

اسے اگ عدیث وک نہ بھی مائیں تو سے امام باقر رم اللہ علیہ (التون ۵ / ۸ھ )کی چگدکی خابت ہے۔ امام بات رحمتۃ الیل علی رت اما ین ری اللہ عنہ کے ات اودامام زین العابد بی کے بے تھے اورک وڑ ہا شبعہ ایس امام مانے ہیں ۔ان

(اے)

096 از ات 0 نان نے فلاں سے سا اورفزاں نے فلا ںی سے سناء بللہرایل ببیت تید گی سی ال علیہ لم ںا نکی پروش ہوک اور ج پا تل وہ دہاں سن تے وہی بیان فرما د نے تھے۔ اس لئ ا نکی بیان فرمودہ روای کو دوسرے پانے ےئاس برکھاجا ےگ لمران بز رکآ تم کےا نکی کی اور کی کے اک رہز ہکوو ظط رھت ہوۓ جوا تحضر ت کی ططر فمضسو بکر میں اے بدرجراو ین ظارکھنا ہوگا۔ ییمولوی صاحب میں نہ مائی ںکروڑ ہا شبصدامام ماش کی اس ردای تکوی مات پرمجبور ہیں او رسکی علاء بیس بھی ایک تحداداس روابی تکا ات امک ری آکی ہے اورمولویی ابوال مشیر صاحب تیسے 2 0 سے بہرعال اکا را ںکر سک تےککہ برحطرت مرزاصاح بکا بنای ہوئ پش یں اکر نائی ےا رض رورامام ا قرنے بنائی ہے ۔ لی ںکیاامام اترنے امام م ہدک کی رسول الرڈدرفضیلت نا بتکم نے کے لے ال اکیا تھا؟

ضمب تنا گچھی ضرودکی ‏ ےل بہددابیت عدی ٹک کاب دافی یش موجود سے ج ےکی علا ایک پا ےک یکا ب مکی ممرتے ہیں ۔اوداس کےمول فکوامی الم ۲ن ٹیا بی ٹکہاجاتا ہے۔

علاوہ از یں برام بھ یو ظا ا ط رر ےک مولوکی ابوال مشیر ع فا لی نے بیہا بھی ابی برد انی کاکرشمدکھایا ہے۔ جس راظم سے بیشعراس نے لیا ہے ای میس دوشعروں کے بعد جخرت مرزاصاحب نے رای ے۔

و ای لِطِلَ اَنْ یحالف اَصْله ‏ فَمَافیه فی وَجْھی مَلَوْخ وَيَزْمَرُ

یی سا یکیوگراپنے اص٥ل‏ ےخخالف ہوسکتا سے میں دہ رشن جواس میس سے دہ بج ین بم]ب ری ے۔

نی زحضر تک موخودعلیالسلامف مات ہیں:۔

ہھارے ‏ یصکی اال علیہ وللم کے جحجزات ا بت کنکبور می ل7 ر سے ہیں اور

قیام ت کک ظاہ رہوتے ر ہیں کے جو رشح می رکی تا تی میس ظاہرہوتا سے دراصسل وہ

(۲ءے)

سب؟ فحضرت کی الدعلیہ لم کے جحزات ہیں“ (تحتۃ الوتی روعا ی خزائی ر۲٢‏ م۷۰۹ءم) اس باب می ںآ خر بات بد ےک جخرت مرزاصاح بک مرکودہ الا عپارت ان خنام ا مورمیں یکن ہے جو پفل ٹکا مصنف اورا سے شال مر نے وا نے سا دولوں عوام سے ات مر تے ہیں ۔غحرض ال تال سا نے اتی سے براعتزاضل مردودہوچاتا ے- ا رج

(ے)

خمداکےمظ ہر

مولوبی صاحب نے حضرت رز اصاحب پر ایککئ کی وج تھملدگیا سے۔ اور ہو تج ربرانہوں نے در کیا ہے اس ےکھت جیوخت کے بعد اس طر شی کیا ےک نمی را آنا خدا کے کال جلال کےعپو رکا وقت ہے (1 کے فرماتے ہیں ) انسالی مظہر کے ذر کہ اپنا جلال ظاہرکر ےگ“ (حتتۃ الو یم۸۶ٰ۱۵۲) ججی ال عبارت برے:۔- تی ماک داشیال نی ن بج یکیھھا ہے مرا آ نا دا کےکائل جال کےع ہو رکا وت ہے اورمیرے وفت میں فرشمتوں اورشیا شی نکا آخ کی جنگ ے۔اورخرا اس وفقت ودنشان دکھا ت ۓگ 7 .0ج7 آ گا یم اکرددفرماتا سے مل رمالا ان َاِهُم الله فی طُلَلِ مَنَ ھ۶ 0۷ھ008 کا یی نما ی مظہرکے راج سےاپناجلال ظا ہرک ےکا اورا پاچ رہ دکھا گا“ (حبظۃ:االڑتی ۔روعا نی خزائی جل ر٢٣‏ مخ ۱۵۸) مز زقارخین امولوی صاح بک یم سکس بدد یا کاچ جاک زی ۔ان کے سک نلم ےآ پکوآ گاوکم ہیں ۔ ایک عبارت کے سیاق وسبا قکوکا کم الس پر اپنے گھھو فک عطیاد ڈا لے ہیں اورتحخرت مرزاصاحب پراعترا شکرناشرو حشکردینے ہیں- اس عبارت کے تروع بی حخرت مرزاصاحب نے داتال نہ یکا ذکرف مایا ے اور

لے البقرۃ:اا٢‏

(ہءے)

فرما با ےکہانہوں نے ای اکھھا ےمان مول بی صاحب نے جائن لو ےکر ضرت دانیا یکا ذکر و کر باقی عبارت پٹ ںکی ہے ای رح ا ل1 بی تکر یو ںکوھی بچھوڑ دہا سے جوا س مو نکی ربا نکرنی ے۔

اتی جہاں مک مظب ما ہون ‏ ےکاتلق ے حر ت7 وم علیہ العلام کے ذکر میں خداتھالی نے بی ون یا ن فر مایا سے اور ہ رن یکی بعشت میس یشون د ہرایا جانا ہے۔ ]نی ج بھی خداتعا کی ذات اوراا لک صفات سے لوگ دور ہو جاتے ہی ںو خراتعالی دیاش اپنا نما حمدہاورغلیف با ے جس سےا کی صفا تکی جو ہگرىی ہوٹی سے۔

بجاو دگرکی ہی ا سکیا صفا تک اظہا رک بلاٹی سے اورجشس کے ذر لجہباظہارصفات ری تی ہدد٤خداتعال‏ یکا مظپرکہلانا ہے۔اسی لے جھا رےآ تا ومولی حر یم مصطفی صلی الدعلیہ یلم خداتالی کے مظپراقم تھے ۔آ پ کے ذر یہ اخنائی اط ء ار اورا طور پر صفات بارکی تا یکا دنیا مس انار ہوا ۔آ پ بی کے ذر لہ خداتحالی نے یہ پغام دی اکودیا ”صفة الله من سی من الل صِیْفڈ' کہ رانسا نک چا ےک خداتھالی کے رگ اخزیا رر ےک یوک سب سے ان رنک غدانتھالی بی کے ہیں-

مولوی صاحب!اگر یہ پغام عاملوکوں کے لیذ یمن ا کا ضردرخاطب سے ورس مو نکوفداتالی اپ رنگ شس جا زیادورگین ہون ےک قش دےءاس سے اما ہی زیاددائ ںکیاصفا تکااظہارہوتا ے۔ یں جوچھ یتحبوب خداء مظبرصغا کہ رما ضر تم صلی ص٥کی‏ اعلیہ لم سے غدا کے رکک چچڑہانے کے ڈ نک سیا ہے اوران رگوں میس اپ آ ‏ پکودرگنا ہے دہ ا لکا ایک عدتک مط رین جانا ہے ۔ ای وجہ سے بز ران سحلف میں سے جن نے عفد اتکی ک رکف نے کے بدا نے کے دو ے یناو زا اف کے نرے بلندد گے ۔ ای چند مالس ہ مگمزشنتصفحات میں در عک رآ تے ہیںء انی یہاں دہران کی ضرورت یں ثلیان بر مولوئی ابوال مشیر صاحبکرغائن کےکوچچوں ے واقف ہی

(ھے)

یں وہا ںکا پاک روعانی بان ں کا انی ں کی عرفان ہوسکتا ہے۔ ہاں میعرفا نی ہیں نے تی اورھوٹ کے۔ انی سکیا مکہ جب سا کک سلو ککی مزال ٹ ےکرتا ہے فو بش ادقات ا سے مظام بھی مق جانا ےک انا اک ننمن خدائیءمکن خدائءمن خدا اور سی ضیٰ جمبیسیٰ می الد“ یصدا میں بلنرکرنےکتا ہے۔الہتدائیس بیذعلم ہوا جا ۓےکہامیے باخداانسا و ںک یگمرکر نے وانےاور ایل سو ے دار نے جانے وا کون لوک تے۔

01

(ہے)

بل اوزاو

مولوی ابوال مشیر نے ححرت مرزاصاحب ک دوالہام انت مِبّیٗ بِمََزِلَة وَلَِیْ اور آَنْتَ مِیٔیٗ بِمَنْزِلَّ اَوْلأدِیٰ درخ کے ہیں اورازراد اض زا تودعبارت مع وَلدی““ٴت اش لگ رض رترزا

صاح بک الہا فراردیا۔ ان خنول عبارتں پر یجنوان دہا ہے نمس خداکا بنا ہوں کہ سمادولوں عوام بیتاثڑ یی لک گوہانحوذ پا رت مرز اصاحب نو داوف اتھال یک بنا قر ارد یے

تھے۔

مز زقا رین ! رت مرزاصاح بکاکوئی ااہامكصضْمع وَلَدی ''کےالفاظ پر مشقلییں۔ہا ںآ پکا ایک الہام ہے اننس و اُڑی ۔ جس کامسمی ہےکہ می تاور د تا ہوں۔اس الہام مکاح بکی بے اعیاضی سے ای میں الف اور راء کے درمیان ای کی رپ گنی ٹس سے بہدوفوں مروف ج کر لام اوردا لکی صورت اخقیا رک ر گے تار“ کی بجاے ”لے“ یشکل م نگئی ۔ چنا ماس الہام شع دارئیکےالفاظط ییشل اغقیارکر گۓ اِسْمَمْ وَلَدٰی“۔

اب بیمولوکی صاح بک عددرج بددہا نی ےکہانہوںل نے ہجاۓ الف اورراء کے درمیا نکی رکوکا اعد قر ایدپنے کے اس الہہام کےاع راب بھی برل دے او راع" 4 ان تےسع بنادیاادر ار یئل نو “کی زرکوزی ب نکر دارکیکی جا ودک نادیا راس پر اپنے اعترا کی یادرکودیی۔

(رےے) ان چہا تک دوسرے دوالہا مو ںامعلت سےنذ اب فور ہا تی ےل بِمَنْزِلّ لی“ او لد یی ز ینآ مان کافرقی سے خدا کن وکوئی ٹا یں لیکن اگرخدا یہ کی ےکہ میں بیو سک رع پیا رکرتا ہوں و میک کی نیا ماود یں ۔ تل ایی مھادروں سےبھریی پڑھی سے بللہ پائل میں فے سارے بی اسرائ لکوخدا کے بے ق راد دیامگیا ہے ۔کیا جناب مولوی صاحب ا لکا تینک لے ہی ںکرسول ابص ادطرعلبیہ وعلم سے پیل انی خدا کے بے ہواکر تے ‏ ے اورغزدول ق رآن کے بعد بیسلملہ بن ہوا ے_ قرآ نکر قف بنا ہے مم لن و لم بْزکد کرنداک پیل بھی نہیں ھے ماس 8000 نفد جنا گیا خخرت مرزاصاحب اور جماعت اممر کا بجی عقیردے اوریچی ما مسلمانو کا عقیردے۔ ال یکیٹوں سے ہہ بات ثابت ےک خدا کا یکو پیار کے اظہار کےطور پر با کرہہ د ینا پیش ان منوں ئل ہوتا ےکل جن سر تم لوگ بیوں سے پیارکرتے جہوااس سے بڑ ھ می پیا کرت ہہوں ۔ چنا خی نخرت شا دو لی الڈمحرتث د ہلوگ رحمتۃ اللعل یف رماتے ہی ںکہ: ”اگ رفظ اناۓ با ےحبدہاں ذکرشدوباشد جب“ (الغوز اکب نے ینعی ا ہور) گر خداتھالی اپ پیاروں کے لے ام کا لفط اتعال ماق اس می تب دا یکونىی بات ے؟ را سوا لکیق رآ نکرمم می ا یکوک یآ یت مولوبی صاح باوذظ نی ںآ کی فو ضجانے بی نظ رق رآن پڑت ہیں۔د ھت رآ نک ریم میں صا فکھھاہے ”فاڈگرُوا الله کر کم ابَاء ُم از اَشْذٌ گرا“ (رہ:٢)‏ کراپنے باپ دادو لکو ا دکر ن ےکی رح اللدکو بادکرد بلہ ہو کے نو اس سے بھی

(۸ءے)

زیادەیادگرو-

نہ جانے مولوکی صاحب ا ںآ بی تکا کیا مطلب مککتت ہیں اہر برست مولو یکا تو عرفان کےا نکوچوں ےمجھ یکذ رج ی نیس ہواپ سک ےگمتتائغ قرارد نے ہیں اور سک یگمتا خی کاممون ان کے ذ بن بیس ارتا سے۔

امت ح ہہ کے لیم عارف بالڈہ بز رگ ان مضا شی نکوخو ب کھت تے اور ان پہ با ہا رٹ ڈال پیے ہیں د یھت حضرت مولا نا رون فرماتے ہیں ے

اولیاءاطفا لح انراے پر“ کاولیا ء مھا زی طور پر خداکے بے ہیں - (مٹنوی وف سوك ی۷٢‏ مت رجمو لان قاضی سازسنین صاحب ۔نا شراسلاھی پبنشن ککائی لا ہور) (ہ۷|*٭""*"*"ِ۶ھ و" حضرت فی صلی اور علیہ لم ہی تھے لیں سب سے ز ادوپ حیدکی خبرت رسک ولا آپ ھی کاو جو(تھا۔افسول بر ےکہ بی مول کی صاح بکی کور باسعن تےکہت ہآ یا تق رآ خیہ برا نک نظ رپ می زرحضرییص فی صلی اونعلیہ دم کے اس پر مار فککام پک الَحَلَق عَيَالُ الله قحب الْخَلَي! إَِ ال أَخِْسَنإِلَی عَيَاله ( مک و تاب الا دب باب الشفقۃ )

کرخلوق ارڈتھا ایی ا سکی ولا دے لیں جوف ال کی کک کے ما ایچھا لو ککرتا ہے دہ خداکاحوب تر بین بنددے۔

ان افسو سک عد م۶ رفا نکی بج ٹنیس برمولوکی صاحب نذ بل شی د ھت ہو ئے بھی اس سےاع راخ سکمرتے ہیں اورغیمرو ںکو پاعل ب نکر دکھاتے ہیں ۔حعخرت بیع موعودعلیہ العلام کے جس الہام پہ ہہ بچھبتیا لس در ہے ہیں اود اس سے غاب تک رسے ہی نک مرزا صاحب نے خداکا بنا ہون کا دو کچھ یکردیا ے۔

(ہے)

اب د بن ےکہاس الا مک یشرع ضرت رز اصاحب تن ےکیاف مکی ۔ جنپ مآ پ نے خو ھا اود ردوسرو لک کچھایا انس برک یکوکیاقن ےکہاعت زا کر ے سوائۓ انس کے کہ سک فطر تگندی ہو۔-۔آ گ0

نماد ےکہغخداتا لی یں سے پاک ہے شا کاکوکی ش رک ہے اورشہ با

ےاورٹ دی اون پچتا بے ےوہ نت ہیس دا ول پا مد اکا با ہوں 7 ۔ تترہ(انت منی بمنزلة اولادی _ نال )اس جچن یل مجازاوراستوار یش سے ہے۔ خداتالی ن ےق رآ ان شریف می ںہ تحضر ت صلی ال علیہ وم مکواپنا اھ قراردیاادرفر مایا نے اللہ قق دی ایباہی مجاۓ قُل یا بَا اللِّ ے یا عتادی لت یکباادر یگ ف اذ ھڑوا اللة کذخ رشحم اج غح یں اس خدا کےکلا مکوہشیاری اوراعقیاط سے پڑھو۔ اور اٹیل ابا تب ےکر ائمان لا اور ال سک یکیفیت بی وفل نہ دواورخیقتحالہ راک رواور لقن رکھو کہ خدااتخاذ وللد سے پاک ہے تاب تشابہات سے ران یب مت تک کے کلام می پاما جانا ہے ٹیل اس سے پچ ھک قظابہا تک یرد کرد اور پلاک و

جا2۔اورمی رك بدت بینات میں سے ہہ الہہام سے جو برائین اح می شی درنع سے قُل الما اَنَابَشَرْ مَنلكُمْ یُوْحی إِلَيٗ انَمَا اِلهُكُمْ إله وَاجد وَالحَیْرُ کُلَه

ہ٥‏ ںئەںم ٢٣٤‏ فی القرانِ -

(داشح الہلا ءروعالی خ: انی جلد ۸ا مخ ے۲٣‏ حاش) تی طور پر مولو یو ںکی بد ہانق ےکم محضرت ھرزاصاح بک ا عبارت کے

ہوتے ہو ۓےگھی ا نکی طرف ش رک فو بک میں۔ اہ ئن میں حضرت مرزاصاح بکا ایک عارفا زیت یراہ ان مکی بن کا ققی ایک

اور بھی چکاد رق ہد بین ےآ پفرماتے ہیں:۔

ا:۷ "!ال زم را١‏ سال قر::۰۱٢‏

)۸۸(

تح ایت و ےلان کات ون من کی نیو دا کے درتقیقت بے ہیں ۔کیوکمہ رین کک کفرہے اورخدا بیٹوں سے پاک سے بلہاس لئے استعارہ کے رٹک میں دہ خداکے بی ےکہلاتے ہی ںکمددہ پیرکی رب دب جنل سے مد اکو بادکرتے رج ہیں ۔ ای ھ رج کی طر فق رآ ن ش ریف میس اشار کر سک فا ا نک ا ا نک خداکوا می عحبت اوردٹی جونل سے یادکر و یم اکہ پچ راپنے با پکو با دکرتا ہے۔ ا اہ رای کو مک یکتابہوں میں ایا پا کے نام سے خداکو پک راگیا ہے“

( تحت ا لوقی روعالی خرزائی جل ر۲٢“‏ ۵۸۳)

91

٢١ا:ہرقبلا‎

معززقا مین مولوی ابوالیشیر نے رت مرزاصاح بکاہہالہام در عکیاے ”نت بن ماج ا ومخم من فضل ۔مرزاصاحبکوالہام ہواکت مارے 7 رر ق ا 32

ای سے سے اوردوسرے لوک فشل‌ے ۔

)۳٣۴2 “٢ر زاین‎

اوراس پنوائن لگایا ےشیش ناک نطفہ ہلاو رپاعا ےکہ:-

(فوٹ )۶افت میں ھا“ سے مرادنطنے بش رآ ان مجیریں ے:۔

الف)۔ هُو الَذِیْ خَلَق مِنْ الما بَشْرَا (ا1آے)اشوہذات ےػں نےانسما نکو پافی (طفہ سے پیداگیا-

ین الضْلبِ وَالَرَآئِِ

یس اہی ےکد یھ انسا نکر وکس چز سے پیداکیاگیادہ پالی ا لے وانے سے پیا کیاگیاجکہ با پک بینٹرادد ما لکیا بچھاتوں ےتا ہے۔

اورپ رکئ ی1 بات یں شن سے معلوم ہہوتا ےک مسساء“ سے مرا ونطفہ سے کنب نفاسی ریش ال سکیتش رح موجود ہے اگرمرزاصاحب کے الہام می مساء سے مرا وق کی یا طہارتکا پا مرادلیا جا مانناپڑ ےگ اکمرزاصاحب لت سے قطمآناواتف تے معلوم ہوا ےکہمرزاصاحب نے اہین ےآ پکود اکا نطف کہا ہے (ازمرتب )

معز زقا رین !الہہام کےسعنی اورمطااب دی درست اورقابلِ قیول بہوتے ہیں جھ

(۸۲)

صاحبِ الہا مکررے۔ چنا ۰طرت مرزاصاحب نے اس الہام کے ینعی اورمطلب بیان فرماتے ہا ںاھ نی جوفرما اکن جارے پالی یش سے سے اوروولوک فشسل سے ۔ انس لہ پالی سے مراد ایا نک پالی اتا صتکا پا ی تق کیک ای دفاک پا لی صدقک پا حب ال کا ای ہے۔ جوغداسےەتاے اور فشسل بد یکوککتے ہیں ج حیطان

سے : ہے۔اور پہریک ہے ابھاٹی اور ہکا رک مد اون مردکٰے جب قوتث ا ستنظامت با قی نیس رہقی نذ انما نگمنا ہکی طرف جک جا جا سے رض نل خیطا نکی طرف سے ہے اور عق کر صا راودا مال لی بک پافی خداتھا کی طرف

27

شی اضجا ح1 عم روعای خزائع جلداا “نر۵۹۷ عاشی) با اس ک ےک ہمولوبی صاحب اس متقول اور برع تقر عکوقجو لکرتے ‏ تصرف بکہانوں نے خداتھالی کے الہا مکی سخرکا نشانہ نایا بہ کی بے حیائی سے انح اگنر بھی ا ہرکردہاے۔ مولوی صاحب!آ پنے بڑئ فی سے دنو یکیا ےک عرپیلقت میں نصاء سے مرادنطفہ ہے '۔آ ‏ پک ال پعلی نے7 پک علامہاورمولوی فاص کی گی ںکی خو بات یھو دبی ہے یٹیل اس کےک ہم نما“ کےمعنوں پر پک ریس ق رآ نکر مکی چنآ بات نون کےطور پر یی کر تے ہیں کیا آ پ اپنی* لخشت اور اۓ سم اصولوں کے مطا لق اورا یع بی دای کے جو ہردکھاتے ہو ۓ ان میس لفظ اہ“ کے دی من کر میں ے جآ پ نے ححضرت مرزاصاحب کے پرکور وبا لا ال ہام یل لفظزنساء “کے کے ہیں ۔آ بات کر نے سے پیل ب مآپ 0 27 ےک ای مولوئی فاضل اورعلا مکی کر یو ںکواپنے سا نےےضروررکو لیس ۔آ بات صپ ڈذ یل خی

(۸۳) ۱ فَلم تَجدُوْٴامَاء َتَیَمُمُوْا صَعِيْذا طِیْبًا (النساء: )۲٢‏ تج یں جب تم نما نہ پا پا کم ےت مکرلیاکرو۔

. وناڈی اَصخب النار اَصحب الْجَنة اَنْ اَفِيّضوا عَلَيْنا مِنَ الْمَاء

(الاعراف:۵۱) اور گ وا لن نو ںکو ہار سی گ ےک یم پہ مگ ما انٹیل دو۔ ٣۔‏ وَ کَانٗ عَرْشْهُ عَلی الْمَاء لِیَبْلوَكُم اَیْكُمْ اَخَسَن عَمَلا (هود:۸) اورضدانعا ‏ یکا عل نماء پر ےت اکدہ جات ےکم یس سےکون کیک اعمال بجالا تا ے۔

ہے مہ 7 و امو ےر می جج ےثئہم ہہ 2 فا و نزلنا مِن السماء مَاءَ مَبار کا فانبتنا به جناتٍ (ق: ٭ ۱(

اورہھم نے1 سان سے مپارگ نما ء نا ز لکیاہے اورااس سے باغات پیرا ک٤‏ ۔ ۵. اَقَوَه یمم المَءَ الَذِیْ تَشْرَبُوْنَ (الواقعہ:٦٦)‏ یی ںکیاتم اس نما “کوک د یت جوقم پٹ ہو۔ مولوی صاحب!آ پ نے حطرت مرزاصاحب کے یی لکردو ممنو ںکو جو بہت بی ممقول اور پاکینزہمطالب پیٹنی تھے ردکر کے پی نی ںکس لف تکا سہارا لے لیا اور ایک بہت کی کے اتک دکی اور ند یھ اک رنخرت مرزاصاحب نے جہوصعفی کے ہیں دوق مآ نکریم کےتائید بافۃ ٹین سک ایک نماصعیت بگھی ےکدہ ہرکندی اور باعل سوج دا لن ےکا سرت ڑ رتا نٹ ان بَلَ تَقْذِف بِالْحَي عَلَی البَاطِلِ فََدْمَقَةُ زالانبیاء: ۱۹( کٹ مق نکو راع پر جب مار تے ہی قذدہ ا سکاسرنڑد یتاے۔ از یب ےآےزراپ رون سان ار نارگن سز لیم من السَماء یھکم بہ َیذجبَ عنکُم رز الشْیْطنِ و لِیْربط عَلی قُلوْبكُمْ وَيتبْتَ بہ الََدَامَ زالانفال:۱۲)

(۸۲)

کہفداتھا یآ مان ےت پہ ال اتا رتا ہت اک یں پا ککرے اورقم سے حیطان 0 00 ×× فا نے

اب تا تی سکہا لآ یت مس دہ خدائی بای جو سمان سے ات کم پاکی گی ہحوصلہاور صدر نی اورشبات ری عطاکرتا ہے اور حیطال یمگندگی اور ہز دی سے بیاتا سکیا اس سے لف ےج سکاذکرخرت م رذزاصاحب نے اپ الہا کشر شکتاب' ”ایا مہم فرماا سے جو نل از ی۰ یکر چے ہیں۔

قا ری نگرام!

بت بات یاد دن کے اٹل ےکیق رہل نکریم میس جہاں انسا نکی ماد اور ما تخبیق کے لے لفن مسا “کا استعال ہوا ہے دہاش اس سے مراونطفہ ے اورا مآ ات ق رآ نک ریم یش صرف جار ہیں ۔جکہان کے علاد 1۵۹٥‏ بات شس برلفظا ماءاستعال ہوا ے-_ دہاں مات ھام ای مراد سے بااروعا نی بای جوفد اک پا ٰیکہلا تا ےجس پر ا لکا عرش سے اورجھ پا ککرنے والا اورصد نی عطاککرنے دالا پالیٰ ہے۔ اور جب اک لفٹا ما ءکی اضافت خدا تال یکی رف ہو ییشہاس کےسعی ردعالی ای ھی کے ہوں کے جو وی الی ءکلام ایا اظھارصفات اہی ےب رگیاچاتا ہے او رج سک خاصہ یر ےکرد ہج قلپ صائّ بنا زل ہو دہاش ایمانء اتقاامتء وفاء صدرقی اورحب ال دکی رودرگی پیر ارتا ے۔ الب کو یگندہ وہ نٹ بی ہوا جوان 1۵۹ بات می دوسرے پاک معنو ںکوچچھو کرو وشت ھکر ےگا جواان مولوکی صاح بکو بہت پنداورا نکی مرفوب ہیں-

ہا ں می با ت گی یاد رن کے لال ےببق رآ نکر سے ب بھی ات ےک گر ”ماء گی اضافت انمافو ںکی طر ف تھی ہوقو بھی اس کےمصمی وونیں ہوتے جو موا وی صاح بک الخ تکبتی ہے۔چناغجردنکمیں پا یت مہ فُلٗ اَرَء سم ان اَضْيَع مَاء کُمْ

(۸۵) غُوْرَا فمَنْيَاِيْكُمْ بماءِ معن لگ )۳٣:‏ ترجمہ:ن فکہرد ےک اگرتہاراپانیگبراکی می ضاب ہوجانےنذکون ہے جو ہارے لئ مو ںکا پافی لا تگا! صولوی صاحب ! بی جمارا آ پکو بیج ےک ان چارآیات یل جہاں ع وف انا یلیکا دک ےء کےعلا دی بھی یت سے ما“ کاصعفی نطاب تک کے دکھا نیں۔ اگ رآ پ الا شک ریس اور یق ینمی سکر سکتے نو اس لعنت سے ڈربں جوھوٹوں کے لے

مظررے۔ جمارابیاگی دوک ےک ج ببھی لفظ نما“ کی اضافت خداتعا یکی طرف ہہوگی دہال ا ںکامتی” طفہ “کنا صرف اورصرف نا اک سرشتء درید و دن اور زپان دراز لوگو ںکا کام ہے۔شریف پنخس انسا نکا کا میں - جا ا پک

()۸۷(

پان کامانک

مولوبی صاحب نے نحقرت مرز اصاح بکا با ہام در عکیاے : ِنا نر كَ بِکُلام لیم مَظھّرِالحَق وَاْعَلا کا ال نوَلَ مِنَ لماع ہھم کے ایک گر ک ےک ہشارت دی ہیں جو اور بلندی یکا مضہ ہوا مو یا خداآسمان سےاترا۔ (انا مآ معحم ۔روعالی نخزائع جلدا۱۔ ی۷۷) اس بر مولوکی صاحب نے عنوائن لگایا سے نشیس اکا پاپ ہہول“اوراس المام پہ تصرہ ب کیا ے” جب مرزاصاح کا یا غدا ہوا مرزاصاحب یقین غداکے پاپ ہوں و نے قا ری نکرام!جہا ںکک مولوی صاحب کے تر اشیدامفتر با نوا نک تتلق سےا کاسیدحااورسادجواب لَغتة الله لی اللکاذیی ہے۔حخرتەمرزاصاحب نمی بھی اوس یبھ کاب می ابی ای سکھاا ور نہ ریمولوئی صاح بب یچھی اپنے افتا موا غابت کر کھت ہی ںکیوکہ افزا ءبھی کی م۲ نیس بدل مکنا باقی جہا ں کک الہام ای اود اس پہ مولوی صاحب کےتصرےکاعکت ےا نکی ماد وٹ یکا جو اب و لذظ۳ تا“ میس بی موجود تھا[ سکاصتی ہے گویا“۔ ]شی دہبیٹا جن سکااس الہام میس ذکہ ہے اس سے خدا تال کی صفا تکا اظ ہار ہوکانہکہوخودخداہوگا۔اورلفظ ت٥ا‏ ““ عھو] اص لکی با ۓمظہرکے کر کے لے اسستتعمال ہہوتا ہے۔ اس لے مولوی صاح کا ہن اکددہ با دراصل مرا ہوگاہحخل گپھوٹ سے پا عوام النا م کو دج کہ میں پت اہک ن ےکی سج لا حاصل ہے۔ قا ری نکرام! ایا کلام اود ا لم مکی ز پان الی نوشت ں کا خاصہ ہے۔ اگ مول وی

(ےك۸)

صاح بکو اہ ںکاع نیس و ہم تا ۓ دینے ہی ںکہ جب جھارےآ ا ومولی ‏ مر ذات خدا حفرت وص فی کی ارڈ علیہ لم سنکہو ریخ ال نے دی نذا سے مد اک یآ مقراردیااور نوبدسنا یکہ

”خداون سینا ےآ یا۔اورشمرسے ان پر شکاراہوا۔ و ہکووفا ران سےجاو ہگ ہوا_ اور

نس بٹرار قد و بیوں کے سا تج ھآیا۔ اس کے دے ہاتھ پان کے مض شریعت تی۔دہ بے ئک تو موں مت درکھتا ہے“ (اتنظاء یا ب1۰۳۳ مت٢)‏ اور جب اگل نے1 کی بعش تک پشکدئ کی نآ پک ما لک کے پیر ابی شش خرا قراردیا۔ چنا غےللھاے : ”ایک اورخٹیل سنو۔ ای کگھ رکا ما تک تواجس نے ت سان لگایا ادر ا کی چاروں طرف احاططگیرا اور اس یں حون شکھودا اور بر بنایا اور ا سے باغخبانو کو شمیگے بر دو ےکر پردلمس چلاگیا۔اورج بن ل کا م وع رقری بآ با نو اس نے اہینےن کرو ںکو با خبافول کے پا اپنا ئل لے ےکوکیہا۔ اور باغبافوں نے اس کے کرو ںکو پناک رن یکو چیا اور یکو لکیااورری کوسکسا رکیا۔ پھ راس نے اورن کرو ںکو جیا جو پپہلوں سے زیا دہ تے اورانہوں نے الع کے سات بھی دی سلو ککیا۔آ خر اس نے اپنے سٹ کان کے اس می ےکرک کیا کر دہ میہرے ےکا فا کرس گے جب پا غپاوں نے بی ےکودبیکھا ف1 میں می سکہا کی وارث ے۔ 1 وامتے لک کےا لک مراٹ پر قضک لیس ۔اوراے کرک کان سے با رڈالا اور ممردیا۔لیں جب اکستا نک ما لن گآ کا نو ان با غبانوں کے سان ھکار ےگا ؟ ان ہوں نے ا ےاہاا نپ رکا رو ںکو بریی طرح پا کک ےکااور ہا ر٣‏ کا شھیل دوسرے پاغپانو کور ےگا جوم وع پر اس سکوٹچل د ہیں ۔ پیسوع نے الن ےہا ایام نے اب میس می بھی ہیں بڑھا الہ غنیجس پھ رکوممماروں نے ردکیا۔ دہ یکونے کے سر ےکا پچ رہ وکیا۔ بب طداوندکی رف سے ہوا۔ اور ہما ر نظ می جیب سے؟ ۔اس لے می تم س ےکا ہو کہ

(۸۸)

خداکی بادشا یتم سے لے کی جات گی ۔او راقو مکوجواس کے کیل لا ئئے دے 0-2۳ نی ات :7یا كش۴۳۲۳۳)

اوریچی ون جب ق ر1 ا نگم ریم میں جیان ہوا یا تک رآ

وَمَا رَمَيْتَ اِذرَمَيْتَ وَلٰکي الله لی (انفال:۱۸) (اور جب نو نے پچ بے تھا فو نکی پیک تے بہاددنے بے سے )

اور إِّ الَذِيَْبَايکوَكَ إِنَمَايبَايعُوْنَ اللَيَُ الله قُوٴق اَيْدِنْهمْ (الفتعح:١۱١۱)‏

کت

(وہ لوک جو تیر بیع تکرتے ہیں دو صرف انل دکی جع کر تے ہیں ۔ ال کا ات انی کے اھ بر ے) یس ڈع لک رآ پ کے وجودکوفداککاو جوداو رآ پ کے پا تج کوخد اکا بات خا یہ تک رگیا۔

مولوبی صاحب! اب بای ںک کوئی بے پاک جن رسول پ ہی سے سے لن تر انیاں سیک اگ رپ سے الم فکر بڑئی بے ہا کی سے مر سوا لکرس ےک کیا وذ پایٹد خر تعبداللہ خداتعالی کے پاپ تے اورخر ت آ7 منہ راتا کی ما ںیل اورتحظر تکپر مطلب س2 ".لے ا بے یا قر یں دی گے؟

مولوکی صاحب !وش لکر میں اویل کے نا ش نیس .آ1 پ سے پیلبھی ہم نے عو کین یکہاس سے ڑہ کر ات یکوئ یمیس ہوا کہ جو وش نکو مان ےکی خوائش میں اپنے بی پیاارو کا خو نگردرے-

مو نا! پیضمون ہم نے پل ہبھ یکھو لکر بیا نکیا ےک باغدابندوں مل جب خدا تال کی صفا تکی جو ور وی اذ اان برا بھی رنک چٹ ھت ہیں جن نکی وج سےدنیاان مس خدا تال کی تی کےنشان مشاہد کی سے گر چوک ہآ پ ان با تذل نان از الکو چکاآ پکو پیند ینیل اس لے دہال فدم مار میں کےا شھوک رد یکھا میں کے ۔ تھے !!!

)۸۹(

اطفال اللہ

اب اس مولوگابوال شی رکی بل ہی د بے ۔ککھتتا ےک جناب مرزاصاحب گر کرت ہیں :- مرا ۔ می راخداسے ایک تھا علق ہے جونا قامِ بیان ے۔ (براین ام یح چم ف۳ ۹ش ربوہ) اس نا قائلِ بیان عال تکوقاضی با رشح صاحب پیا ادایل پیر نے اپنے ٹ رب ٹم ر٣‏ موسو ”ا سسلائی تقر بای“ ے۳ ابی بالفاظاھرزاااس رت کیا : فبر٢۔‏ حخر تک موعودنے ایک موقعہ برای حالت بی ظا ہف ماکی ےک کش فک عالتآ پ پر ال رح طادکی ہوٹ یک گویا آ پ عورت ہیں اور الد تھاٹی نے رج لی تکی طاق ت کا اظہارفر مایا تھا ین وانے کے لے اشار ہکاٹی ے۔ بر۳۔ باہو الچی پش چابتا ےک تیراتیف دچھے بای پلیدگی اورنا پک بہ اطلاع پا ۓےگرخداتھالی کے اپنے انعامات دکھا ےگا جومتواتز ہوں کے او رت می ںی ہیں بللہوہ پچ وکیا ے۔ السابیجوءینزلہ اطفال اشدے۔( تبیہ الو ی>ف۳م٣۱)“'‏ اپنے شیا جذ با تکوظاہرکر نے کے لے مز با ے مندرجہ پالا خیوں جال اس با تکوخام کر نے کے مل ےکا فی ہی نک مرزا صاح بکا خدا ےعلق مھای میاں بیوئیکانتلق ہے ین کاپ نے اپنے رید خمائصس کےسا مے اظہارفر ماہا۔ او نٹ مر بر نے اس ملف کوشا کر کےجن علینغ اد اکیا۔ نیز الفا طک جن ل مل ہوکر پیم نکیا ہے۔ دہ بھی اطفال ال کے

(۹۰)

منزلہ ہے۔ ا کا صاف 7 جمہ مد اکے بی ےکی رح ہے ۔کیوککہ بیجیٹ اور بی مرزاصاحب ٹیل تھا۔ اس لے مرزا صاحب اپے کی تی مر را قاضصی صا حب خر ماتے ہیں ہین وانے کے لے اشار ہکاٹی سے“ بی مولوی یہاں پالئل گا وکیا ے اورینس مچمائی سے اس نے ا پنےا سکاگن دا ہرکیا ہے یکنرےسفلہ راج با زاری بھی ا سک نذ نی سکی اتی پہلاجوالہ جوا نف کیا سے دوصپ معمول ای رح سیاق وسباقی مچھوڑکر جن کیاہے۔حخرت مز اصاح بک اص کر ىہ ہے ۔آ پفر ماتے ہیں:۔ لت مالٹوں نے میرے عالا تکو پگھ اپنے عقائد کے برخلاف پ اکر اپے ولوں می سکہاکہ با کیا تار انسما نکواپنا خلیضہ بنا ےگ کہ جو ایک مفس د1ی ے جونا تق نقوم بیس پپھوٹ ڈ الا سے اورعاماء کے مسلمات سے ہا ہرجا تا سے ۔ نب خدرانے عات دا کہ جو بے معرم سے و میں معلوم یں بدا کا کلام ےک جو جھ پہ نازل ہوااورد تق یقت میرے اورمی رے دا کے درمیاان ایی با رکیک راز ہیں ج نکو دن یں جافقی اور نے خدا سے ایک نہا ی علق ے جوم مل نین ادا ار کےالوک اس سے بن ہیں یں بیع ہیں اس وی ال کےکہ شال اَی اَم مَالا تعلمَوْنَ“۔ (برائین ارحص چم روحا نی نخزائی جلدا٢‏ ر۰ ۸۱۰۸) مزا رین ملا حظف اتی ا عبارت مس الہام ال ”فال إِبَىْ اَعْلَم مَالاً تَغلموٰن “اترم با نک یگئی ہےاورخداتھا لی سےرازونیاز س٥ل‏ قکودا سے ف مایا ہے جوروحاشیت او نت لق پا کا یک اع مقام سے لین ا نخس کی حالات قاع لگکر سے جن س کا خرا تی سے ہالی تن قینئیں ۔ خداتعاٹی سے پوشیدہاوررازداراشلقی ایک مین کےصسن عیادت ا ول باویل کا آ تیدار ے جوحضرت بی اکم هی اوشرحعلیہ ولم نے لوں بیالن فر ایا

۔سے۔ ٢‏

۹0) آطاع رَبَُ وَآَحْسَنَ عِبَادَتة فی السْرٌ (من ا صن بل جل دص )٥۵۵‏

ترجمہ:۔ یقن سب ے زیادددہ مین پپند سے جوکم مال ددولت والا ہونماز ٹس پھاری حصہاسے ملا ہو اور اپینے ر بکا فرمانبردار ہو او جم پک راز دارگیٰ کے ساتھ خداتھال کی ہت بن رنگ می بندگ یکرت ہو۔

یں بی دہ شید ہاوررازدارائلأھقی ے جوحضرت مرزاصاحب بیالن فرمارسے ہیں درخ اتھالیٰ ا کی تد لق ان الفاظ ش(ر١٤ٴے‏ إِبَیْ اَغْلَمْ مَالاَنَعْلمُوْنَ ۔ اں تلق رازدارا نویس زیاد٤‏ جانا ہو تم نیس جات اور ہرا شف ج سکا غراتما ی ے تلق انیج هَ 0 وو رو و علیہ یل مکائھ ینحبوب سے کان بیگند ہد ئن مولوی ا یمن پہز با ننعن درا زکرتا ہے۔

۴۔ مولوی ابوالیش رع رفا ی روس رش ے ای رات نت عارٹیأ لکی ہےاورائس پر خوب اپ ذ ج نکاگندا خبا الا ہے ۔

مولوکی صاحب چچوئ ہآ پففسا نی او رگنرے معا مات کے فاٹی ہیں اس لئ ےآ پ کےم سےاڑصی با ںکا اگ لکوکی بجیدرا ق اس بات تٗ :

یں پ کے لئے حضرت بی پاک مل الطدعلیہ ول مکاببارشاد ے اذا نُس

سی فَاضمَع مات ۔ک اگ رترےاندرحیاءخنقا ےا چرچ جا ےکر

مولوکی صاحب!آ پکا اورکیھو ٹکا یما چٹ دال ن کا ساتھ ےکہ بے مثال ے۔ ج بیان؟آپ نے شوگ قاضی بارش کا در نکیا بہراسی کے دا ٹفش کا نتییہ سے جم سکی ۵0 پ۶ 1 مس بداشل ہے۔ چم اس جیا نکوسراسرگھھوٹ اور افتر اء کت ہیں-

ہآ پ کا جھوٹ اوراغتاء کے سا تھ چو کی دال نکا ساتھ ہے اس ےپ نے

اونگ

یش مجھوٹ بی کاسہارالیاے تا ک ہت نکو باریس عالائ ہآ پ کے بڑ ول نے1 پکو رش ہحت 0 ”ا حامقنی کے وا س کب درست ے' وی رشید رف ۵٥ھ‏ نا تشرا نشی یکارخانرالائ کنب کرای ) اس مولوئی نے حخرت مرزاصاحب کے ایک الام ىمِیْدُوْن ان يُرَوْا طمْنث وَاللَهبُیْدُ أَنْ يُرَيَك اِنعَامَة الإنعَامَاتِ لبرہ“ یج ضتل عبارت یں سے ایک اقتاس تن ےکراسے اہ فی اعت ران سکانشانہ نایا ہے ۔اگمر ینز سخلہعزا نمی تھا ضرورعحخرت مرزاصاح بکی سب ذی لک کر دہ تقر یہا ںککھتا چجواولیا ءا یراو رصوفا گرا مکی تما تکا خلاصہ ہے ۔فرایا:- نشی باوالی پش چابتا ےکہ تی را تین دسج بای پلیدگیا اورنا اکب اطلا ‏ پا ۓےگر غداتالی کے اپنے انعا مات دکھاا ۓگ جومتواتر نہوں کے اور چھھ ٹیل شی یں بلنہدہ بی ہیا ہے۔ایہا بے جونزلۂ اطفال الد ہے۔یجنی تین ایک اک گر پیکا نیعم بی سے تار ہوتا ہے ۔ ای طرح جب السا نغداک ہوچاتا ےن جس فل رفطرنی نایاکی او رگن ہوتا ہے چو انس نکی فطر تلوگا ہوا ہوتا ے ایا سے ایگ روعا نی کم تیار ہوتا سے نپ ی مت انماپی تر قیاتکا نت ے۔ ای یناءبرصو فی ہکا قول ےک اگ گنا ونہ وت لوان نکوئی تر کی شک رتا ۔آ و کی قیاتکاچھی بی موجب ہوا۔اسی وجہ سے ہرایک نی یکنز ور یوں نظ رکر کے استغفار بیس شخول ر پاے اورودی خوف قیا تکا مو جب ہوتار با خدافرماتا سے ا اللہ یح اواب وَ یب الین لیس جرایک ای نآ دم اپنے اندرای ک تی شک نا پاکی رتا گر دہ جو جج دل سے دا کی طرف رجوں کرتا سے ود ی جیٹس ا س کا ایک اک ڑ کے کا مم طیا کرد یتااے۔ ای مناء پر خدا ین ڈاکی وت وا ےا ای الات میں لیکن یی نکد ضا کے رت

رت سیت

)۹۳)

جیے ہیں ۔کیوکہ رن کم کفر سے اور خدا بیوں سے پاک سے بللہ اس لے استعارہ کے رگ ٹیل دہ خدا کے بی ےکہلاتے ہی ںکددہ پچ رکی رع دی جو سے خر اکو بادکر تے رتے ہیں ۔ ای ھ رت کی طر فق رآ ن شریف می ار ہر کے فرا کیا ہے ما ڈ نوا اللہ مذش رشحم ابء شُم از اَفَة نوا مجن خداکوا می عحبت اوردٹی ہل سے یادکر وی اکہ پچ راپنے با پکو بادکرتا ہے۔ ا ناء پہ رای ک تو مکی کتابوں مج اب با جا کے نام سے داکو کا ریا ہے“ ( ت ریت االیتی روحا نی خرزائی ل۲٢‏ ۵۸۲۵۸۱) مولوی صاحب !بآ پک مجبودریی ےکآ پ ان با نو لکونئی ںمپجھ گت ورنہ صوفیا کرام اور راتا ٰی کی راہول کے سا اتک اپنے تارب سوک پیا نکر تے بہوئے یت ہی ںکہ جب سا تک قرب الہ یک راہوں پر غرم مارتا اذ ایک اس مظام پر چنا سے جھ مام غابت سے اور وہ مردم کن بن زلبگورت کے بہوتا ہے۔ یی اک حقرت سی رعبد القادر جیلانی رع ال عایرنے اٹ یکا ب نت الغیب میں مقا لی ۹٢و‏ ”لا تسکشف السرقع 0 9 0رر گے شردر فر مایا ہے۔ج٘ سکی شرب میس تچ عبدالئن محرت دبلو یک رمیف مات ہیں۔ من دنر برتح وفقا حکہازلیائس نماء است اشارنست پا مردت ظبو رکال ون ان نذحیدگمز نان داردودکوی مردا ازوےدرست پاب '- (فع الیم نے ۱۱۹۔ الال المادسۃ والر ون ) شی برح اورققا کی تشرع یر ےکہ بیقر تکالباس ہے۔اس میں اشارہ یو ےکہ خظہو رکا کک مدکی مخز لہگورت کے ہہوتا ہے۔اس وفقت ان کا مر داگیٰ وت ون -

بل انی میا نک رآ ۓ ہی ںکہسور وت رم میس خدا تا لی نے مومنو کی مال فرکون

اونگ گی ہوںی سے اورصحخرت مریم سے دی سے۔ یہ وپی مقام سے جہاں راو لوک میں قدم مار نے والا مر دنز لیگورت کے ہہوتا ہے اوھ جو ٹ یکر کے متام م بھی بی تا ہے با بھی صفت ہوجاجا سے بچھراذان ال ہوقذاس می رو ہوتا ہے ء میم ہا سک نل کا ہونا سے اصطاا ج وف میں ولا وت مو یکا جاتا ہے جلیہاکمشبورصوئی امام الطا نہ حخرت چ ااسبرددر دی نے ال لک وضاح تک ےک:-

”یىصیر المرید جزء الشیخ کما ان الولد جزء الوالد فی الولادة الطبیعیے و تصیر هذہ الولادة انفا ولادة معنویة کما ورد عن عیسی صلوات الله عليےه ء لن یلج ملکوت السماء من لم یولد مرتین ء فبالولادة الاولی یصیر لە ارتباط بعالم الملث, و بھذہ الولادقیصیر ل ارتباط بالملکوت, قال الله تعالیٰ : کذلك نری ابراھیم

ملکوت السموات والارض و لیکون من الموقنین) و صرف الیقین

علی الکمال یحصل فی هذہ الولادةء و بھذہ الولادة یستحق میراث

الانبیاء و من لم یصله میراث الانبیاء ما ولد و ان کان علٰی کمال من

الفطنة والذ کاء“۔ (عوارف المعارف از علا مہ تن عب انظاہر ری یعبد اد اسبردردیی۔جلداولی ۔ع ہے مخ دارا حرف بیروت لمنان )

کہم یداپنے ش کسی رح حص بن جا ناج ظلر ولا دم تھی میس بنا اپنے

با پ کا حصہہوتا ہے۔م بک ولادت ولا دت م“منوی ہوٹی سے جلی اک حضر تی نےفرمایا ےک کش ون دا ا تی کات سن دخ ین انل تک سے اما نع کا نیا ےتکن رتا ے اور ولا وت ممنوبی سےمکوت ایی کے سا تج ۔ بی می اس آ یت کے یں وَ کذلك نُری اِبْرَامیْم مَلگُوت السُموٰتِ وَالارْض وَلِیَکُوْنَ

)۹۵(

کے ساتھھ ھی انسان اخما کی وراخت کان ہوتا ےج سی سکووراشت اخمیاء نہ لے دہ پاوجوددانا وہوشیار ہو نے کے پیرایں ہوتا۔

ولا دت ممتنوکی بی بخزل“ اطفال ال کے ہے اسی فاس کو ححضرت مول نا رو نے

انی مشنوکی بل ااسل ط رب میا نکیا ےکہ: اولیاءاطفا لت ا مر اے پپم ( نو ی روم وف سو صلی۲۳)

ین اے بے اولیا در اتھاللی کے اطغال ہیں-

صولوکی صاحب! ا بآ پ جی بتا نمی سک قاع علامت دہ لوک ہیں جو اطقال الل کہلااتے یں با ان برعلا مت اورعلت کے تی چا نے وا نے ۔حضرت مرزاصاح بکولو خر اتعالیٰ نے اطفال ای شحارکرل یا رآ پ بتا می ںک ینکر کے1 ببکنالوکوں میں شمارہونے کے ہیں۔

7 بپ؛ب, َ ا نے ححخرت سلمان فا ري کردا کا ےا 1 ضر ےےل الطعلیہ ولم نے فرمایا

اَلکذبُ حَيْص الرَجُْلِ وَالاسْیغفار طَهَارَنَ ( کاب فردوں اا خہارویی جلر+ صفٰ۳٣٣۔حرمٹ‏ ۲۹۸۹)

کیجھوٹ مردکا تی ہوتا ہے اور ا سکی صفای استغفار سے ہولی ہے۔

ا والپی بش حضرت مرزاصاحب می ںکوگی بھوٹ ثایت کر کا اور ای ناپاک کوششوں میں نا مرادر پا رمولوئی صاح بآ پ کے پمفلٹ اور جمارے جوا بکا ایک ایک لفظآ پ کےجھمو کوا بب کر ک ےک1 پ کے تی کی نا دا یکر با ہے۔ می ںآ پکو جا ہے اپنے گھوٹ اوراپی افراءپ داز یوں سے بازآ میں اوراستغفا رک می ںکیوکی استتغفارج یی کوٹ مک ےگا و ماعنا ال لبلأ-

7

)۹۷(

2 م۔ ہھ ٥‏ ہے 3 ۰ ۴ کن فیکون

مولوی صاحب نے حخرت مرزاصاح بک کاب عقرقۃ الوگی ےآ پ کا در ذ یگل ا لہا مک وک راس یڑ می عف تک نکا ما لک ہوں'“ کا عنوان بانرعاے۔ (الہام ے)نمَا اَم كَ اذا ارذ شَیْعا ان تَقُوْلَ لَهُ کن فَیگُوْنُ_

(اےمرزا) نو شس با تکاارادہکرتا ے دو تیر ےعھم سے فی الفورہو انی ہے

کر سنہ ۵۲۵۔۵۲۷ ط٣‏ اصف ۸۲۷ (<لیت: الو ی“۵٠۱۰)‏

اس الام می سج یکوکی تائل اعترائ با ت کیل ہ ےکیوککہ اس سے صرف مہ امت ہونا ےک حضرت بای سلسلہات بیعلیرالسلاممحبوب خدامیں وٹ _

چنا نچ اتال قرآن باک میں فراتاڑے:۔

صْغة الٰھ۔(البقرہ:۱۳۹)ایٹرکارنگ اخقیارکر وس میس پییمخمون بیا نکر اطتقصور ہ ےکی و من اپ ےآ پ پر یتال کیا صفات اورا کی عادا تکارنگ چچڑ اتی -

آحضرت نوف ماتے ہیں سعلقذا بای اللہ (نخی رمازی جڑعز رایت یڑؤتی الحکمة من یشاء .لبق ے٢‏ )کہا ےا وگواپنے اند رای کے اخلاقی پیاکرو۔ چنانہ جب خدا تھالیٰ کے خوش لعییب بندے اللد تال کی محبت میں تزٹ یکرت لے جاتے ہی تو خداتالی ان کےکائن بن جانا ے:جن سے وو مت ہیں اورا نک ینمی بن جانا سے جن سے ود ین ہیں اوران کے پاھ بن جاتا ہے بجن سے دہ پل تے ہیں اوران کے پا کش بن جا تا ہےکن سوہ لے ہیں ۔ چنا غج ایک عد یت فی می الد تھا یف رات ے:۔

”مَایَزَالُ عَبْدِی یَمَقَرّب لی بالَوافلِ حعیٰ اه فَإِذَا اَخبيْتَه فُکُنْتُ صُمعَۂ الَذِیْ يَسْمَم بہ وَتَصَرَۂ الَذِیْ بتصِرْبہ وَیَدَۂ ایی ببٌطش بھا وَرِجْلَه ال يَمْغی بیھا۔ '(بخار یکتاب الرقاقی ہاب ال تع )

(ے۹)

یج و لکریم لف مات ہہ ںک الد تھالی نے فر مایا ےکن لگمزار بندہ میرے قرب میں تزث یکمتار تا ےت کہم اس ےےعحب تکرنےکلتا ہو ۔ ٹیل جب میں ای سے عحب تکمرن ےکنا ہو ں نے ٹیل اس کےکیالن بن جاتا ہوںششن سے و وا ہے۔اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے ود بکتا ہے اس کے پاتھ کن جا ا ہوں جن سے دہ پلڑتا ہے اوراس کے پا کول بن جات وںںشکن سےدہ چنا ہے۔

یی انان کے وجود میس ارتا یی صفا تک یقجلیا تجلد ور ہو کی میں جلی اک بغار گی ممکودہ الا حدبیث میں بیان ہوا ہے۔ چنا یراتا لی کے نویوں اور ولیوں کےسا تھا تھا ی کا یی لوک ہہوتا ےک ار تھا لی ا نکی می اورخوائنش کے مطا بی کن فیکون کےلظارے دکھا ا چلا جانا ے اکراان کےتق رب الی ا کان کے مات والوں پرا ہار ہوتار سے مگ راییا بھی ھی ہوا ہے۔ پیش الما ٹیس ہوتا ا لو یکہیں اخمیاءاوراولیامکوش دا کا ش رکف راز ےر لاک نہہوجاتمیں_ یی ضمون حضرت پالی ساسلہاح بی کے برکودہ ال الہام میس بیان ہو اے- یھی صدکی ری کے عارف پاش حضرت سببعبداتقادر جیلا یمن الڈعل یلت ہیں :-

”ره عَلَیَكَ النكُوییُ بالاڈن الصَریح .... قَال اللهُتَعَالیٰ فِیْبَغض نِم یا اِبْیَ اكَمَ تَا الله اه الا آتا ول لِلشُیْءٍ کن فَيَكُوْنُ وَاَطِغِی اَجْعَلكتَ تَقُوْلْ لِلشُیْء تن فَيَگُوْن وَقَذ فَعَلَ ذلك بکییْر من انبیَانہ وَاَزلِیائہ وَحَرَاصْہ مِنْ بی اکم“ (فےح الغیب متا لی ٦1۱خری‏ پچ گراف)

(جب و خداکا پیارا ہو جا گا دتھالی کےاذ لن ص رع کے ات تھے کسسن فیکون کیشان عطا ہو جات ۓگی ۔۔۔۔الاندتھالی نے اپنیپجنف سکتاہوں میں فر مایا اے ام نآ دم میس الد ہوں می رے سواک وگ ی یی معبووکہیں ہے۔ می کیا یکوکپتا ہو ںکہہوجا تو وہ ہوا ی ہے۔ نو میبری اطاعح تک میں ےکبھی ایا بنادو ںگاک نی یکو ےکا ہوجا نو وہ ہہوجاۓ گی۔ اللہ تھالی نے ب یآ دم جس سےاپنے بہت سے امیا ءءاولیا ھاورخوائص کےساتقع یسل ککیا ہے۔(م]شن کی کن فیکو نکیا شان عطا ف رای ے)

(۹۸)

ایک اورمقام بر حضرت سیدخبدالقادر جیلا لی رحمت ال علیہ اولیاءکی شا میس ف رما ہیں:۔

”بهم تَِساث الزض وَالسُمَےء وَفَرَار المَوّتیٰ وَالاخیًاء إِهْجَعَلَهُم َلِيْكهُم اَنَادَا رض الیی دَحی فَگُلُ كَالْجَبَلِ الَذِیْ رَسَا.

(فقح الغیب متقا لغ م٣۱‏ خریی پچ اگ راف )

تر جمہ:۔اولیاءالل کے وجودکی برکت سے ز مان وآسمان قائم او رای کی بکت سے ردوں اورزندو ںکوقرار ہے ۔کیونگ الع کے بادشا نے انی جنھی ہوئی زین کے لئ ین کے لور پر بنا ے۔اس لئ ہرد لی الڈرایک اےے پاڑکی مامند ہے جوا لہ ہگڑ اہواے۔

ححضرت سی رعبدالتقادر جیلا لی رحمت ای دعلیراولیا ءکی شمالن می مر یدفرمات ہیں :- .08( السُمَاءَوَبهم تنبتُ الَازْضض“

(ائی اکر نی ایض الرعالی ص٣‏ پہل جج گراف)

ووعلگوں اور بنعدوںل کے رزق کا ذ رجہ ہوتے ہیں ۔ انی سکی وجہ ےم|لوقی سے بلاٗیں دورکی جالٹی ہیں ۔ ان سک وجہ سے بلندیاں اورتز قا تضحییب ہو بی ہیں ۔انئی سک وج سے انید تھا لی بارش جرسا تا ہے ۔ انی سک وجہ سے ز لن الگا لی ہے۔

رت امام بای میردالف نال ی رح تال عل یف ماتے ہیں:-

”انان مان ائل ار اند ہمت روزگار۔بھم یسسطرون وبھم یرزقون در خابخان‌است" ( توبات امام ر بای حص شش وف دوییمکتو ب۹۲ ص۳ مطبوے ا ہور)

ان یکی وج سےائل ز م۲ نآفات سے بجاۓ جاتے ہیں او رای کےسبب اٹل زما کو فان رعطا ہوتے ہیں انف یک شاان میس مہ بیان ہوا ےکمرالن کے سب پانٹیں بدسائی جائی ہیں اوراپڑیں کےسبب لوگو ںکورزقی دیا اتا ے۔

جمضموان ان عارف لوگوں نے ق رآن وحدبیث سے اخ کر کے اوراپنے سا تج اور در

)۹۹(

اٹل اید کے ساتھ دای لو ککا مشاہد ہکر کے بیا نکیا ے بب یمفممون حضرت باٹی اعت ات یدن گی اپ یمکتالہوں شس بیا نف مایا ہے ۔آ فر مات ہیں:۔

”نیادرکھنا جا ےک خداتھا لی کال عحب تکی سی علامت ےکائشت می لی طور پر ای صفات 77 نین ۔اور جب کک الہما ظ پور یں ہآ و ےت ب کک دکوںی عبت تھوٹ ہے۔عحب تکا مل ہکی مثال بی ش لو ےکی دوحاات ہے جہلہ و ھک میں ڈالا جاۓ اوراس قد ر آگ اس میں ا کر ےک دہ خودآگ بن جاۓ لی اگر چ وہ اپٹی احصعلیت مم لوہ سے ۔آگ یں سے مر چو ہآ گنمایت درج راس برغلبرکرگئی ہے اس لن ےگ کے صففات اس سے اہر ہوتے ہیں۔وہ ن ککی رح جلا سنا ہے ۔آ کک رع اس میں رشن ہے۔ یں محبت الہ کی مقیققت بی 0 1:9 ہہ اس تقیقت کک پا نرسکنا فدہ یچھھ نز ن تھا ان اسلام ال حقیق تکک بایان ہے ۔اقول انما نکو جا ےک ہو ےکی رح ای اتتقامت اورابمالٰی مضبڑھی بیس من جائ ۔کیون گر ایی عاات ٹس وا شا کک طرح ہے آگ ا سکویچھوتے بیع مکرد ےکی ۔ پھ رکیکر دہ آک کا مظہ رین سکنا ہے_ افسوں بی نا دانوں نے عبودیت کے اى راع نکو جور بوببیت کے سماتھ ےجس ےکی طور بر صفات الیم بندہ یش پیدا ہوتے ہیں ج رک رم رک ال وگیا ٠ن‏ نٹ پراختراتكیاےکہ انما امر ك اذا اردت شیتاً ان تقول لە کن فیکون-ٌّقَ ترک یہ بات ےکہ جب لے ایک با تکو کیے ہوجا نوہ ہوجا لی ہے۔ بی خداتھال یکا کلام سے جھ میرے پ نازل ہوا می رک طرف سکیل سے اورا سکی تد لی اکا بر صوفیاء اسلا مر جے ہیں جاک سیدعبدالتقادر جیڈا لی ری اللعنہ نے بھی فت ح الغیب میں مھ یکھھا سے او جیب تر برک رسیدعبدالقادرجیاا نے بھی مج یآ بیت ٹین یکی سے“

(برا بن اھ رح تپ ردعالی خائى جلراضص۳٢۱۔۴٣٠)‏

رآ پت یف مات ہیں ن ا کم رت یتب سا کک کے ل ےکا طور تق ہوتا سے کہ جب رای رنگ بشریت کے رگ دوکو تام دکمال اپنے رنگ کے بے متواری اور پشیدہ کرد بیڑے۔ جس رع آگ لو ہے کے رت ککواپنے یچ لیا چھالڑقی ےک نظ رظاہرمیس ہز

٭م +مي٭

)٠٠١(

نگ کے اور جو کھائی ہیں دیتا۔ یوجی ام ےجس پٹ چکرض این نے اغوشی ںکھائی یں او شود ون رکوو جودئی بیوند کے رک میس بھولیا ہے ۔اس متام میس جواولیا ایی ہیں با ش نکواس میں سےکوئ یوون میس رآ گیا سے ۔بپنح اب لنصوف نے ا نکا نام اطال اڈ رکودیا سے اس مناسبت س ےک دولوک صفات ال کےکنا مر عاطفت ٹیل ملک جا پڑے ہیں اور جیے ایک سکالڑکا اپنے علیرادرخط مال یس بج اپنے باپ سے مناسبت رکتا ہے ولیباہی ا نکو بھی لی طور پر بی کن پاخلاقی الد خدا تا ی کیا صفات جمیلہ سے پٹ مناسبت پیدا ہوئی ہے۔اییے نام اکر ج ہکط ہر طور پر بزبان شرع سمعم لہیں ہی گر درتقیقت عارفوں نے ق رآ نکریم سے چی اس سکوا تنا کیا ےکیونکہ الل لھا نف رما نا ے فا ذکرُوااللة مر ابا حم آؤ شک را ۔(البقر:۱٣)ی]شنی‏ اللدتھا ‏ یکوا با یادکر کہ شیستخم ابے باہو ںکویاد کرت ہو۔اورظھا ہر ےک ہاگ رجیازی ور پران الا کا اولنا منبیات شرع سے ہوتا فو خراتالیٰ ابی رز سےاپٹ یلا مکومضنزہرکتا نس سے اس اطلا یکا جوازمستتببط ہوسکتا ے۔ اوراس درج لت یں ین اوقات ازسمانع سے الےے امورصادر ہو تے ہی سک جو شربہت کی طاقتوں سے بٹ ھھ ہو ے معلوم ہو تے ہیں اورا لی طا قتکا رک اپنے اندر رت ہیں جیسے ہمارےسید ومولی سیر الرکل حضرت نات الاخیاء یلگ نے جنگ بدر ٹیس یک گر بیو ںکی تشھ یکفار بر چلائی اورد ہش ای دھا کے ذ رجہ یس پلک خو دای روعالی طاقت سے چلاگیگر اس ھی نے خدائی طاقت دکھلا کی اورخال فکیافو نج پرایاخارقی عادت ا کاٹ پڑ اک کول ان ٹس سے الیا نہد کی سک یک پر ال لکااثر نہبچاہواوردوسب انداعو ںکی طرح ہو گے اور ایس انگی اور بی بایان شس پیدا ہو کہم ہوشو ںکی رب پھانا شور عکیا۔ ای جزہکی طرف اللجلخا ضرا لآ یت میں اشار خر بات ے۔وَمَارَمَْت اِذ رَمَیْےٗ وَلكِيْ الله رُسسسی'۔(الانفال :۱۸ ]نی جب نے اہں یکو پینکاددنذ ےنیس پھنکا بل خداتعالی نے پچھیکا۔ ]نی در پر دای طاقت کا مکرگئی۔انسا نی طاقتکا یکا م نا اورایای دوسرامجمز ہآفضرت ‏ یلک جوش انقمرسےاسی ابی طاقت ٰ-9-‏ ۱ - ص- ٰٰٰ' ۰ 0

)٦١۱۱(

طاقت ےکور ہہوئ یی وفوغ می ںآگیا تھا۔ اور ال حم کے اورھی بہت سے ہزات ہیں ج صرف ذالی اقتر ار کےطور آففضرت 0 و ا ا ا تھوڑے ے پا یکوجوصرف ایک پیالہیٹ تا انی انیو ںکواس پالی کے اندرداق لکر نے سے اسقدرزیادوگردی اک تام لشگراوراونڑں اورگھوڑوں نے دہ پافی پیا اد ریگ تھی دہ پان دای اپ مقدار بر مو جودتھا۔اورئی دفعددوچارروٹھوں پر بات ررکنے سے بزار ہا بھولوں پیا ل‌کاان رے شمکم سی کردا ۔اورشتض اوقا تتھوڑے دودہ ہکو ای لہوں سے کلت د ےکر ایک ماع تکا پیٹ اس سے مجردہا اورنت اوقا ت شور بکنومیں میں اپینے منکا لعاب ڈا لک اس ںکوٹہایمت شی ری ںکردیا۔اورٹنت اوقات خت رو ول پراپنا ات کوک را نکوا اکر دیا ۔اور* اوقات آنگھو ںکوجشن کے ڈبیلڑائی ےی صدمہے باہرجاپڑے تے اپ ہاج کی ہکت سے پچھر درس تکردیا۔ایباہی اورگھی بہت سےکام اپنے ذای اقتار سے کے جن کے سا تق ایک کی مل وا ظز ےت

ی0 ر0 لو ا وواس مرج کوشا ض تھی سکر سیت جس می لی طور بر الہی طاقت انسا نکولقی سے ۔ بی اگر وہ ای پاؤں یں نووا نے می بھی معذرور ہی ںکبونلہانہوں نے بڑطفاا ترحاات کے اور تی درجردوعالی بلو کو کی سکیا۔ اور تصرف ابی حالت نان رکھتے میں لہا بات پہ خوش ہی ںکہائی حاات نا قصہ ٹل م رب گگی۔۔۔۔

ہمارے پادی دمقتداء مل نے پباقتاری خوارقی تصر فآ پ دی دکھلا ۓ پان خوار یکا ایک سیا سلسلہ روز خی مم ت تک انی امت میں گچھوڑ دیا جو پییشہ اور ہرز مانرشی شس سب ضرورتز ماہینپور می ںآ تر ہا ے اوراس دیا کےآخریی دفو کک ائی رح اہ رہوتار ےکا اورا لی طاقتکابرنذ و شس راس ام تک مقدس روہوں پر مڑاے اس سک ینعی دوسرىی امتوں :2 شی ے۔۔۔۔

ین بی بات اس مہ یاد رکھنے کے لالی ےک را حم کےاققر ار خوار قیگوغراتعا یٰ گی رف نت نیو کے ہیں گرب ھی ضدانا لی کے الن خاص افعال سے جو بلا ٹڈ سیا ارادخ م

)٠٢(

ظمہورہیںآتۓے ہیں کسی طور ے برابرئ نی ںکر سک اورنہ برای ہونا ال نکا مناسب ے اکا بجہ سے جبکوئی می او لی اق ای طور پرلضرفذ سای دھا کےکوکی الما ام نارق عادت دا وے جرانا عفان ار ےن ےن ای نان افمال ے/ رر جو درا تھا لی علاشیباو ہاش راقو تکاملہ ےل ہو ریس لاتا ےت یی ایبا اقةر اریہ زہ ربدت دوسرے الہ یکا موں کے جو بلا وا سالجا نہ ےپور میں آتے یں ضردر پش او رکردری اپ اندرموجودرکتاہوگا ا سرسری لگاودالو ںین میس نا رن اشلق داع زہو۔اسی وج ےحضرت می علیہالسلا مک حصاباو جو دا ک ےک کی دقعہ سانپ بنایا نآ رخصا کا عصا یر ہا۔اورتخر تک گی بچڑیاں باوجودیلشجزہ کےطور پا کا ہروا زکرم سے نابت ۓےگر بج ھی ٹ یکی می بی جھے ۶س" 1 روز گی 07 ۔اورہمارے ی کے اقرتہ ا ری خوارق میس ےکلہ ما خت ای سب سے زیادگاربی ہوئ یش یکیوئک وجو وآحضرت لہ لیت الہ کے لے اقم دای وارفع ول نون ھااس لگ جماریفظ ری ںآحضرت ‏ لگ کے اق ارک خوار قکوسی درجہ پشر یت پرمفظرر کرنے سے قاصم ہی ںگرتا جم جھارااش پرایمان ‏ ےکہائش کی اڈ لا شداوراس کے رسول کریم تل کنل می کی طور بر بیرق ض رورہوگا۔ اب الک میات ے جھا ری خرن اس قد رےکہلقا کا م حرج بکسی انسا نکوس رآ تا ےو اس مرتت کی کےاوقات یں الیکا ضرودائس سے صاددہذ تے ہیں اودا لینخھ کی می صحبت میس جینٹح ایک جع رکا بس کر ے و ضرور یٹ نہ یھ باقن ارک خوارق مشابرہ کر ےگا کیوئکہ ا تو کی حالت میں پھ لی صنا تکا رت کی طور برا نمان می س٢آ‏ جاتا ے پیہا لک کک ال سکا رت خدا تال یکا رم اور ال سک غحضب خدا تا یکا خحضب ہوجاتا ے اور بسا اوقات دہ اخ کی دعا کےکبنا ےکفلاں چز پیداوجا ےل دہ پیرا ہ٭جالٰ ےاور تٹ- کی نظ سے د کنا ےن اس ب وی دبال نازل ہوجاتا ے اور یکو رجح تکیظ رس د جا نے دودا تھا لی کےنزد یک مور رکم ہو جانا ہے او ریہ اک راتا یکن دای طور نت قصود کو بلتخلف پیر ارتا ہےالیبای ا ںاشن بھی ا سکم ناورم کیا حاات میں خطا نیس چاتا۔اور

)۱٠٢(

تی اکہ میس جیا نکر کا ہوں ان اق ای خوار قکی اصمل وج بی ہہوٹی ےک ین شرت اتا لکی ہے را وی ےرک لی وہ کین وو جا جا ہے اوز ات انان پہ دای بض کر لیے ہیں اورحبوٹ تی جب عامکرکودرمیان سے اٹھاکرنہایت شد بیقر بکا وج سے گ مآ خوش ہوجا جا سے او ری کید خودمپارک سے الیما بی اس کے اقو ال وافعال و ات اورسکنات اورخو راک اور پشاک اورمکان اورز مان اوراس کےم موازم یں رت رود یتا ہے تب ہریک چز جوا سے سک کی ہے اقی راس کے جو یدع اکرے بت پالی ہے۔اس کے مرکان یس برکت وی ہے ال کے وروازوں کے ستمانے برکت سے کیمرے ہہو نے وا ا لگ کے دروازوں پر برکت برستی سے جو ہردم ا کومشاہرہ ہوٹی سے اورائ کی خوشمبو ا کو آئی سے جب پیسفرکرے اذ خداتالی مہا پٹی تھام برکتوں کے اس کے سا تھ ہوا ہے اور جب یی می ںآ وے نو ایک ددیا ندرکا ساتھ لانا ہے۔ نغو می جیب انسان ہہوتا سے جس سک یکن ہز خداتھالی کے اورکوگ ہیں جات“

ئینرکالات اسلام ۔روعائی خ :ان جلره ض۹۲۲۳٥)‏ 09

)٠٢(

مولوٹی صاحب نے حخرت مرزا صاح بک یکتاب خعلیہالہامیہ سےسب بل عار تنا لک ےج ”َأضطیْث صفة الافناء وَالاخیاء من الب الفقال اور ممےکوفا یمرنے اورزن وک ےکیصفت دب یکئی ہے اور ریعفت خد اتا کی طرف سے بج لی ے۔ (خطہرالہامیروعا ئی خزائی جلد٦‏ اص ۵۹۵۵ ٹج ریو )““ ورس پرھنوان با نا ےش بی اوریت ہولءء- مولوی صاحب! آپ نے بیہا بھی افتزاء باند حتے ہو بیعنوان حظرت مرزا صاح بکی رف ”سو بکیاےمعخرت مرزاصاحب نے مگ ابھ گی اورعیت ہوے کا رکوکی تی ککیا۔ ہال بیفر مایا ےکمصفت احیاء وافناء یل سے خداتعالیٰ ن ےآ پکو ایک صودیا ے۔ ہا ں جک صفت اجاء وافا ءکا مراقال یطرتفے سے دیے ا تالق کے ا معلوم 1‏ پکواس پر اخترائ کیا ہے۔ جآ پکامسل تقد ےک ححضر تی علیہ السلام مردو لکواپنے دم سے زم وک دیاکرتے تے بللہ ا ںکقیدہ پآ پکوایمااندھا اختقاد ےکہ آپ بیفت ہمارے پیارے نی سیر الا یا تر یملف صلی ایل علیہ وسلم مین گوارا تھی ںکر کت جآ پ کے لے خداتھالی نے کی وضاحت سے یباعلا نفرمایا:- ”یآ یھ الین امَنُوا اسْمَجیُوْا لہ وَلِلرَسُوْلِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا بُحْییْگُم“ (النتال:۲۵)

)۱۰۵(

ہر اے مومنو! راودا کا رسول ( رمصفی صلی اولد علیہ وملم بکھی ہیں پلا ےو تم ضرورجواب د اکر وکیوفہ و ہیں زندگی عطا ا اے۔

ال سید الا جیا ء رت حم مصطفی صلی ال علیہ و مکی ذات صفت احیاءکی ای طرح جو ہگ :سے جس طرح درا تالیصفت احیاءکا ما نک ہے۔اورخد اتا لی نے الس عحضت یس حضرت مھ رسول اول کی اد علیہ ول مکی ذا تکوخود سے ملح ہنی سکیا ین مولا ن! 1 پ لوک ہی سک ضرتتکیمی علیہ السلا مکوقے عفت اجیا کا ما لکل ما تن ہی مگ مھ رسول اڈریصکی اوعلیہ ویلم کے لئ رخ یگوارا نی سکرتے۔ مولوٹی صاحب !ححخرت مھ رسول کی ال علیہ یلم کے لے جو یسخیفٹھم کاہفدا تھی نے ان فر مایا ہے بیخداتقالیٰ کے دیکر بندول میں صفت احیاءوافلاء کے لے ای ککسوٹی اور پا نے کےطور بر ے۔اورااسں سے ہی بتانامقصود ‏ ےک ہاگ رآپ سے پیل ماپ کے بدکوگی صفت احیاء وافیاء ےلوازا جات ہے ذ اس سے مرادروعاٹی احیاء وافاء سے نہک جسمالی لور پر زندوانساا نکوقب می اتار د ینا اوٹریٹس پڑے مردہکوزن کرد بنا۔ لیس ہمارےآ تا ومولی سیرالا جیا ر رت رصطلیْ صلی ایشعلیہ ول بی خداتعال یکیصفت احیاء دافاء کےمظبراتم ہیں ۔ اس احیاء داظاء کے لے پ وا تھالی نے جو بعطا فرمایادوبینہ سے چنا مال تھا اف راتا ے:۔

7

یفلت من خلت ارت خی لمح عن' بی زالانفال :۴٣م‏ کہ لات زدددہ سے جودلیل سے ہلاگ پوگیا اورزظدددے سے دحل 079232 ٹین ٹیرٹس نےحض ری ئ یفص او علیہ ول مکی ٹن کردہ یسنہ کوقبو لکیااس 722 تے ہاتھ ےآ ب حیات پالیااورحیات رر یکا وارث بنا اور وشن نے ا ینہ راد یاااسں کے اب موت کے پیالر سے ہمکنار ہو گے اوردہ پلک تکی تا رییوں بل ا رگیا۔ییں 1 کو کہ سکما ےک ہآ پ پر ایمان الا نے وا نے حضرت ابوکمر :عم عخثان بی ء

لہ ز یہ بلال ری ایڈنھم وی مآ رج زنر ویش اورکو نکہتا ہ ےکا نکی زن گی جاودالٰ

)٠١١(

یں _ اوراس کے یکس سردارا ن ق لی ء جاہ نم کے ما تک اورصاحب ججروت رساء جنہوں نے اس بیندہ وھک رایاءکیاکوئ یک سکنا ےک دہ باوج دجسمانی زن دی کے زم تے۔ یں درتقیقت بی احیاء وا فا رکا 7 بے جوسیرالا نمیا تضرتت وص فی صلی ال علیہ ھی فلا می کےشیل امت ںکواھی ملا ۔ جن شی سے ایک حضرت مرزاصاح ب بھی تھے۔

مولوکی صاحب ! ؟بیں ڈر ہےکہساری یقت کھت ہو ےھ یآ پ اس سے اکر یکر مس ساس ل7 نے پوپ ہی کےراستن پہ لے ہے ہیں ۔اورودہ یر ےکآ پ یی ےکمفراق کوک کرت ہی ںکرحضر تی علیہ السلام مردو ںکوزند کی اکر تے تاور پکامسلقیرہ ‏ ےکہردد گی علیرالسلام دوبار و دنیا می ستشریف لائیں گے ۔لہذا 2 لا زا صفت احیاء کے ما نک ہوئے ۔ اوراس مھ یآ پ اکر غھیںکرتے اور تک سک ہی ںک نے وا ےج کے علق ہما رے؟ تقاومولی تحضر مم صضنی صلی العلیہ ولھفرمات ہیں (مککوۃالصاع .کاب الفشن ۔ ہا ب العطا مات ۔ بین بل کی لماح وذکرالد جال مو الب الاسلائؤ بیروت )

کہم سکافرت کک کا دم بن گادہ لاک ہو جا گا۔

یں کیاقوت احیاءاورقوت افثاء کے1 پ خود ضرف میک ہقائل میں بل ہآپ کے یا دی عنقا مر میں بیشال ہے ےب راعترائ کس بات بہ ے۔

مو نا! رت مرز اصاحب نے جس اجیا وا فا مک دوک یف مایا ہے دہ یہ ے:۔

”ابی دَوَاء مُجَرّبٌ۔_ آری قوْمًا جلالا و قَومَا احَرِیْنَ جَمَالا و

یھ .7 2۶٤‏ دہ صہ رر رقشقھ بِيْدِیٌ حَرْبَة ابیْةُ بھُا عَادَاتِ الظلم والذنوْب و فِی الاخری شزبة اعِیْد

بهَا حَيَاة الْقْلْبِ فَاسٌ لِلَافَاء و انَقَاس لَِاخْیاء“ ( خطبرا ہا مہ روعا می خز ان جلد ٦ص‏ خ۱٦۸٢٥)‏

)۱٠ے(‎

تھ جمہ:۔ میرک دعا ایک جرب دوا ہے۔ می ایک قو مکو اپنا جلال دکھاتا نہوں اور دوس ری تو مکو مال دکھا نا ہوں ۔ ادرمیرے ایک پت یس ایک تار ہے جس کےس ت حم او رگنا ہی عادنو کو پلا گکرتا ہوں۔ اور دوسرے پاتھ یل ایک ریت سے جس سے میں دلو ںکودوبارہ زند ہکرت ہوں گو یا ای ککاپاڑ کی ف اکر نے کے لے ہے۔اودوم زن وک نے ان ھت

ایے دی دکدڑے بز ران ام تک یت ربروں ےبھی ؟بیں لے ہیں جوسب دراصسل حفرہیں می صطفی صکی اطل علیہ لم ک ےٹیل او رآ پ کے الال کےطور پان صفات سے متصف کے جاتے ہیں ۔ ما حضرت سی رعبدالتقادر جیا فی رحمت لن دعلیغ مات ہیں:-

ان ےئ لف الانامبلخطیٰ

(فےح الغیب ازسیرعبرالقادر جیلا نی برحاش تچ الاسرار ومعرن ا(انوار از ورالد نی ئن کی بن بین ی۲۲۴ مل ممر)

ا کات جحمہ مر ےک می مشرق ومغرب میں ہ رتخد اتا یکی ملک تکاما تک ہوں اوراگر میں چا ہوں تو خلقٍ خداکوایک بج ینمی ف ککردوں _

مولوی صاحب !اب 6 مآ پکا عنوا نآ پ پر بی ال اکر و چھتے ہی ںک کیا حضرت سیرعبدالنقادر جیلای رحم الد علیہ یھی اوریحیت خے با۹ ں 0 کوچ ہیں ف کرد یج کہاگ چا ہی تسار یتو قکودی فزکردیں-

مولوکی صاحب !رسب دوعا لی احیاء+وافحاء سے جو ب: رگان امم تک وحم رمحطلیْ مکی علیہ یل مکی خلائی یس عطا ہوا لیک نال اس کےک ہم ا پن کٹ مکی 1 خر سآپ سے دو ٹوک سوال ىہ ےک برا ہرم میں فا ینک آپ کے نام الاولیاء

)۰۸( 7 ین مولوی رشیداح مکگنگوسی کے تحلق ان کےخلیضہ ہرطخ موا نا مود !ضاضظ ےج ہوا ےک ے مرووں کو زندہ کیاء زنوں کو نے ئن دا اں سال کورگھیں زری این سمھمم (مرئیصخ٣۳‏ ۔ئع بلا لی سا ڈعور شع اہال ) مولا نا!اگمر بہمردے روعا بی جع نکوزند ہک امیا حخرت مرز اصاحب پآ پکا انمت شی ہے اوراس پا تکا نکی وت 20 یکرت تچھوے یسفن بدا 2 ہیں۔اوراگر بی جسمالی مردے تاور مول نا رشیداح مگوہی نے انی ںقیروں میں سے بال کر دوپارہ اع کےگھروں میس گے دبا تھا نو برا ہکرم ان مردو ںکی جو زندہ سے گے ایک کلک ۱ می ار ا صاحب پ جو اٹیل فر دترم عائ دک یں آپ کے اپ ےگھ رکا متلہ ہے ہم اس می نل تی د نے ۔ ہا جاتے جاتے بی ایک فہرست ا نقبررسیدہ زندو نکچ یناد میں جن نکو مرن ےکی دماگیا

و

)٦٠۹(

نہ

مولوبی صاحب نےجطخرت مرزاصاحب کےالہام انت اِسْسمیٰ لغ یکولڑٹور افڑاش رلیوت

قا ری کرام !اعم کےسعی نام اورعفت کے ہوتے ہیں اور مرزا صاحب انمان ہیں۔انسا نک وی اورموصوف ن کہا چا سکتا سے ۔احم اورعف تی ںکہا جا سکا۔ یں اس الہام می سکوکی لفظ بطورمضاف حخذوف مانتا پڑ ےگا جھی اک یع ری ز بان یش مضاف اکر عزف ہو جا تا ہے۔ میں یہاں پر آنت اور سی کے ورمیان مظ رکا لفنا اور ضا ف حز وف ے۔ چنا نی حخرت مرز اصاحب نے خوداس الما مکا یھ جح کیاے۔

”تو میرے اسم اط یکا مظہر ےشن پریت تج کوخا ہکا“

(ترماقی القلوب روعانی نز ای جمد ۱۵ )۳٣۵‏

اس الہام یس بین ق رن بمیدکی ا سآ یت کامضمون میا نگردیاگیا ے کَمَبَ الله تن انساوَ زسلی (البادلہ:٢٢‏ )کہ غدانےلکحھکھوڑ ا ےکہادڈداوراس کے رسول ہی ذاللبر ہیں گے ۔گو با ہررسول خدا کے اسم ا یکا مظبرہوتا ہے۔

یں دک سے حضرت مرزاصاح بکااناکیا ہوا تر جمہقا مین سے پچھپا ناک در ہے کیا بےاد لی ہےاوراپناىنایا ہوا جم یمر زاصاح بک رف ملسو بکر گی ہدیا ے-

جلو مل

)٢۱١(

دارالنیات

مولوی ابوال یر صاحب نے حظضرت مرزا صاح بک در ذیل عپار تکو قالٍ اعتزاش ٹر اردیاے:۔ اپ نوا خدانے میری وگی اورمی ری یتلیم اورمیری بیع تکوو حک یکشی راردیا اورقمام انمافوں کے لے مدانجا تترایا ہج سکی کہ کیکھیں ہوں کے اور شس کے کان ہوں ۓ“_ (ارخنبرم) مز مقا رین ! حضرت مرزا صاح بک مکودہ پا اکنا بکا پورا اقتبال ہے ے۔ نات نچک مر ینعم ام بھی سے او رن یببھی او رش رات کےضروریی اکا مکی تج ید ےاس لئ خدا ای نے مب ری ینمی مکواوراس وگ یکوجومرے پر ہوٹی سے لیک لین یش ف0 سے موس و مکیا یی ا کہ ایک الہام ال یکی یبارت ے وَاضْنَع القُكَ بَا وَوَخینا إِنّ الِّیَْيَابِعونَك انم باون الله اللہ قزق آیدزھم مینی ا الیم اورقبر یی یکو مار ی1 عھموں کےسا نے اور ہمارگی گی ے بنا۔ جولوگ تچھ سے بیعم تکرتے ہیں دہ دا سے بیج کر تے ہیں۔ بد اکا اھ ہے جوان کے پاقھوں پر ہے۔اب دیھوخدانے می رگا وی اور می ری تھایم اورمیربی بیع تکونو نکش تراردیا اورقمام انماوں کے لئے ا سکو دانجاتتجرایا 7002 میں نیرسن سکع کون تم (اراتا نف مہ ۔روحا بی خز انی ۔جلدے ا۔م ے۴۳۵ حا شی )

ر40

اس اقتقباس میں ححضرت مرزاصاحب نے بڑ کی وضاحت سیف مایا ےک ہپ کیتعلیم شربعت کے اجک مکی تید ید کےسوا نس اور بی ش لی تشم ہی باحٹ غجات سے جی ماک ہآ سے :۶۹ ا بآ سان کے نے فقط ایک بی نی اورایک و کاب سے ںشنی حضرت مم می رن لم جوا یی وا حفلبن یں نےاوزائ دک نیپ توین سے اور نام الاخمیاءاو تم رالنااس میں نج نکی پروی سے خدراۓ تھا لی متا سے اور ظا ی بردے انت یں اور ای چہان بیس بگی خجات کےا نار نمایاں ہے ہیں ۔اورش رآ ن ریف جھ بی اورکائل ہدانتوں اورتا یروں شفل ےجس سے ذ رہ سے جال ی علوم اور معارف عاصل ہوتے ہیں اور بشر یآ لوڑیوں سے ول اک ہوتا سے اور انسمااع جٹل اورغفلت او رجات کے جتابوں سےمجات پ اکر معن این کے متام کک جا تا سے“ (برائین اج بی ہر چا رصع ۔روعا لی خمزائی جلدا نے ۵۵۸۰۵۵۔حا شی درحاشیْم۳) مدکی متپودکی آ مکی اخرائض میس سے ایک بی خی بیچھ یع یک دوش یع محر یہ کی اص پرام تکوقاخ مک ےگا اور ا لکیتجد رک ےگا پگ ش ربدت مرکا مردانشمم ددی ہھگا۔اس لے جب دوش ربدت مج ہکی اص ل صور تکون لک کےکپتا ےک اس پیش لکر وت جات پا جا گےنذ ریم ودک اس پر شود ماتے ہیں۔ مولوی صاحب ز راوا 2 کر یں شرد وی مصییب تھی او رکونسا طوفان تھا جس 0ر( رر ال ا ا 01ا 1

دن ا7 کا زانہ سے ھا چاتا نام

جج ارز ہے این خر الد ری تا کیا

رھگ کس نے مد بتتیق میں خاہر ہوتے ور می ہے اڑنے میں خلا کیا سے 0 گگٰوٰى9و 9" اور ا٠ی‏ سکم ولوگی ابوا فو اب ٹورائسنن خان صاحب چو دجو میں صد یک 27 ٹن مڑ ےکر بناک اننظار می سکیامسی طوغان می سپچیکنے وا ن ےکی راو در سے تے با لوان ےبحجات دلا نے وا ل ےگ ؟ اوراندازےلگار سے تےکہ فظہورمہد یکا شرد تی ہو کی دیپ ہوناجا نے تھاسگر بیصدی پور یگزر گئی تو مبدری نے ۔اب چودہو بی دی ہمارےص رب رآ گی ہے۔ اس صدی سے ا سکاب کےککھکک ہچ ماوگمز ر کے ہیں ۔ شا یداد تھا لی ابنان‌ل وعدل ورک وک رم فرمائے ۔ جچارہ چھ ہرس کے اندرمہدیی ظا ہرہ٭جادیل“۔ (اقتر اب الماعۃ ٣‏ ے۱٢٣‏ رمع مغیرعا مآ گر ٥۔۱‏ ٭۱۳بھ ) مولانا!آ پکوشاید یھی سکہ ی ہز رٗ پ گی کے ڑےلیٹرروں بی سے تے۔ اب و یکیے اب ل شع کی حال تک ممھینموں ےضجات دلا نے وا ن ےکا اخطا رکر تے کرت ےمس رح اپنی وکا و ٹ کا ا ہا رک تے ہیں می نکی امید می ہی کہ دہ ت ےگا اور ضرور ا ایوہ اس کےآ ن ےکی خی رچوں کے سردا عفر شف صلی اویل علیہ ٹم نے دینھی۔ ناخ شیع عا لم جناب اث فدرابفاریککھتے ہیں:- اب انظظار کرتے ہوۓ مک ہے پں مم

ڑعلغۓ ے سام و۹ادۂ آیے ا تک کے کے ے ‏ غنظر ہیں ی۰زادار آےے

( معارف اسلام۔صاحب الز ما نکر مخ )۳٣‏

)١٣١(

مو نا! یٹ چند ای ہیں جآ پکوا ساس دلانے کے لے یی کی ہیں ورنہ اد وہ دن لہ کتے سے ہے سب ارکان دی ہی موڑ ىٌّ بب طجده ممؤجا آادء 7 لو کون تھا جس کو نہ تھا اس آنے والے سے پیار ایک ددوقت کرد ین لی اوڈرعلیہ ول مکا مکھانے وانے ا سےمصیبنوں سے عبات دلانے والے کے شنظر تھ اور ایک بدوفت ےکہ ب ےعرفاان لوگ جن کے سا سے تٹر یم رص فی صلی ادط علیہ ول کی پا کتعلیم صل او تی صورت میں شی کا جائے تادہ ضجات پایں نوہ اے نالطاورقالِ اتا ق ارد ےکر تصرف یک رات ہیں بلنہ کو کرت ہی ںکہ پا ک عیشت اورسعادت مندمسلما نچھی اس ےھ روشم مر ہیں۔ مولوٹی صاحب ! یم ہضرت مرزاصاحب کے اس اعلا نکی رفآ پکونوچ دلانا ضروری یھت میں جس می ںآ پ نے فرایا:۔ ”ىہ از و٘ھن اسی خوش کے لے کی ایا سے ارہ پنیا حا اقرکو بچچادے کردا کے اہب موجودہ یل سے وہ نرہ ب کن بر اورخداتا ‏ یکی مرشی کے موا ے جوق رآ نکریم لایا ے اوردارتجات میس داشل ہونے کے لے وروازہ لا الیدالا اش رسول اش ے“۔ ( یت“ الاسلام ۔روعا لی خم:ائی جلد٦۔‏ ح۵۳۰۵۳) زفرمایا: ”نیس لین رکتتا ہو ںکہ چوصبراورصدق دل سے مہرے ےآ نا سے وہ بلاک کیا جاد ےگا بل دداس زن گی سےحصہ گج وی فا نہیں“ مولوکی صاحب ! نظضرت مرزاصاحب نے نے ہہ بی وضاحت فر ماکی ےک اصل

)٢٢(

او نیقی ضجبات موقوف ہے لا الہ الا اڈ شر رسول اللہ پر او رشتقی اوراص لئ ہیں سد ولآ ومء شھہنشاءکون ومکان, نام الانمیا ‏ حضرتتشرمحصطلفی صلی ال علیہ ولم ۔نیان بنا می ںکہمولانا رشیداجمککوہی صاحب کے ا شی دشوکی می ہار ےآ تا ومولی حضرت مھ فی صکی الد لی لم کے لے تک اھ یں:۔ ”سن لوق ددی ہے جورشید اجکی زبان سے اتا ہے اورشس متا ہو ںکہ میس و ہدابیت جات موقوف سے میرے اتا“ کر الرشیدجل د٣‏ ٣ؤ‏ ء١)‏

91

)١۵(

میں خغراۓ وفت ہوں

مولوبی ابوال مشیر صاحب نے دواغزاء با ند سے کے لئ حظضرت مرزاصاحب کے ایک بیکش فکودو وف اہج مفت ریا نک رکا 1.20 ےت اب ائن پور اکشٹ تر کیا اور دوسرکی عرتبرا یکشن کا ایک حصہ۔اورنوان بہلگائے یل : نمی خداہوں“ ‏ نیس خالق ہوں'“ جم سکلف پرمولوبی صاحب نے این مفتر با نہنوان لا ہیں دہ بے :- ”نمس نے اپنے ای ککشف میں د یک اک میس خودغداہہوں اور بی نکیا وی

آ سن اورنخی زین جات ے ہیں۔سو میس نے پپیلے سمان اور ز شی نکواجما ی صورت میں پیدامیاء جس می لکوئی تیب اورتفربقی ننھی پچھ رس نے خطاءنتن کے موافی ا سکی تر جیب وف رب کی اور میس دیکات اہ میں اس ک ےئل پہقادر نہوں۔ پچ رمیں نے1 سمالن دٹیاکو پیر اکیااو کہا انا رت الم تن بمصابیٔح پھر ت کہا اب ؟ ‏ انسا نکی کےخلاصہ سے پید اکم بی گے پھر ری عالل تکشنف ے الہا مکی طرفشعفل ہوکئی اورمیریی زبان بے چاریی ہوا۔ اَرڈث ا اَمَْخْلف فَعَلَفہُ ادَم انا خَلقَنَا الإْنْسَانَ فِی اَحْسَنِ تَغْریٔم ۔ با ہامات ٹیں جو ایل تھا یکی طرف سے مب ری ضبدت میرے پر ظا ہر

)١١(

(کتاب الب ریہ روھال نز ائی جل۱۳۔ )۱۰٠۵۲۱۰۳‏

قا ری نکرام! مولوکی صاحب نے اپنے افرا مک پکااورمخبوط بنانے کے لے اس کش فک خو بکتر بین کی ہے ۔کشی حالت کے بیان میس ووفقرات جن سےآ پ کا دا تی می تو ہون لیکن راتا لی سےمحد دوجودہون ثابت ہوتا سے وو مولوی صاحب نے عزفے/ردۓ ہیں _خ]

”اللہ تھا یکی روح بجھ رمیط ہوگئی او می ر ےشمم برمستولی ہوکراے وچود

یش یھے پپہا ںکرلیا“۔ ےرپ نے جھےکللا اوزازیاکزاک زی پا لکل اس می ٹو ہیا ”ال تھا لی نے میرے سب اعضاءاہی ےکا م یں لگا ۓے اور اس زور سے اپے فی کر یراس سے زادگ نکئیں'۔ وغیرہ

مولوی صاحب نے مڑکی ہوشیادی سے بیففرات لکال د یئ ہیں ۔کیوکمہ ان سے نت یما ےکم رزاصاحب خد انیل بلہ حا مکشنف میں خداتقال یک یکائل گی آپ پ نازل ہوئی ے۔ چوک اس پرکوئی اعترا می اٹھتا تھا سی لے مولوبی صاحب میس ےکا لئے ہوئے ییہاں عنواان ىہ با دح دی ےک نشیس دا ہو“ اور یس خالق ہوں“ گویا خود رت مرزاصاح ب کارب ذگوکی ےکآ پ غدااورغالقی تے-

ہا ں کک خداہہونے اورخرائی کے دنو ںکاملقی ہے ب مرش صفات میں حضرت ستراقروعلاؤ کرت تل و از حرط کے کی کےا ان کے دای کے دعوو لکوھی در نک رآ ے ہیں۔ رید مز رگن سلف کے ا لے دکووں کے ورک یہاں ندال ضرورت نٹ یکیونک میں معلوم ےک جب اور٠و‏ یہت کے عا حم میں اسیے پاک اور با خدا انان ابیےاأھرے لگاتے ہیں اور یم ہدیا جا نے ہی کہا سیشے مز رگان

)١ے(‎

ارت الات کرت کت :ان کن کے وا زا ناشن نے ا زگ لن تما کےلوک ےمان وہ یہ مولوکی صاحب سب طفالنی جات ہو ۓے بھی بے ہا کیا سے زی لآ تے اس لے ندم بب رگان امت کے تخل بهرچ رہ کئے دتنے ہیں چنا یر نضرت اوائسن فرقا نے اعلا نگیا:۔

نہیں خداۓ وت ہوں'_ (تجزکرة الا ولیاءازخواجرفریداللد ین عطار۔اردوتر جمہ پرد ٹس لکش رعنایت الڈدائج اے۔ ناشراان ملک د مین شھراییڑسفز اشاعت منزل لا ہور) رت باب بد بسطا نے فرمایا:۔ ”مُبْحَانیٰ ما اَظُمْ شَانِی“ میجشنی میں انچہاکی بلندشمان وا لا خدا ۓ سان ہوں ! 5 ”لاإِله ال انا فعْيْدرِیٰ“ کی سکوکی معودسواۓ می رے یتس می کی عبادر تکرو- (فوائنرفر ید پیا زخواد لام فر ید من سے ۔اردوتر جمازنقی رشن شا:جما ی۔پاراول ) تسین بن منصور ے 1ین ن ےک ایز فو قم ہو ن ےکا وو کرت سے؟ تو خر ت مین نے فر ما یکہاغسوں ہےتجھ یر و نے می رکی قد مک دگی۔ بیس فو دا یکیادنوگی کرت ہوں نو شر یکا دیوٹ یکنا ےن (فو ان فی با زخو اج فلا فر ید مخ ۹ ے۔اردوت جم ازٹقی ری شاہ جا ی پاراول ) جہاں کک نی ز ین اور ت ۓآ سا نکینخلی اکن ہے ریم ولوی صاح بک عددرج کی بدد ہا ےک حخرت مرزاصاحب نے جب ان سکشن فکیاتح یرف ماد ینھی نو انی زیادہ سےزیادہ تق حاصل تھاکہد وی رنہ مات اوداس پراعتزا‌ کرد ہین لی نجیر ےصرف

(٢۸) نظ کرت ہوۓ صاح بکشف پراعت راخ کرد ینااوراس کےکش فکوظاہ ریو لکر نان کوئی‎ اف کن‎ رت مرزاصاحب نے ا لکش فک امیر بماا ن۷ تے ہو نے فرمایاے:-‎

و و یج و ہہ مم ا سو ہا وپ ھی کے ”ان ھَذا الخلق الٰذِیٰ رَايتة اِشارٰة إلی تائیْداتِ سَمَاویة وَارْضیْة“

( الات اسلام ۔روعا ی زان جلد۵ ٣‏ ۵۷۷) کہ بیز مین وآ ما نکی جیق میں نے خواب میں وشھی نو اس اعرکی طرف اشارہ ےکآ سال اور زی تا ارات میہرے ساتھھ ہو ںگی- رر مایا: خدانے اراد ٥ک‏ یاکدد ہنی ز من اور نیا آ مان بنادے۔د ہکیاے نیا آ سمان؟ اورکیا ےن ز لن؟ خی ز ین دہ پاک دل ہیں جن نکوخدا این پاتھ سے جیا کر ہا سے جوغدا سے ظاہرہوۓ اورخدراان سے ظاہ رہوگا۔اور نا آ سمان دونشثان ہیں جواس کے بننردے کے پاتھ سے ای کے اذ نع سے ظا ہرمور سے ہیں“ دوب ۔روعا نی خزائی جلد۹ا خے) ا یکی وضاصتثکر تے ہو فرمایا:۔ نہ رای ک نیم الشان سکع کے وقت میں روعانی طور پہ نیا 1 سان اور ز جن وائی جائی سے“ (حتۃالوڑی ۔روعا لی نز ائن جل د٢٢‏ حاش“۰۲١)‏ پیں ان سکش کک انقی وضاحت کےسا نمی رجوضرت مرزاصاحب ن ےک ے۔ کیاال سے بدا نیس ہو اک ہپ کےا سکش کا وج ےآ پ پر غخداادرخالقی ہو ےکا انرام لگا نے واائشف کوٹ یسفن بردازنھی ہے۔ ۶ لن

)١۱۹(

اکر حقہاسلا می

مولوبی ابوال شی ۶را ی صاحب نے رت مرزاصاحب کے چپی ںکردوعظا مد اور تقا لیکو بد اع سے پاع لق اردیا ہے اورکلھا ےک ہگو ہا آپ نے” عق تد الہ ایا کر کے دوگ لکھلا ت ےک الا مان وا ینا '_ مزا رنین احخرت مرزاصاحب نے جوعقا کر اوٹسلیم یٹ فرماکی ود ےکہ:- ہمارے ن مہ بکا خلاصہاوراب لپاب ہے ےک لا الہ الا اش رسول الل-۔ ہعاراا ناد جھ ماس دنیوگی زن گی میں رتے ہیں جنس کے۔ اتب بل ون بی ای تھاٹی ا عا مگمز ران کو کر میں کے بی ےک نحقرت سی نا ومو لا نا مھ مصطلی صلی ال علیہ رم خاتم این وخی را رین ہیں جن کے پاتحد سے انی دن ہو چکا اور وولھنمت بھرعبہ اتا م کچ یئ جن کے رجہ سے النسمالن راہ راس کو ایارک کے ند اتھال یکپ سا ے۔ (ازالہادہام ۔روعای خزائی ۔جل ٣۔٣‏ ۰:۱۹۹ء١)‏ مہب اود برق لد مولوگی صاحب کے نے دیک ال ہیں اے گمکنفرامیں بود نر اخ تکافرم ۔ جع لوک یقن رت ہی ںکخداتعالی مو جود ہے اوراا سکیا تی برایمان لا نا سب سے پٹ گی صداقتکا اق ارکرنا سے نہک دہ وا نک اجاا- ٢‏ چم لیقین رکھتت ہی ںکہاو تھا ی ایک ہے ا کاکوکی ش ری کنہیں نز مین یس نہآ سمان میس ٠اس‏ کےسواباٹی سب پگ لوق سے اور ہ رآ ن ا سکیا امداداور

)٢۳١(

ہارے یتاج سے نہ ان کاکوکی بنا ہے نہ با نہ اپ نہ ملا ء نہ یدگ ء نہ پھاٹی دہ انی حیداورتفر یش اکیلا ہے۔

۳۔ چم لیقین رت ہی سک ہا تھا یک ذات پاک ہے اورتھام عیوب سے من دہے اورقھا مخ بیو ںکی جائ ہے ۔کوکی عی ب کی جواس ٹیس پایا جاتا ہواور کوئی غو یی جواس میں پائی ندجائی ہو۔ ا کی قدرت لا اتاء ےہ ا سکاعلم خی رمحدددہ اس نے ہرایک تت ےکا احاط کیا ے او رکوکی چیزکجیس جوا کا احا طکر کے وداول ہے وہ1 خر ہے دہ ھا ہرہےہ دہ پان ے٤‏ دو ال ےمم کا تجات کااور ما لک ےک لخلوقا تکا۔ ا کا تضرف ندبھی پیل باطل ہوا ناب پاٹل سے تہ تحدہ ال ہوگا دہ زمرہ ہے اس نمی مو ت نیہ دہ قائم ہے اس بنیھی زوا لگیں۔اس کے تھا مکام ارادے سے ہو تے ہیں شک ہاضط را رکی طور پاب بھی دو ای رع داب رحلوصتتکرر ہا سے جس طر کک دہ پی رتا تھاء ال کی صفات سی وق بھی مع ل نہیں ہویں دہ ہروقت ا نیف رت نما یکر اے۔

۴ چم یقین رھت ہیں ملاککہاللدتھال یک ای لوق ٍں اوريَفْعَلُوْنَ مَا ممزنَ (ائمل:ے٦)‏ کے مصداق ہیں۔ا سک یحم تکا 220 کےکاموں کے لے پیداکیاے وہ داع یں موجود ہیں ا نکا کر استیار یں ہے اوردہ خداتھالی کے ائی طرں اج ہیں جن طر کہ انسان یا دم رفلوقات ء ال تھا لی انی قدرت کے انہار کے لے ا نکاعختا نی ۔ دہ اگ چا بنا تذ بیران کو پیر ار نے کے انی می ظا ہرکرتا مگرائ سکی حکحم کا ملہ نے ا لو کو پیرا کرناچاپا اور وہ وا یکن ظط حرج ا رت مال نر تد کت پیٹ کہم رنے سے دنا ی سور اور ردئیٰ انا ج نیس ہو جات اسی رح لالہ کے ذر لہ سے اپ ےن ارادوں کے

)٢٢۱(

اظہارسے دد لامک کاختا خ کیل ہوچاتا_

۵۔ پهملیقین رھت ہی ںکفدااپنے بندوں سےکلا مکرتا ہے ا دراپٹی مرش ان ہا ہرکرتا سے ب یکلام اص الفاظ مس نا زل ہہوتا ہے اورااس کے ز ول ٹیل بنرے کاکوئی و لیس بہوتا نہ ا س کا مطلب بن ےکا سوا ہوا ہوتا سے ناس کے الفاظ بنرے کے بجوبز کے بہوئے ہو تے ہیں .مین بھی اللہ تنا یکی طرف سآ تے ہیں اورالغا گی اس کی طرف سے۔ ود یکلام انسا نکی گی دا ہے ا ورای سے انان ز٥ر‏ ناے اودرایی کے ذ رجہ سے ا سے ال ای ملق پیدا ہوتا -٦‏ دوکلام اتیقوت اورشوکت مل ےل ہوتا ہےاور ا سکی متا لکوکی بند ہیں ااسکا۔ و وعلوم کے بیشا رشمزانے اپنے سا لانا ہے اود رای ککا نکی ط رح ہوتا سے جے جس قد رکھودواسی قرراس میں سےئتی جواہرات لیے ےآ تے ہیں بللہ کاوں سےگھی مڑ کر ۔کیوکلہ ان کے نز نے ضم ہو جاتے ہی گرا کلام کے معار ف شخ نیس ہہوتے ۔ یلام ایک سمند ری ضر ہوا ہے نٹ سک ما رت نا رتا سے اور سکی ح برمو می می ہد ہدوت ہیں۔ جواس کے ظا ہ رین رکرتا ہے اس کی خوش ب کی ہہک سے اپینے دماح کو معطر پا جا سے اور جو اس کے اند رو طہ گا نا ہے دوا مم وعرفان سے مالا مال ہو جا تا ہے۔

بکلا کیک مکا ہوتا ےبھی احکام وشر اع بقل ہوا ےئھی مواعظا ونصا ا 7 اں ےذرسۓے سےملمغیب کے درواز ےکھو نے چاتے ہیں اوریھیعلم روعای کے د لیے ظاہ رس جاتے میں بھی اس کے ذر بیج سے اللتا لی اپے بنرے پرا نی خوشفود یکا اظما رکرتا ہے اوریگی ا نین پیند مگ یکاعم دبا سے ۔کھھی پیاراودیب تک بافوں سے اس کے و لکوخش لکرتا ہے اودیی ہے و رہ اس کے ف ضکی طرف مو رکرتا ےبھی اخلاقی ذاضلہ کے با ریک را زکھوتتا ے

)۳٢٢۲(

کبھیئی بد یی ںپاعلمداے۔

خر جم ابیمان رھت ہی ں۲ غدا ا بنروں سےکلا مکرتا ے اور و ہگلام خلف عالات اورخلف انمانوں کے مطا بن مخلف مرارن کا ہوتا ے او رخلف صورنوں میں نازل ہوتا سے اورقما مکلامموں سے جو ال تھا ی نے اچیے بندوں َ 9‏ 6 "ٔ۰" ہوئی سے اور جو ہرایت دی اگئی ہے وہ پییشہ کے لے سے وی آ مد ہکلم ا سے مور گی ںکر ہےگا۔

ای طرع ہم لقن رکھت ہی ںکہ جب بھ ابی دن تار کی س ےگ ری ہے اورلئگ شس وٹو رمیس بنا ہو گے ہیں اورجلا آ سا بی مد کے شحیطان کے بے سے ر کی پان کے لے مضکل ہوکیا ے اود لی انی شذق تکاملہاددرمم بے اندازہ ۰ ئ۶۷۷ " رہخمائی کے لکار سے ۔جیمامردفرماتاسے و ان سن أمَة ال عَلاَ ھا یر (سور قفا لر:۲۵) مت کوک و میں ےجنس میس ہما ری طرف سے انا چنا ہواددیہ بندےاپنے پاکیزجشل اور بے عیب ریہ سے لگوں 2 راو نے ر سے ہیں اوران کے ذر لج سے وہ انی ھی سے دن یاکوآ گا دکرتار ہا ہے ججن لوگکوں نے ان سے منہموڑ اوہ لاک تکوسو فنے گے او رجنپوں نے ان سے پیا رکیادہ خداکے پیارے ہو گے اود کول کے ددوازے ان کے لے کھو نے گے اور او تال کی مکی ان پہ نا زل ہہونٗیں اور اپنے سے بح روآ نے والوں کے لئ ووسردا رمخرر ۓ گے اوردونوں چچہانو ںکی بنتری ان کے لے مقر ریگئی۔

اورہم بیگھی یقن رت ہی ںکہ بیدا کے فرستادے جو دن اکو بر یکینکت سے

)٢٣۳(

ٹا لکن یکی رش کی طرف لات ر سے میں ملف مدارج اورخخلف متقامات پہ ائز تھے اوران سب کے سردا رت مصفی صلی اوندحعلیر وسلم تھے ج نکوادڈ تما لی نے سیدولدآ دم قراردبااد رکافة لسلناس جو تفر مایا۔اورتنن برا نے ا علو مکا مل ظا ہر سے اور نکی اس نے اس رعب وشوکت سے مددٹ یک پڑے بڑے جابہ بادشادان کے نا مکی نکرتھراا ھت تھے اورجن کے لے اس نے تمام زم نک سد رنادیا کہ چیہ یذ من پا نکیا امت نے خداۓ وعد ہاش یک کے لے حجد دکیااورز شن عدل وانصاف سے بلرگئی۔ بعداس ک ےک ددملم وچور سےبھری ہہوئ یٹھی اور جم لین رکھت ہی ںک اگ پل اخیا بھی اس کال کے وت میس ہوتے یں ال سکی اطاعت کےسواکوکی جار ہ نہ ہوتا جلی اک اڈ تال ا٤ے‏ وَإِذ اَخَذً ال بيْمَاق السیَیْن لم اَيْتكُم مَنْ کاب و جکمَةثمٌ جَاءَ ٹم رَسُلْ مُصَدَق لِما مَعَکم ومن به وَلَسْضرنَه 70 لی عمران:۸۲)او ری اک یق یی ارلرعلی یلم نےفر مایا ےکہ لو کان ُؤسی و عِیٔسیٰ حخَْي لا وَِعَفمَا ال بای '(تفیرای نیرز رآ یت آ لگر۱ان۸۱) اکر می اور ز نرہ ہوتے و انی بھی مبربی اطاعحعت کے سوا

کوک چار+دتھا۔

و- پهم بیچھی لیقین رت ہی ںکہاللدتھا لی اپینے بندو ںکی دعاو ںکوستا ے اورا نکی مشکلا تکوٹا تا سے دہ ایک زم و دا ےج کی ز دک یکوانسان ہرذ مانے یش اور ہروف تنسو ںکرتا ہے ۔ ا ںکی مال اس مز یکی ہیں ج ےکنواں بنانے والا بناتا ے اور جب و وکنواںگمل ہو چاتا ےو سی کون ڑ ڈا ما کاب وہ کسی مصر فکی نیس رہی او رکام میں حارج ہہوگی ۔ بکہ ا کی مال اس نو رکی ےک جس کے بضیرسب لوان عیراہے اوراس دو ںکیا ہے جس کے خی رچاروں

)۳٢٣(

طرف موت بی موت ہے۔ اس کے وچجووو بندوں ے جدا/ردونو وہ ای کشم م بے ان دہ جاتے ہیں بی لکرائل نےبگی دا کو پیداکیا اوراب دوخ مو ہو کر یٹ ھگیا سے بللہ وہ ہر وشت اچۓ بٹثروں 0 2 ے اور ان کے ھزواکسمار رنج ہکرتا ے اوراگر وہ ا سے بھول جانیں نو دہ خوداپناوجود انل یاد دلاتا ہے اوراپنے خاصی پیام رسافوں کے ذر بے ا نکو بتاتا ےہ اِلَیْ قَِیْبٌ ایب دَغوٰۃً الداع اِذَا دَعَان فَلیْسْعَجِیْبُوْا لِیٗ وَلَیومنَوْا بیْ لَعلَهْمْ افو 2 ھ77 ا ت2ت ات ات ال کا جب وہ کے پپارتا ہے تا بہوں ۔ یں جات ےکددہ می رکی با تق کو ما نیل اور بھھ پر مان لائمیں تاکہ ہریت پاتیں۔

۸۔ نم بیچھی لیقین رکھتے ہی ںکہاللد تھا لی انی اص الناص نز ہکود اش جار یکرتا رتا ے۔حصرف مچی تقافون فقدرت ال لک رف سے جار ینیل جو شی قا نو نکہلاتا ہے بکراس کے علادہ ا سک ایک اص نف میجھی جاربی ہے جس کے ذر اج سے وو اپ یاقوت اورشوک ت کا انا رکرتا ے اوراٹی قد رت کا پت دیا ہے دی قدرت ےج کان نادان اپن یگ مھ کی وجہ سے الکارکرد نے ہیں اورسواۓطبئی اون کے اورکسی تقائون کے وجو دک لی ہی ںکرتے اور سے اون فذرت کک ہیں عالائکہ ووشیئی تقانون کہا لکنا ےگ را نون قر رت ٹھیں۔کپا سا کیوکہ اس کےسوااس کے اوریھی تقا نون میں مجن کے ذ ر تیج سے وہ اپنے پیارو کا مددکرتا ہے اوران کے شمنو ںکوتا ہک رتا ہے۔ ھا اگ ایی ےکوی 5٤‏ ا2 12 اک ضیف ور ا رون جیے جار بادشا ہیر غا ابآ جاتا۔ براپنے تعف کے ہاو جودعردع پا جاتا ادروہ انی طاقت کے پاوجود ہر باد ہو جا تا _ پھ راگ کوگی او رق نو نہیں ن دس طرب ہوسکنا ٹاک سارا عربٹ لک رج رسول اوایکی ادڈرعلی لم یا بھی کے در ہے ہوتا رای تھا یآپ

)۱٢۵(

کن ا ات نا ا ضا کا ا ا نون از قد وسییوںحبیت اس سرز ٢ن‏ پآ پا جچڑتھآ تے جس میں صرف ایک جان شارکی محیت می لآ پپکولگلنا ڑا تھا کیا قانو نکی ابی واقات بی لک رسکنا ے؟ ہرگز تھیں۔دو ا نون نے کییں بی بنا نا ےکہ ہرا دی طاقت ایل طافت کے متا ئل پہ قذٹڑ دی جاٹی ےاور ہرکنردرطا تر کے انتھوں سے پلاک ہوتا ے۔

۹- هم اس جات بھی لیقین رت ہی ںکہمرنے کے بعد انان پھراتھایا جا گا اوراس کے اعما لکا اس سے ساب لیا جا ت ۓگا۔ جوا جیئھے اعم لکمر نے وااا ہوگا اس سے کیک سلو کفکیا جا ت ےگا اور جو اتی کے اکا مکو نو ڑ نے والا ہوگا ا سحخت مسزا دی جات ۓگ او کی مھ بی نیس جو انا کو اس بعشت سے پیا کے ۔خواہااس کے مکوہواکے پرنرے با جنگ کے درند ےکھا جا میں ۔خواہ زین ۲ھ کے ذرے ذر ےکوچداکمرد میں اور پچھرا کو دوس ری شکلوں اتب لکرد میں اورخوا ا کی پیا کک ججلادکی جانیں ۔ دہ بھی ا ٹھایا جائۓے گا اور اپنے پی اکر نے والے کے سا اب د ےگا ۔کیوکلہ ا کی قد رت کا ملاس ام رکا ج تی کہا کاپ لاحم بی مو جودہوتب بی دہ ا سکو پیراک سا ہے بسائل بات یہ ہہ ےکردہ اس کے ایک سے ا یک ذد ہا لطیف جصرروں ےبھی پچھ را سکو پیر اک رسکتا سے اور ہوگا بھی اسی ط رح ۔ عم اک ہو جات ہیں ران کے با ریک ذرات فا یں ہوتے اور نوہ روح جوشعم انس لی میں ہوئی ہے خداکے ان کے خی رفا ہ کی ے۔

١۔‏ بھم یقن رکنے ہی ںکالڈدتھاٹی ک ےک راوراس کے مین کےیخاالف گر وہ ا نکواپٹی رجم تکالہ سے گن نددے ایک ای مقام پر ر کے جاتمیں کے جے جم کے ہیں اورنس می سآ گ اور شمد ید سرد یکا عذاب ہوگا ت سی خو ضس نخس یف د یناشہوگی بللہان میں ان لوگو ںکی آ1 مند ہا صلاح ودنظ رہوگی انس بل

)٢٢٦(

سوا دونے اور پیٹئے اوردات پینے کے ان کے لے بن ہوگا تی کددہ دن آ جاۓ جب الد تھا یکا رت ہرز پر غا اب سےا نکوڈ اپ ےار یّساتی

عَلی جَهَتم زَمَان لَیْس فِْھَا اَحَد وَ نَسِیْمُ الصّبا تُحَرَكُ بْوَابَهَا کا وعر:لوراہوجاۓے ۔( نف رمعالمالنقز مل زس رآ یت فاماالز ین شقوا۔عور:ے٠۱)‏ اا۔ اورہھم بیگھی لین رک ہی ںکرددلوک جوادلد تھا لی اوراس کے نیوں اور اس کےفرشتقوں اور کی کابوں پر یمان لانے والے ہیں اوراس کے اجکام پہ جانع ددل سے ایمان لاتے ہیں اوراکسار اور ھا ججز کیاکی راہہول پہ لے ہیں اور بڑے ہوک ریچھوے نے ہیں۔اورامی رہہ وکرغر یو ںک کی زندگی بس کرت ہیں اور ا کی خلو کی دص گار یکر تے ہیں اود اپنے آ رام پر لوگو ںکی راح تکو مقدم رک ہیں اوشلم اورتعدکی اورضیاخت سے پ ہیتزکرتے ہیں اوراخلاقی ذاضلہ کے حائل ہوتے ہیں اور اغلاقی رذ یہ سے تنب رت ہیں وہ لوک ایک اے مقام پر کے جا میں کے نے جن ت کے ہیں اوریس یس راحت اور یچین کے سوا دکداو نکی فک نام ونشا نکک نہ ہوگا ۔ دا تال یکی رضا انسا نکوحاصل ہوگی اور ا لکادیدارا ےنحییب ہوگااوروواس کے لکی چا در می یٹاک را ںکااییا رج اص۹ لک رن گا کیا ان ن کا1 می ہن جا تن ےگا آذرصفانت انال مل َال ورپ رجلو ور ہو ںکی ۔اورال کی سا رگ ادلی خواہشمات ممٹ جا می سکیا اودا کی می خداکی شی ہہوجان ۓگ اورددابدکی زندگی پاکرخداکامطظب یہوج گا _'' و ہے کا بی ہما رے عظا نک ہیں اورتھامآ ۔(دی ن بن )ائی افو ںکوعقا مد (دینبمن ) قرار دینے ےن ہیں کیک نی خففائن ین جوف رآ نکر او زس وا ول العلِ یلم میس بان ہو اورا نی قانک کا پا ند ہون ےکی ٛییں ححضرت مرزاصاحب نےکلیم دی اورک نکی اور یی ووعقا نکد ہیں نہیں بیمولوکی صاحب عقائد باطلہ قر ارد یت ہیں !!

سائی کےگن

مولوی ابوال مشیر صاحب نے نبوت وم ہددجیت کےکھوئنے مدعیا نکی ایک فہرست اپنے پمفلٹ میس شا لکی ہےادرق رآ ہدایت للا مزا الْحق بلاط کیھکراتے ہو ۓے حضرت مرزاصاح بکا نا بھی از راد دچل اس فہرست بی شائ لکیا ہے۔اورا نی بھی تمیں دجالوں والی حد بیث کا مصدراق قر ارد ی ےک یکوش کی ے۔ مز زقا رین اگ شتنصفحات می آ پ نے ملا حظفرما اک ہمولوی ابوالمشیر عفان یکی ہر با وٹ شی اودا سکا ہراعترا پاضل تھا ای طرح ال لکا می پرفریب اوردچل سے جھر پورتملیکھی خوداسی پ الا ہے اوراسے بی تمموٹا ا ب تکرتا سے لو ہیل بج کی بھجا ےکم صرف انس ز ماشہ کے ما مورن اڈ حطرت مرزاصاح بفکی دررج ذ مل دجو تکی طر ف لوجہ 0:7 وو لال و وھ رک سکیا نا نہادبچو ںکافراراوراس وکوت ےکر یز ان کےبجھوکوغا ہنی سک رتا ؟ او رکیا وہ جشگچمونا قراردیا جار ہکان خد اتال کی تا خیرات اورال سک نھ رس اس کے شال عال ہوں ودی اورصرف وی قبو لکر نے کے اگ یں ؟ یا و وقبو لکر نے کے لاک سے جو بظاہ ریا ہونے کے دو ےکر ےگ خدانتا کی تا تید ککیاء ا سکینظروں بھی وو دورہو؟ سو کامقام بیس ےک ہتحخرت رز اصاحب نر مات ہیل :- سے کوگی کاذب ۳ +-ٰٰٔٔ+ٰ ۸ بیرے می جس کی تائریں ہولی ہیں پاد بار فزفریا:۔

()۲٢(

”دا ین پا نی لیکن وہ بے جات نے من نے 22 ہے بوان او ں یی ہے اورسراس رب تی ہ ےکہمریی انی جات ہیں بل وودرشت

ہوں جس سکوماکن کشپیقی نے اپتنے ہاتھ سے لگایا سے اےلوگواتم بیقین نوا ھک میرے سا تد وہ اھ ہے جوا تر وق تکک بجھ سے وفا زی ۓ لان الرگوارۓ وو زفَيا لف رآ اورگرارے ان ارفیارت بوڑ ھے اور تار ے گچھوئے اورتمہمارے یڑ ے سب م لک میرے ا کر نے جیا انکر ان ات کن ےک کرت کی نان او اشن ہو تن من کی انآ کی دا نی کاو نیل رک کات تک دداپ ےکا کو پورا نکر نے۔او راگ رانما وں یس سے ای کبھی میہرے ساتھ نر ہون خداکےفرشت میرے ساتھ ہوں گے او راگ رق موا یکو چا قریب ےک ہپ رمیرے لم ےگوای دہیں۔ لی اپنی جانوں پیلم مس تکرو کاڈ بوں کے رسک ۳ز اررماقن گار ےی مات نر ےلان نان یں اس زندگی برلعنت کھپتا ہوں جوجھوٹ اور اشتزاء کے ساتھ بہو اور نیز الں حعالت گج یکخلوقی سے ڈرکر خالقی کے امرس ےکنار ہش کیا جائے۔ وو غدرمت جوقین وفت پر خداوند فرب نے میرے سیر دی ہےاودائی کے لے بے پیر اکیا سے گنک نیو سک میں اس میں سستیکروں اکر ہآ اب ایک طرف سے اور زین ایک رف سے ہا بحم لک جچلنا چا ہیں ۔انسا نکیا ےحخل ای ککڑرا۔اوریشر کیا ےج ایک مضغہ۔ یی ںکیوگر میں تی وشوم کے ع مک ای کفکیٹرے با نیک مضغہ کے لے مال دوں۔ چس رح خدانے لے مآ مور بین او رکذ بین می ں ایک دن فیصلہکردبا ای طر دہ اس وف بھی فیصلہ/ر ےگا خداکے مرا موربین نے کے لے بھی این من وت عین اور رات کے لے کی اسیک موم ہیں یق اھ وکہمیس نہ بےےم و مآ با ہوں اورنہ بے میم جا ئو لگا۔ خدا سے

)٢۲۹() مت لڑدا تار اکا می ںکہ مھ چاوکردو“۔‎ )۵۰:۲۹ (ھی تگولڑ وہ روعا بی خز انی جلدے ا۔م‎ اور اایا:-‎ شی ںجھ تا الف علاء اوران کے چم خیال لوکو ںکوکہتا ہو ںکگالیاں‎ دینااور بد زبا یٰکرنا رب شرافتنیں ے۔اگ رآ پ لوگو ںکی بی طینت سے‎ خی رآ پکی می سکیا ناگر ےآ پ لو ککا ذب یگنت ہیں پکو نج نو اغقیار‎ ےکہمساجد یل اکیھے ہ کہ یا ا نک الک میرے پر بددعا تی کم میں اور رو روکر‎ میبرااستیصال چا ہیں بچھراگر می ںلکاذب ہو ںگا نے ضروروہ دعاتمیں قبول ہو جانئیں‎ کت پ لوک پیش دعاتی کرت بھی ہیں لین ان ان‎ قدردعاتی کری ںک رذ ہافوں می زم پڑ جانشیں اوراس قد درد روک رچروں میں‎ کن ٍ1 9 ہے کن ضا کی ان اور‎ 4 ٰ. ,ى‎ 899 ہوک مکی پڑنے گے پا لے لیا ہو جاۓ ہب بھی دہ دھاتہیں نیس جا نمی ںکی‎ کک ور ےا یاہوں جع وی ز بین یں م سکتاج بک کآ انا پرنہ‎ اراجاۓ۔ میرک روں میس دی سچئی ہے جوابرا ڈیم علیہ السلا مکود یگئی ھی ۔ جے‎ خداےابرا تی ضبدت سے ۔کوکی می رے بویرکوئیس جا امررمیراخدرا خالف لوگ‎ عبت اپنے نیس نبادکرر سے ہیں۔ میں دہ اپود ایس ہہو ںکہان کے پاتھ سے اکھمر‎ اے خمدا! تاس امت پر یمک ۔آ مین“‎ (ارشتی نئ م٣ روحا می خر ائن جلارے اص ۱ی۲۲ ۳ءم)‎ وما علینا الا البلاغ‎ واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین‎ لر ل‎

)٢٢(

(صرف ا دی احا بکیالیم وز یت کے لئ )

قُل اباللهِ وَاییہ وَرَسُوْلِه نتم تَسْھُرء وْنَ

رسالہرا لہا ئیگرلٹ کے

مم

ازاریی ٢ئ‏

کا

'6323۲1 ۱۹۱:3۲

6۲۴۵۸۲ ل۶٤‎ )٣١ ال۲١0(‎

٥۷۸۸۷۱۷۱ ۸۹850١ 8355٠۲١ ۱۲۲۹١١ ٠۹5١٥٠ )ا١١‎ ۲٥٥٥٢٥٠٥ ]ہ‎ ۱۷۸۵[۱۱۹-ہ-۴م3۱٥۱1-٤-٥۱38۷۷۷۷۸۲۱‎ ١٥ ۸۳۲۱۹١ ۳ص۷٢٣‎ ۹53۲۹۱۷۷۹ ٤9 098٭5ڈاماام‎ 5 اطمہ١‎ ×٥٥ ٣١۹٥٢٢ ٣٣١ نا35“‎ '۱۱۳]۹۲١١ 6٥9317 ٠٤٥ 151518/ ہاد(۳٣‎ ہ٤۶‎ ٣٥۶٢۹٢ ۱۷۸۲۵ ں65‎ ا٥‎ ۸۳۲۱۱۵١۵ آہ‎ 993113٥ 5٤8 ٥٥ ۱۷۸۷۵۶۹۳ 38٥١ .ا۱۸۲‎ ۲٢٣ |ا3ہو‌ںدو٥‎ ں١٥ دا‎ ×۱۲ ۷٢ ء۱٥۵۵‎ 0 0ا‎ ٦٥٥٥0٤ 301 1۴١ ٥٥۲۰۸.12 ۷۵ا9‎ 38٢٢ ٣٢١ ٥١١٢٢ ٤)3 ١ا٥‎ و۲٤۹‎ ١٥ں‎ 08.

۲56 ۱۷۸۵۱۷۱۷۱ 535۱: 63١ "ا)٤٥٥‎ 11۴٤٠۴٥٢ ء۱٥۱٥‎ ١ ۲ہ‎ ۲۶ ۲۲۲۱۱۹۹ ۱۸۵۹۳ ٠٥ ۴۱۷۰م‎ 3 اا١‎ 8٥1 ١ ٦3١ "٥١٥٥٥٥ ان٥١ٴاک‎ ہ٤‎ 3۱| ٦٥٥606 30:1 ہہ‎ ٥٥٢٥٥۷۱۳ ٭ا5‎ ٥٢٥-٥۷ .15۷6ا‎

ا٣‎ )٥١ ۴×۴ہہما‎ 'ںل٥1٥68‎ ۲٥۷۷۰۷۸۷ 31| ٠١ ہامز٭ہااہہ٠‎ ۲31۹8۰١٥ 3811

3۹٥9۷۲۱. 91/۵۲ |۹۷١ ام٥٥‎ ١٦3٥٥٥٥٥١ وةادہاء٭أ1 ۷ا‎ ]]١ ےا1‎ 0 ٢٠٢ ۷۷۸۲۲ ٤٥١ أہ ۲ :۸۷ہ‎ )٥٥۷٥:؟ںنا‎ 3۲0۷۲۰۸۵۴ ۱۲٠٢٢٢٣ ٤)٢١ ۳١٢۷ "0۸ا9‎

8٥٥ 785۰

۲56 ۲٥٥۵٥۵٥٢٢ ٦۲3۷ ہ٥٥٥‎ 301٥85 ۹0٥٥٥ ١٢١۳٣ ۷۷۰۸۰۲۴۲٣۴ 81 6 ]مادہ٥٥‎ )٣٥ ۷ ۵۸۵ ۸ ۷۷ ۰ ٥مەاەوا٭: دا‎ ۷۰ 1٥٥0٤ ]ا‎ 6586831 ا٢‎ ۷ )3١ ١ ١٥×م۲۳٥٥٥١٢ ہہ :٥٢٥٤ا ٭([) أہ‎ ہ٣‎ م٤۲۲‎ ٥ م٥۱٥٥‎ ٢٠٥٥ ٠٠٥ )ا١ ٭اەم‎ ۷۷۷۲ ۷۷۱٣٢ ٤٢١ ۱۸۹۷۱۷ م(۹28‎ 0ہ‎ ١۷٥۲۷ ۷۸۲۹١ ہ٤‎ ٤٢٥٢ ٥586۷۵ ٥١٥٥٠٢٥٢٢٢ ٭'×اہہما‎ ٦٣٢٤٢٣٢ ۷۷۸ ۰ ۷۷ ۰۴۵ 608 ٥ ۲٥١٥۲٢ ٥٥ ٤١8٥ ٥۶٥٥٥۷۷٢3٢ ۰٢١١٢٦ 3٤8٤ںا٥‎ ۲٣٥ا‎ ١٠3٢1۷۷ ٥3٢0١۷ ٢ 3931۱1361۲ ہ٢‎ ۷۷۷۰